bbc.co.uk navigation

’یہ حکومت رہی تو حالات مزید خراب ہوں گے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 دسمبر 2011 ,‭ 14:47 GMT 19:47 PST

مجھے تو یہ دہرے معیار سمجھ میں نہیں آتے: نواز شریف

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کو جلد از جلد انتخابات کروا دینے چاہیئیں کیونکہ یہ حکومت کے اپنے حق میں ہے اور اگر وہ مزید بارہ یا تیرہ ماہ رہتی ہے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔

کراچی میں صحافیوں اور کالم نویسوں سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکمران اگر سمجھتے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو مکمل ختم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کیری لوگر بل کے ذریعے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور متنازع میمو کا سلسلہ کیوں شروع کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم سے بات کرتے تو ہم کہتے آؤ بیٹھو اس پر عملدرآمد کرو، (اور) اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو سیاست سے ہمیشہ کے لیے ختم کریں‘۔

ان کا کہنا تھا ’جب وہ ایبٹ آباد کمیشن کی بات کر رہے تھے تو نئوں ڈیرو اور رتوڈیرو سے کہا گیا کہ نواز شریف کون ہوتا ہے؟ وہ ہمارے فوجی جوانوں کے خلاف سوچ رکھتا ہے۔ کیا یہ باتیں کرنے والی تھیں؟ مجھے تو یہ دہرے معیار سمجھ میں نہیں آتے۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ جمہوری نظام کی بات کر رہے ہیں تو دوسری جانب منتخب صدر کے خلاف گو زرداری گو کے نعرے کیوں لگائے جا رہے ہیں۔ اس پر میاں نواز شریف نے واضح کیا کہ ’اس میں فوج کی قیادت کا کوئی کردار ہے نہ ایجنسیوں یا آئی ایس آئی کا۔ حکومت رہتی یا جاتی ہے مگر فوج کا سیاست میں کسی قسم کا کوئی کردار ناقابل قبول ہوگا‘۔

"ہم سے بات کرتے تو ہم کہتے آؤ بیٹھو اس پر عملدرآمد کرو، (اور) اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو سیاست سے ہمیشہ کے لیے ختم کریں۔حکومت رہتی یا جاتی ہے مگر فوج کا سیاست میں کسی قسم کا کوئی کردار ناقابل قبول ہوگا۔"

نواز شریف

پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کو وزرات داخلہ کے ماتحت کرنے کے بارے میں نواز شریف کا کہنا تھا ’حکومت ان سے بات کرتی تو مل بیٹھ کر پارلیمنٹ کے ذریعے راستہ نکالتے‘۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فوج کا بجٹ پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، یہ پہلا قدم ہے۔ جہاں تک ایجنسیاں ہیں اس کا بجٹ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سپرد کیا جائے جو اسے منظور کرے، منظوری کے بعد ان بجٹوں کا آڈٹ بھی کیا جائے، اور یہ کام آسان تھے کیونکہ یہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں لکھا ہوا ہے جس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

میاں نواز شریف نے کراچی میں مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارہ اور تاجروں کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔