
سیکورٹی فورسز کے ایک قافلے پر ریمورٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا
بلوچستان کے علاقے تربت میں بم حملے اور فائرنگ کے واقعہ میں فرنٹیئر کور کے چودہ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچ مزاحمت کاروں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق کوئٹہ سے سات سوکلو میٹر دور تربت کی تحصل بلیدہ میں نامعلوم مسلح افراد نے زامران کے علاقے میں فرنٹیئرکور کے ایک قافلے پر بموں سے حملہ کیا جس میں ایف سی کے دو افسروں سمیت چودہ اہلکار ہلاک اورپندرہ افراد زخمی ہوئے۔
واقعہ میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر سول ہسپتال تربت پہنچایاگیاہے جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق رات گئے پاک ایران سرحد کے قریب تربت کے علاقے زامران میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر ریمورٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز اور بلوچ مزاحمت کاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
بم دھماکے اور فائرنگ کے بعد سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور اس نے تمام علاقے کی ناکہ بندی کردی لیکن آخری اطلاع تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔
دوسری جانب بلوچ لبریشن فرنٹ کے ترجمان گورام بلوچ نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کوٹیلی فون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاہے کہ حملے میں ایف سی کے چالیس اہلکار ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ تین گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اس کاروائی میں بلوچ مزاحمت کاروں نے ایف سی کے اہلکاروں کی سترہ رائفلیں بھی قبضے میں لی ہیں۔


















