
پاکستان کے مرکزی بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال دوہزار گیارہ بارہ کی پہلی سہہ ماہی کی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق حکومت نے اپنے مالی معاملات بہتر کیے ہیں اور گزشتہ مالی سال کی نسبت رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارہ ایک اعشاریہ پانچ سے کم ہوکر ایک اعشاریہ دو ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی محصولات میں انتیس فیصد سے زائد اضافے ، اور ٹیکس کے علاوہ آمدنی میں پچاس فیصد سے زائد کے اضافے کی وجہ سے بجٹ کا خسارہ کم کرنے میں مدد ملی ہے ۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دسمبر دوہزار گیارہ تک حاصل شدہ محصولات ہدف سے کم رہے۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں کی جانب سے بجٹ میں ایک سو پچیس ارب کا فاضل بجٹ رکھا تھا مگر صوبوں کی جانب سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے صرف گیارہ اعشاریہ چھہ ارب روپے ہی جمع ہوسکے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں پچاسی فیصد کم ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں غزائی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام سے قرض کی شرح کو بھی قابو میں رکھنے میں مدد ملی جس میں کئی سال بعد پہلی مرتبہ ڈبل ڈجٹ سے کم ہوکر نو اعشاریہ سات رہا مگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں حالیہ کمی کی وجہ سے رواں مالی سال بھی افراطِ زر کی شرح بارہ فیصد کے قریب رہنے کا امکان ہے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کی ترقی کے لیے شرح سود کی پالیسی میں نرمی اختیار کی گئی تھی مگر دیگر شعبوں میں کمزوریوں کی وجہ سے اس میں مزید کمی کرنا ممکن نہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق رواں سال موبائل تھری جی لائسنس کے اجراء سے حکومت کو اس کی فیس کی مد میں رقم موصول ہوگی جبکہ امریکا کی جانب سے اتحادی فنڈ کی رقم بھی ملنے کا امکان ہے۔ مزید یہ کہ ترکی اور چین کے مرکزی بینکوں نی جانب سے ڈالر کے بجائے مقامی کرنسی میں تجارت سے بھی زرمبادلہ کے ذخائر کا تحفظ ملے گا۔ جبکہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری سے بھی آمدنی ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی منڈی میں اجناس کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے رواں مالی سال میں شرح نمو کا ہدف جو چار اعشاریہ دو فیصد کا تھا اس کا حصول مشکل نظر آتا ہے۔



















