
پاکستان کے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف جتنی بھی سازشیں ہو رہی ہیں وہ سب سینیٹ کے الیکشن کو رکوانے کے لیے ہو رہی ہیں اور کچھ عرصے بعد وہ (سازشیں) منظرِ عام پر آنا شروع ہوجائیں گی۔
یہ بات انہوں نے لاہور کے ریلوے سٹیشن پر نجی شعبے کے اشتراک سے چلنے والی پاک بزنس ٹرین کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات وقت پر ہوں گے اور اس کے بعد حکومت اپنا پانچواں قومی بجٹ پیش کرے گی۔
لاہور میں ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق وزیرِاعظم گیلانی نے کہا کہ یہ بجٹ مثالیہ ہوگا اور اس بجٹ کے بعد بھی اگر خواہش مند حضرات یا جماعتوں کا انتخابات کروانے کا دل چاہا تو وہ ان سے بات کر سکتے ہیں۔
"وزیرِ اعظم سے سوال کیا گیا کہ اگر اُن کو ہتھکڑی لگا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے تو وہ کیسا محسوس کریں گے تو اس پر انہوں نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کا احترام کریں گے۔"
وزیرِ اعظم سے سوال کیا گیا کہ اگر اُن کو ہتھکڑی لگا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے تو وہ کیسا محسوس کریں گے تو اس پر انہوں نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کا احترام کریں گے۔
ایک سوال پر کہ عدالت وزیر اعظم کو تو بلاتی ہے لیکن منی لانڈرنگ کیس میں عدالت میاں نوازشریف کو نہیں بلاتی تو انہوں نے کہا کہ اُن کو اس لیے بُلایا جاتا ہے کہ یہ اُن کی عدالت ہے اور اسی لیے وہ عدالت میں جائیں گے۔
وزیرِ اعظم نے بعد میں لاہور کے ٹول پلازہ کو آبادی سے دور منتقل کیے جانے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کالا شاہ کاکو میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی چور دروازے سے اقتدار میں نہیں آئی اور یہ راتوں رات بننے والی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ یہ طویل عرصے سے جدوجہد کررہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ تیل کی قیمتیوں کے لیے انہوں نے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو وزراتِ خزانہ سے مل کر معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔


















