bbc.co.uk navigation

پاکستان میں پولیو وائرس اب بھی بے قابو

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 اکتوبر 2011 ,‭ 19:09 GMT 00:09 PST
فائل فوٹو، پولیو

سالِ رواں کے پہلے دس ماہ میں اب تک پاکستان میں پولیو کے ایک سو بتیس کیسز سامنےآ چکے ہیں

پاکستان میں انیس سو چورانوے سے پولیو کے خاتمے کے لیے مہم جاری ہے اور اب بھی دنیا کے ان چار ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کے وائرس پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

دیگر ممالک میں بھارت، افغانستان اور نائجیریا شامل ہیں۔

بھارت کے وزیر صحت غلام نبی آزاد نے تو دعوٰی کردیا ہے کہ بھارت پولیو کے خاتمے کے بہت قریب پہنچ گیا ہے کیونکہ گزشتہ نو ماہ سے بھارت میں پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ کسی بھی ملک کو پولیو سے پاک قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں تین سال تک پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہ آئے۔

مگر پاکستان میں صورتِ حال کچھ زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے قومی پروگرام کے منیجر ڈاکٹر الطاف بوسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سالِ رواں کے پہلے دس ماہ میں اب تک پورے ملک سے پولیو کے ایک سو بتیس کیسز سامنےآ چکے ہیں۔

نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق ڈاکٹر بوسن نے بتایا کہ سب سے زیادہ کیسز صوبہ بلوچستان میں سامنے آئے ہیں ۔

انہوں نےتفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں پولیو کے چون کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ وفاق کےزیرِانتظام قبائلی علاقوں میں سینتیس، خیبر پختونخواہ میں گیارہ اور سندھ میں ستائیس کیسز سامنے آئے ہیں اس کے علاوہ پنجاب میں دو اورگلگت بلتستان میں پولیو کا ایک مریض سامنے آیا ہے۔

ڈاکٹر بوسن نے بتایا کہ پولیو کے خلاف مہم انیس سو چورانوے سے جاری ہے اور اب تک پاکستان کا پچھہتر فیصد علاقہ پولیو وائرس سے محفوظ ہوچکا ہے مگر اب بھی کہیں کہیں کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں انسدادِ پولیو کی ٹیموں کی رسائی مشکل ہے۔

ڈاکٹر بوسن نے بتایا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے یونین کونسل کی سطح پر کارکردگی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن اضلاع میں یہ کام بہتر طریقے سے ہورہا ہے وہاں پولیو وائرس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ضلعی سطح پر ڈی سی او کو اس کام کا انچارج بنانا چاہیے۔

"پولیو کے خلاف مہم انیس سو چورانوے سے جاری ہے اور اب تک پاکستان کا پچھہتر فیصد علاقہ پولیو وائرس سے محفوظ ہوچکا ہے مگر اب بھی کہیں کہیں کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں انسدادِ پولیو کی ٹیموں کی رسائی مشکل ہے"

ڈاکٹر بوسن

انہوں نے مزید کہا کہ اکثر کیسز وہاں سامنے آتے ہیں جہاں والدین بچوں کو پولیو ویکسین نہیں پلاتے اور جتنے بھی کیسز سامنے آئے ہیں ان میں ساٹھ فیصد ایسے بچے ہیں جن کے والدین نے انہیں پولیوس ویکسین نہیں پلوائی۔

انہوں نے کہا کہ یہ سراسر ناکامی ہے کہ ٹیمیں لوگوں کو سمجھا نہیں پا رہی ہیں، اس لیے وہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ علاقے کے اکابرین جن میں امام مسجد، سکول ٹیچر اور دیگر افراد کو اس عمل میں شامل کیا جائے۔

پاکستان میں گرمی کی وجہ سے پولیو ویکسین کے غیر مؤثر ہونے کے سوال پر انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ویکسین اتنی نازک نہیں ہوتی جتنا اسے سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے صرف ضروری ہے کہ اسے دو سے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جائے اور اس ویکسین کے اوپر ایک خاص ویکسین وائل مانیٹر بھی لگی ہوتی ہے جو دوا کے گرمی سے متاثر ہونے کی صورت میں اپنا رنگ تبدیل کر لیتی ہے۔

ڈاکٹر بوسن نے ان خبروں کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان کے پڑوسی ملک چین کے پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں پولیو وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مرض ہاتھ دھوئے بغیر کھانے پینے سے پھیلتا ہے مگر ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ چین کے صوبے سنکیانگ میں یہ کس ذریعے سے پہنچا ہے۔

ڈاکٹر الطاف بوسن نے مزید بتایا کہ افغانستان سے پاکستان میں اس وائرس کی آمد کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور افغانستان میں ویسے بھی پولیو کی صورتِ حال بہت زیادہ تشویش ناک نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔