bbc.co.uk navigation

بریکنگ نیوز کے چکر میں انسانی حقوق کی پامالی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 دسمبر 2011 ,‭ 19:44 GMT 00:44 PST

لاہور میں خواتین کےحقوق پر ہونے والے ایک سیمینار میں کہاگیا ہے کہ پاکستان میں تیزی سے فروغ پاتے ہوئے میڈیا نے عورتوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن مقامی میڈیا کو ابھی بہت تربیت کی ضرورت ہے۔

ادارہ استحکام شرکتی ترقی کے زیر اہتمام خواتین پر تشدد کے خاتمے میں میڈیا کے کردار کے موضوع پر ہونے والے سیمینار کے شرکاء نے کہا کہ میڈیا پاکستانی معاشرے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مقامی این جی او کے نمائندے سلمان عابد نے کہا کہ خواتین پر تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے اور رسم و رواج کے نام پر انہیں زیادہ تشدد کا سامنا ہے اور میڈیا اپنے طور پر ان غلط رسم و رواج کے واقعات کو اجاگر کر رہا ہے جو کہ میڈیا کی ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے اور ساتھ ہی وہ ان مسائل کو سامنے لا کر ان کوحل کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے ۔

لاہور کالج برائے خواتین کی شعبہ ابلاغیات کی سربراہ ڈاکٹر انجم ضیاء نے کہا کہ حقوق نسواں کے لیے میڈیا کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔عورتوں کے قتل سے لے کر گھریلو تشدد اور پھر دفاتر میں استحصال تک کے معاملات میڈیا پر دکھائے جاتے ہیں اور ونی اور کاروکاری جیسی رسومات کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بریکنگ نیوز کے چکر میں میڈیا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرجاتا ہے۔

ڈاکٹر انجم ضیاء نے کہا کہ جلدی، بہتر اور بڑی خبر دینے کی دوڑ میں میڈیا بعض اوقات بہت سی غلطیاں بھی کرجاتا ہے اور بہت سی ایسی چیزیں بھی بیان کر جاتا ہے جن کو پوشیدہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔میڈیا پر بعض اوقات خواتین کی ایسی تصاویر بھی دکھا دی جاتی ہیں جن سے ان کی عزت نفس متاثر ہوتی ہے اور ایسے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد متاثرہ خواتین کا معاشرے میں زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر انجم ضیاء نے کہا کہ میڈیا کو اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کام کرنا چاہیے۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے سابق سربراہ پروفیسر مغیث الدین نے کہا کہ بعض اوقات میڈیا سے بہت سی توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں لیکن یہ درست نہیں ہے۔ ’میڈیا نہ تو تن تنہا تباہی لاسکتا ہے اور نہ ہی تن تنہا فلاح کرسکتا ہے۔ میڈیا صرف تبدیلی کے عمل میں مدد کرتا ہے۔‘

پروفیسر مغیث الدین نے کہا کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں صحافتی اخلاقیات کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور پاکستان میں اس کی بڑی وجہ میڈیا کا اچانک پھیلاؤ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں جتنا بھی جسمانی تشدد ہوتا ہے چاہے وہ خواتین کے حوالے سے ہو یا وہ دہشت گردی ہو، اس کی ابتدا قلم کے تشدد سے ہوتی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشیر ذکیہ شاہ نواز نے کہا کہ ذرائع ابلاغ پر معقول انداز میں بحث مباحثہ ہونا چاہیے اور خواتین سمیت ان لوگوں کو مکمل تحفظ ملنا چاہیےجو تحفظ کے حقدار ہیں۔

سیمینار کے شرکاء اس بات پر متفق نظر آئے کہ میڈیا خواتین پر تشدد کے خلاف مزید موثر انداز میں کام کرسکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔