
کسی ایک ملزم کا بھی وکیل نہیں گیا تو یہ چیز متنازع ہو جائے گی:رحمان ملک
پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے امید ظاہر کی ہے کہ ممبئی حملوں کی مشترکہ تحقیقات کے سلسلے میں پاکستانی وفد دس فروری سے پہلے بھارت روانہ ہوجائے گا۔
اس قانونی ٹیم نے جمعرات کو بھارت پہنچنا تھا تاہم بھارتی وزارتِ داخلہ کے حکام کے مطابق انہیں پاکستانی حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ وفد بھارت نہیں آ سکے گا۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس دورے کے التواء کی کوئی وجوہات بیان نہیں کی ہیں تاہم راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ہونے والے ممبئی حملوں کے مقدمے میں سرکاری وکیل چودھری ذوالفقار کا کہا ہے کہ پاکستان میں قید ایک ملزم کے وکیل کی وفات کی وجہ سے یہ وفد جمعرات کو بھارت نہیں جا سکا۔
ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے الزام میں پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے سابق آپریشنل چیف کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی اور کمانڈر ضرار شاہ سمیت سات ملزمان اس وقت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید ہیں جہاں انسداد دہشت گردی کی عدالت ان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کر رہی ہے۔
یہ وفد سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار اور ملزمان کے وکلاء کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اہلکار اور ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر پر مشتمل ہے۔
چوہدری ذوالفقار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لشکر طیبہ کے سابق آپریشنل چیف ملزم ذکی الرحمان لکھوی کے وکیل کے انتقال کے بعد اب ان کے نئے وکیل نے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔
نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی سماعت سنیچر کو ہوگی اور اگر جج صاحب چھٹی پر نہ ہوئے تو وہ پاکستانی وفد کے بھارت دورے کی نئی تاریخ طے کریں گے۔
"ہم نے ان کے وکیل کو کہا ہے کہ کورٹ کا فیصلہ ہو۔ اس کے ہونے تک آپ اپنے پاسپورٹس پر ویزے لگوالیں کیونکہ اگر جتنے بھی ملزمان ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کا بھی وکیل نہیں گیا تو یہ چیز متنازع ہو جائے گی۔ میں بھارتی حکام کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے ہمیں وقت دیا ہے۔کوشش کریں گے کہ دس فروری سے پہلے ہم کمیشن وہاں پہنچوا دیں۔ "
وزیر داخلہ رحمان ملک
اس پاکستانی وفد نے ممبئی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر بنائے گئے اس ایک رکنی کمیشن کے سامنے پیش ہونا ہے جو میٹروپولیٹن مجسٹریٹ پر مشتمل ہے۔
وفد میں شامل استغاثہ کے پاکستانی وکیل گواہان کے بیان لیں گے جبکہ ملزمان کے وکیل گواہان پر جرح کریں گے۔ ان گواہان میں ممبئی حملوں کے بعد زندہ پکڑے جانے والے ملزم اجمل قصاب کا بیان قلمبند کرنے والے مجسٹریٹ، اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے افسر اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر شامل ہیں۔
گزشتہ ماہ پاکستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ممبئی حملوں سے شواہد کی جانچ پڑتال اورگواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے پاکستان کا ایک عدالتی کمیشن 3 فروری سے 6 فروری تک بھارت کا دورہ کرے گا۔
اسلام میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا ’حضور کہا تھا چار سے چھ اور قدرتی طور پر یہ ایک عدالتی عمل ہے جس میں ہمیں قانون کی پابندی کرنا فرض ہے۔ ایک جو ملزم ہے اس کے وکیل نے اپنی رائے دی ہے کوئی، تو وہ چار تاریخ لگی ہے۔ چار تاریخ کو غالباً جج صاحب نہیں ہیں۔ تو ہم امید کرتے ہیں کہ چھ فروری کو فیصلہ ہوجائے گا اور جونہی یہ فیصلہ ہوگا چھ نہیں تو سات کو چلا جائے گا۔لیکن یہ مجھے امید ہے کہ جائے گا ضرور، چھوٹی موٹی آراء آتی رہی ہیں‘۔
انھوں نے کہا ’ہم نے ان کے وکیل کو کہا ہے کہ کورٹ کا فیصلہ ہو۔ اس کے ہونے تک آپ اپنے پاسپورٹس پر ویزے لگوالیں کیونکہ اگر جتنے بھی ملزمان ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کا بھی وکیل نہیں گیا تو یہ چیز متنازع ہو جائے گی‘۔

پاکستان نے اس دورے کے التواء کی کوئی وجوہات بیان نہیں کی ہیں
وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ ’میں بھارتی حکام کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے ہمیں وقت دیا ہے۔کوشش کریں گے کہ دس فروری سے پہلے ہم کمیشن وہاں پہنچوا دیں‘۔
خیال رہے کہ نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی کے مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں میں نو حملہ آوروں سمیت ایک سو چوہّتر افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے میں زندہ پکڑے جانے والے واحد ملزم پاکستانی شہری اجمل قصاب کو مئی دو ہزار دس میں بھارتی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف اپیل بھارتی سپریم کورٹ میں زیرِ التواء ہے۔
خیال رہے کہ بھارت اور امریکہ دونوں نے ممبئی حملوں کا الزام پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ پر لگایا تھا اور کہا تھا کہ یہ ایک ہی تنظیم کے دو نام ہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ نے مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے وابستہ ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری داؤد گیلانی عرف ڈیوڈ ہیڈلے کو گرفتار بھی کیا تھا۔


















