bbc.co.uk navigation

قتل کا مقدمہ درج ہو سکتا ہے یا نہیں؟

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 26 جنوری 2012 ,‭ 17:58 GMT 22:58 PST

جرم ثابت ہونے پر کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ دس برس سزا ہو سکتی ہے: قانونی ماہرین

پنجاب میں سرکاری ہسپتال سے ملنے والی مفت ادویات سے اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو کتنی اور کس نوعیت کی سزا ہوسکتی ہے۔

چند قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوسکتا ہے جبکہ بعض ماہرین کی رائے کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف تین سو دو کی کارروائی نہیں جاسکتی ہے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی دوائی کے استعمال سے ملک میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں اس لیے ڈرگ ایکٹ انیس سو چھہتر کےعلاوہ تعزیرات پاکستان کے تحت بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔

ماہرین قانون کے مطابق کہ ڈرگ ایکٹ کے تحت جعلی ادویات کی تیاری کے الزام میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے اور جرم ثابت ہونے پر کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ دس برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

ادویات کے متعلق قوانین کے ماہر گوہر رفیق ایڈوکیٹ نے بتایا کہ ان ہلاکتوں پر ڈرگ ایکٹ کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو اکیس کے تحت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تعزیرات پاکستان کی اس دفعہ کے تحت کسی شحض کی قتل کی نیت نہ ہو لیکن اس کے باوجود کوئی ایسا غیر قانونی اقدام ہو جائے جس سے ہلاکتیں ہوں تو ایسا شخص اس قانون کی گرفت میں آ جائے گا۔

تاہم گوہر رفیق ایڈووکیٹ کے بقول تعزیرات پاکستان کی اس دفعہ کے تحت اگر کارروائی کی جائے تو صرف دیت ہی ادا کرنا ہوگی۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ آنے کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوسکے گا کہ کس جرم کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے کیونکہ اس رپورٹ میں اس بات تعین ہوگا کہ کیا دوائی جعلی تھی، غیر معیاری یا پھر اس میں کوئی خرابی تھی۔

ماہر قانون ٹیپو سلمان مخدوم کے مطابق جہاں ذمہ داروں کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے وہیں دیوانی عدالت یعنی سول کورٹ سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔

ٹیپو سلمان مخدوم کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کے لواحقین سول کورٹ میں ہرجانے کا دعویٰ دائر کرسکتے ہیں اور عدالت ان کی داد رسی کرتے ہوئے ان کو رقم دلوا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کپمنی ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت دوائی بنانے والی کمپنوں کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ماہرین قانون اس نکتہ پر بٹے ہوئے ہیں کہ غیر معیاری دوائی کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں پر ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔

چند ماہر قانون کہتے ہیں کہ ان ہلاکتوں پر قتل کا مقدمہ درج ہوسکتا ہے اور بقول ان کے وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف یہ مقدمہ درج کرا سکتا ہے

تاہم ماہر قانون گوہر رفیق اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ قتل کے الزام یعنی تین سو دو کے تحت کارروائی کے لیے کسی کو مارنے کی نیت ہونی چاہئے جبکہ اس معاملہ میں بظاہر ایسی کوئی نیت ظاہر نہیں ہوتی۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ملک میں کئی ایسے قوانین ہیں جن کے تحت اس طرح واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں قانون کی گرفت میں لایا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔