
جلسے میں ممکن ہے پرویز مشرف پاکستان آمد کی تاریخ کا اعلان بھی کریں
کراچی میں اتوار کو پاکستان کےسابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ ایک جلسہ عام منعقد کر رہی ہے۔
یہ جلسہ مزار قائد کے سامنے عین اُسی َجگہ ہو رہا ہے جہاں پچیس دسمبر کوعمران خان کی جماعت تحریک انصاف نےجلسہ منعقد کیا تھا۔ اس جلسے سے سابق صدر پرویز مشرف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے دبئی سے خطاب کریں گے۔
اس جلسے کی مناسبت سے کراچی کی تمام اہم سڑکوں اور شاہراہوں پر پوسٹر اور بینر لگائے گئے ہیں جبکہ جلسہ گاہ میں کنٹینروں کی مدد سے مقرریں کے لیے سٹیج بھی تیار کیا گیا ہے۔
آل پاکستان مسلم لیگ کے چیف کوآرڈینٹر اور سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز نے بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں اس جلسے کی اجازت بہت تاخیر سے ملی ہے مگر پھر بھی ان کی تیاریاں مکمل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جلسہ گاہ میں چالیس ہزار کرسیاں رکھی گئی ہیں اور پچیس واک تھرو گیٹ لگائے گئے ہیں جن میں خواتین اور فیملی کے لیے علیحدہ راستے بنائے گئے ہیں جبکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے علیحدہ علیحدہ انتظامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جلسے سے پرویز مشرف ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کریں گے جس میں ممکن ہے کہ وہ اپنی پاکستان آمد کی تاریخ کا اعلان بھی کریں۔
اس جلسے کے بارے میں تحریک انصاف کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شفقت محمود کا کہنا تھا کہ جلسہ کرنا پرویز مشرف کا جمہوری حق ہے مگر ان کی جماعت کو اس سے کوئی غرض اس لیے نہیں ہے کہ ان کی جماعت کا پرویز مشرف سے کبھی اتحاد نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ان کی جماعت میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پرویزمشرف کے ساتھی تھے مگر وہ تحریک انصاف کی ایجنڈے پر شامل ہوئے ہیں۔


















