
فرنٹیئرکور نے اتوار کے روز تین ایرانی اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا
ایران نے پاکستانی علاقے میں اپنے تین سرحدی محافظوں کی گرفتاری کے بعد بلوچستان کے علاقے ماشکیل مزاسر کے مقام پر پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی ہے۔
گزشتہ روز پاکستانی فرنٹیئرکور نے پاکستانی سرحد عبور کرنے اور مبینہ طور پر ایک پاکستانی شہری کو ہلاک کرنے کے الزام میں ایرانی سرحدی فورس کے تین اہلکاروں کو حراست میں لے لیا تھا۔
بلوچستان کےسرحدی شہر ماشکیل سے مقامی صحافی فاروق کمبدانی کے مطابق اتوار کو ایرانی سرحدی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری سعید ریکی کی لاش کو سپرد خاک کر دیا گیا جبکہ فائرنگ میں زخمی ہونے والے نوجوان عبدالسلام ریکی کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیاگیا ہے۔
ماشکیل میں حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے ایرانی اہلکار فرنٹیئرکور کی حراست میں ہیں اور ان سے تفتیش جاری ہے جبکہ پاک ایران سرحد دوبارہ کھولنے اور ایرانی سرحدی اہلکاروں کی رہائی کے سلسلے میں منگل کو ماشکیل میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔
یاد رہے کہ فرنٹیئرکور نے اتوار کے روز تین ایرانی اہلکاروں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایک گاڑی میں تین کلومیٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہوگئے اور مبینہ طور پر انہوں نے فائرنگ کی۔
اس فائرنگ کے نتیجے میں ایک پاکستانی نوجوان سعید ریکی ہلاک جبکہ اس کا بھائی عبدالسلام ریکی شدید زخمی ہوا تھا۔
ان واقعات پر ماشکیل کے شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے ایرانی فورسز کی کاروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔


















