
پاکستان نے اپنی سرحدی چوکیوں پر حملے کے بعد نیٹو کی سپلائی بند کر دی تھی۔
افغانستان میں نیٹو کے ایک ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جمی کمنگز نے کہا ہے کہ پاکستان سے رسد کی فراہمی پر پابندی کے باوجود انہیں کسی چیز کی کمی نہیں کیونکہ ان کے پاس اشیاء ضرورت کا بہت ذخیرہ موجود ہے۔
یہ بات انہوں نے ای میل کے ذریعے بی بی سی کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بھیجی گئی جوابی ایم میل میں بتائی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے نیٹو اور امریکی افواج کی رسد معطل کیے جانے کے بعد خوراک اور دیگر اشیاء کی قلت ہوگئی ۔۔۔ کیا بات درست ہے؟
تو اس کے جواب میں لیفٹیننٹ کرنل جمی ای کمنگز جونیئر جو امریکی فوج سے تعلق رکھتے ہیں اور افغانستان میں نیٹو سے منسلک ہیں، انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس بہت ذخیرہ ہے اور کوئی کمی نہیں اور ہمارے پاس رسد اور لاجسٹک کے لیے متعدد متبادل ذرائع موجود ہیں۔‘
جب ان سے دریافت کیا کہ ان کے پاس کون سے متبادل ذرائع ہیں اور اس پر انہیں کتنی زیادہ قیمت چکانی پڑ رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہم سینٹرل کمانڈ اور تھیٹر کمانڈرز کے لیے متعدد متبادل رسد کے ذرائع کو اہمیت دیتے ہیں۔ جیسا کہ ناردرن ڈسٹریبیوشن نیٹ ورک (وسطی ایشیائی ریاستوں سے رسد کے راستے) اور دوسرے مختلف راستے ہیں۔ ہم اپنے لاجسٹک آپریشنز کے اخراجات کو زیر بحث نہیں لاتے۔‘
"ہم سینٹرل کمانڈ اور تھیٹر کمانڈرز کے لیے متعدد متبادل رسد کے ذرائع کو اہمیت دیتے ہیں۔ جیسا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں سے رسد کے راستے اور دوسرے مختلف راستے ہیں۔ لیکن لاجسٹک آپریشنز کی حساسیت کی وجہ سے ہم اس طرح کی تفصیلات زیر بحث نہیں لاتے۔"
جمی ای کمنگز جونیئر
افغانستان میں نیٹو کے ترجمان سے جب پوچھا کہ اب تک پاکستان کو نیٹو اور امریکہ محصولات اور معاوضے کی مد میں کتنی رقم دے چکا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لاجسٹک آپریشنز کی حساسیت کی وجہ سے ہم اس طرح کی تفصیلات زیر بحث نہیں لاتے۔‘
تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اور نیٹو کا براہ راست پاکستان حکومت سے رسد کی فراہمی کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ البتہ ان کے مطابق برطانیہ جوکہ ایساف فورسز کا ایک کلیدی ملک ہے، انہوں نے پاکستان حکومت کے ساتھ ایک یاداشت نامے پر دستخط کر رکھے ہیں جس کے تحت یہ فراہمی ہوتی ہے۔
انہوں نے اس ضمن میں مزید کہا کہ نیٹو، ایساف اور امریکہ کے لیے جو ٹراسپورٹیشن ہوتی ہے وہ کسٹمز جنرل آرڈر نمبر بارہ کے تحت تجارتی (نجی) ذرائع سے ہوتی ہے۔
کسٹمز جنرل آرڈر نمبر بارہ کے بارے میں جب فیڈرل بورڈ آف روینیو کے ممبر کسٹمز ممتاز حیدر رضوی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو دو روز تک یہی جواب ملا کہ ’صاحب میٹنگ میں ہیں اور جب فارغ ہوں گے تو آپ سے بات کروائی جائے گی۔‘
واضح رہے کہ پاکستان نے چھبیس نومبر کو مہمند ایجنسی میں فوجی چوکی پر نیٹو کے حملے کے بعد افغانستان میں تعینات امریکہ، ایساف اور نیٹو فورسز کی رسد ستائیس نومبر کو بند کردی تھی، شمسی ایئر بیس امریکہ کو خالی کرنے کا حکم دیا اور ان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون اور تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
امریکہ نے گزشتہ اتوار کو بلوچستان میں واقع شمسی ایئر بیس خالی کرکے پاکستانی فورسز کے حوالے کردی تھی اور گزشتہ انیس روز سے نیٹو اور امریکی افواج کی سپلائی معطل ہے۔ حکومت نے امریکہ اور نیٹو سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے معاملہ پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کو بھیج رکھا ہے۔
میاں رضا ربانی کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے حکومتِ پاکستان سے امریکہ اور نیٹو کے ساتھ ہر قسم کے تحریری اور زبانی معاہدوں یا یقین دہانیوں کی تفصیل طلب کر رکھی ہے اور کمیٹی کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں وزارت خارجہ اور دفاع کے نمائندے اس بارے میں تفصیل پیش کریں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے مواصلات کے وفاقی وزیر ڈاکٹر ارباب عالمگیر نے چند روز قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ نیٹو، امریکہ اور ایساف کے لیے روزانہ ساڑھے تین سو سے چار سو کنٹینر طورخم اور چمن سرحدوں سے افغانستان جاتے ہیں۔
ان کے بقول ان کی رسد کا سامان لے جانے والی اضافی ٹریفک کی وجہ سے سالانہ پاکستان کی شاہراہوں کو بیس سے پچیس ارب روپے کا نقصان پہچنتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس مد میں حکومت پاکستان نے وزارت خارجہ کی معرفت نیٹو سے ایک ارب ڈالر کا ہرجانہ طلب کر رکھا ہے لیکن تاحال انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔


















