’پاکستان کو سکیورٹی سٹیٹ بنا دیا گیا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 28 جنوری 2012 ,‭ 19:46 GMT 00:46 PST

مذہبی طبقے کو جنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے:فضل الرحمان

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سکیورٹی سٹیٹ بنا دیا گیا ہے اور ملک کے تمام وسائل عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے مفادات پر استعمال ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ساٹھ فیصد بجٹ دفاع پر خرچ ہو رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات کراچی میں جمعہ کو منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کراچی میں قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کے قریب واقع میدان جو کبھی ویران ہوتا تھا اب سیاسی اکھاڑا بن چکا ہے۔ یہاں پہلے عمران خان اور پرویز مشرف نے جلسے منعقد کیے اور جمعہ کو مولانا فضٰل الرحمان نے خطاب کیا۔

پچھلے دو جلسوں کے مقابلے میں اس جلسے میں لوگوں کی تعداد زیادہ دیکھی گئی اور اس میں دینی مدراس کے اساتذہ اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج مذہبی طبقے کو جنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسے انتہا پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر مذہبی لوگ انتہاپسند ہیں تو ابوغریب جیل اور گوانتانامو جیل میں قیدیوں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا گیا وہ کس زمرے میں آتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ انہیں کہا جاتا ہے کہ ’جے یو آئی جلسے بڑے کر لیتی ہے پر ووٹ کیوں نہیں لے سکتی؟ ہم انہیں کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ ہٹ جائے تو دیکھیں کیسے ووٹ ملتے ہیں‘۔

مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا کہ ’جب عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی امریکہ کو ضرورت ہوتی ہے تو انہیں بڑھا چڑھاکر لایا جاتا ہے تاہم اگر وہ ان کے مفادات پورے نہ کریں تو نئے لوگ ڈھونڈے جاتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ مستحکم جمہوریت لانی ہے تو صاف شفاف انتخابات ہونے چاہیئیں‘۔

کراچی میں انیس سو ننانوے کے بعد جمیعت علمائے اسلام کا یہ پہلا بڑا جلسہ تھا

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں انیس سو ننانوے کے بعد جمیعت علمائے اسلام کا یہ پہلا بڑا جلسہ تھا۔ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے قیام کے بعد جے یو آئی نے کراچی میں سرگرمیاں محدود کردیں تھیں صوبہ خیبر پختون خواہ میں جمعیت علما اسلام کی حکومت تھی اور کراچی غیر اعلانیہ طور پر جماعت اسلامی کے حصہ میں آتھا تھا مگر اس جلسے نے یہ بھی واضح کردیا کہ جمیعت اپنا حصہ الگ رکھنا چاہتی ہے۔

اس جلسے میں عوامی نیشنل پارٹی بھی زیر تنقید رہی جس نے خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت بنائی ہے اور کراچی میں صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں حاصل کی ہیں جو اس سے پہلے جمعیت علمائے اسلام کے پاس تھیں۔

جلسے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ نیٹو کی سپلائی معطل رکھی جائے، امریکہ کے بارے میں خارجہ پالیسی واضح ہو۔ اس کے علاوہ مقررین نے امریکہ میں قید سائنسدان ڈاکٹر عافیہ کی پاکستان کی حوالگی اور وطن واپسی پر پرویز مشرف کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔