bbc.co.uk navigation

ڈومکی خاندان پر حملہ، تحقیقات کمیشن کریگا

آخری وقت اشاعت:  پير 6 فروری 2012 ,‭ 02:38 GMT 07:38 PST

بختیار خان ڈومکی کی اہلیہ اکبر بگٹی کی پوتی تھیں۔

وفاقی حکومت نے کراچی میں پیش آنے والے اس واقعہ کی تحقیقات کے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اس حملے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بلوچستان اسمبلی کے رکن سردار زادہ بختیار خان ڈومکی کی اہلیہ، بیٹی اور ڈرائیور ہلاک ہوئےتھے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق وفاقی حکومت نے ایک ہفتے قبل کراچی کے علاقے گذری میں پیش آنے والے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کافیصلہ کیا جس میں نامعلوم افراد نے رکن بلوچستان اسمبلی سردارزادہ بختیار خان ڈومکی کی گاڑی پرفائرنگ کی تھی اور نتیجے میں انکی اہلیہ ، بیٹی اور ڈرائیور ہلاک ہوئےتھے۔

کوئٹہ میں وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق کمیشن میں بلوچستان اسمبلی کے چار ارکان جن میں صوبائی وزراء میرعلی مدد جتک، اسداللہ بلوچ، زمرک خان اچکزئی اور رکن اسمبلی میر سلیم کھوسہ شامل ہونگے۔

وزارت داخلہ کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق کمیشن کے لیے چاروں نام رکن اسمبلی بختیار خان ڈومکی نے خود تجویز کیے ہیں۔

بقول اعلی عہدیدار کے اس کے علاوہ ریجنل پولیس آفیسر سبی قاضی حسین احمد، اور ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کوئٹہ رحمت اللہ نیازی بلوچستان سے اس کمیشن کی معاونت کریں گے۔

جبکہ صوبہ سندھ سے پانچ پولیس اعلی پولیس آفیسران میرخادم حسین رند، محمد اسلم چوہدری، محمد فاروق ، شیرجیل کھرل اور فرحت بھی کمیشن کاحصہ ہونگے۔تاہم ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ کمیشن کس کی سربراہی میں بنے گی اور کب تک اپنی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کوپیش کرے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔