
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں
پاکستان کےسابق فوجی صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان واپس آنے کا منصوبہ ملتوی کر دیا ہے۔
یہ بات پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما بیرسٹر سیف نے جمعہ کو دبئی میں برطانوی اور فرانسیسی خبر رساں اداروں سے بات چیت کے دوران بتائی۔
سنہ 1999 سے 2008 تک پاکستان پر حکمرانی کرنے والے فوجی آمر جنرل مشرف نے رواں ماہ کراچی میں منعقدہ جلسے سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ستائیس سے تیس جنوری کے درمیان پاکستان میں ہوں گے۔
پرویز مشرف کی پاکستان واپسی کے منصوبے کے التواء پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر محمد سیف نے کہا، ’یہ بات حتمی ہے کہ جنرل مشرف پاکستان لوٹیں گے لیکن ہم سپریم کورٹ اور حکومت کے درمیان موجود کشیدگی میں کمی کا انتظار کر رہے ہیں۔ حکومت ان کی واپسی کو لوگوں کو توجہ بانٹنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے‘۔
تاہم بیرسٹر سیف نے جنرل(ر) پرویز مشرف کی پاکستان واپسی کی کوئی نئی تاریخ نہیں دی۔
پرویز مشرف آج کل لندن میں مقیم ہیں اور پاکستان میں ان کے خلاف بلوچ رہنما اکبر بگٹی کے قتل کے علاوہ سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کو مناسب سکیورٹی نہ فراہم کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات درج ہیں۔
مشرف اپنے خلاف لگے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں تاہم پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت کئی رہنما بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر مشرف پاکستان واپس آئے تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
چند دن قبل ہی پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں پرویز مشرف کو وطن واپسی پر گرفتار کرنے اور بغاوت کا مقدمہ چلانے کی قرارداد منظور کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ جنرل مشرف کی جانب سے پاکستان واپسی کے اعلان کے چند دن بعد ہی یہ خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ مک کی موجودہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے ان کی پاکستان آمد کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔



















