bbc.co.uk navigation

’قبل از وقت انتخابات غیر آئینی نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 3 جنوری 2012 ,‭ 13:21 GMT 18:21 PST
مولانا فضل الرحمان

’جن قوتوں نے ملک کی سلامتی کو ڈبویا ہے یا اسے ڈبو رہے ہیں وہ اب قومی سلامتی کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔‘

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر وقت سے پہلے ملک میں انتخابات ہوتے ہیں تو یہ کوئی غیر آئینی اقدام نہیں ہوگا لیکن اگر فوج یا عدلیہ کے دباؤ پر کوئی تبدیلی آتی ہے تو یہ ملک و قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کے مترادف ہے۔

وہ منگل کو پشاور پریس کلب کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک تقریب ’میٹ دی پریس‘ پروگرام میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کی مقتدر قوتیں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے سول اداروں کو طاقتور ہونے نہیں دیتی اور جس کا ان سے نظریاتی اختلاف ہو ان کے سامنے روکاوٹیں بھی کھڑی کی جاتی ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی مقتدر قوت یا ادارے کا نام نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال میں وقت سے پہلے انتخابات کا اعلان کیا جاتا ہے تو اسے غیر قانونی اقدام تصور نہیں کہا جاسکتا کیونکہ آئین میں اس کا جواز موجود ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ یا فوج کے دباؤ پر ملک میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو یہ یقینی طور پر ملک و قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کے برابر ہوگا۔

جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک داخلی اور خارجی سطح پر مشکلات اور بحرانوں کا شکار ہے اور ایسے میں حکمران باہر سے درآمد شدہ خارجی پالیسی کی پیروی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کے بعد حکومت کی طرف سے جو اقدامات لیے گئے وہ تمام درست ہیں لیکن ان اقدامات کو ملک کی مستقل پالیسی کی شکل نہیں دی جارہی۔

القاعدہ اور طالبان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ بنیادی طور پر یہ تصور ہی غلط ہے کہ ایک لفظ اچھال دیا جاتا ہے اور پھر اس کے تحت لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے حالانکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔‘

انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’طالب تو میں بھی ہوں، میں بھی دس سال تک اکوڑہ خٹک کے مدرسے میں پڑھا ہوں۔ تو کیا میں آپ کو دہشت گرد لگتا ہوں۔‘

جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کو مانتے ہی نہیں کیونکہ یہ جنگ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے اور تہذیبوں کے مابین ٹکراؤ پیدا کرنے کے لیے شروع کی ہے۔

ان کے مطابق اس جنگ کے باعث پاکستان کو ستر کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ اس کے بدلے میں ان کو ساڑھے چار کروڑ ڈالر کی امداد ملی جبکہ ہزاروں افراد ہلاک بھی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے ملکی پالیسوں کی مخالفت کی جاتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ قومی سلامتی کی پالیسوں کو چھیڑنے سے گریز کیا جائے۔ ان کے مطابق ’جن قوتوں نے ملک کی قومی سلامتی کو ڈبویا ہے یا اسے ڈبو رہے ہیں وہ اب بھی قومی سلامتی کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔‘

قبل آزیں پشاور پریس کلب کے نومنتخب صدر سیف الاسلام سیفی اور جنرل سیکرٹری ناصر حسین نے پریس کلب آنے پر مولانا فضل الرحمان کا شکریہ ادا کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔