
بلوچستان کے اکثر شہروں میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی
کراچی میں نواب اکبر خان بگٹی کی پوتی کی ہلاکت کے خلاف جمعرات کو بلوچستان کے زیادہ ترحصوں میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہوئی ہے۔ بلوچ قوم پرستوں نے سندھ حکومت سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نا مہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچ ری پبلیکن پارٹی کی اپیل پر جمعرات کو کوئٹہ کے بعض حصوں اور صوبے کے دیگر بڑے شہروں ِخضدار، قلات ، سبی، جعفرآباد، پنجگور ، تربت، میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہوئی۔ اس کے علاوہ کوئٹہ کراچی، کوئٹہ سکھر اور کوئٹہ تفتان شاہراہ بھی کئی مقامات پر ٹریفک کے لیے بند رہیں۔
بی آر پی نے ہڑتال کی کا ل پیر کی رات کو کراچی میں بلوچستان کے رکن اسمبلی بختیار خان ڈومکی کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ہونے والے فائرنگ کے خلاف دی تھی۔
جس میں بختیار خان ڈومکی کی اہلیہ، بیٹی اور ڈرائیور ہلاک ہوئے تھے۔ بختیار ڈومکی کی اہلیہ نواب اکبر بگٹی کی پوتی تھی۔
واقعہ پر نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن ، بلوچستان نیشنل پارٹی، بی ایس او اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی شدید احتجاج کیا ہے اور سندھ حکومت سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ حکومت نے اس واقعہ کو قبائلی دشمنی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے ایک نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کرکے بی بی سی کو بتایا کہ بلوچ مزاحمت کاروں نے کوہلو کے علاقے نساؤ میں ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے جس میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں لیکن کوئٹہ میں سرکاری ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی۔


















