آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 اکتوبر 2011 ,‭ 06:49 GMT 11:49 PST

’امداد میں تاخیر، بھوک سے اموات کا خدشہ‘

بین الاقوامی امدادی ادارے آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد میں تاخیر برقرار رہی تو متاثرین کی بھوک سے اموات شروع ہو جائیں گی۔

آکسفیم کی ترجمان ڈاکٹر نورین خالد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی تعداد تازہ اعداد و شمار کے مطابق نواسی لاکھ ہو چکی ہے لیکن ابھی تک امداد کے وعدے پورے نہیں ہو سکے ہیں اور متاثرین کی امداد کے لیے وسائل دستیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ متاثرین کی امداد کے حوالے سے بین الاقوامی برادری اور امداد دینے والے اداروں کو فوری طور پر متحرک کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں۔

واضح رہے کہ جمعہ کو اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے متاثرین کی امداد کے سرکاری ذخائر دس اکتوبر کو ختم ہوجائیں گے جبکہ متاثرین کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کی قریباً چھتیس کروڑ ڈالر کی درخواست کے جواب میں بھی صرف چھ فیصد حاصل ہو سکا ہے۔

کلِک سانگھڑ میں حالات سنگین

کلِک سیلاب: صورتحال تشویشناک، ڈبلیو ایچ او

کلِک کچھ نیا نہیں!

ڈاکٹر نورین خالد کے مطابق’امدادی اداروں کو اس وقت متحرک ہو جانا چاہیے تھا کیونکہ موجودہ صورتحال میں بھی بہت زیادہ دیر ہو گئی ہے اور اگر وہ فوری طور پر مدد کو نہیں آتے ہیں تو متاثرین کی بھوک سے اموات شروع ہو جائیں گی۔‘

اس وقت بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں، متاثرین کی کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور ان کے خوراک کے ذخائر سیلاب میں بہہ چکے ہیں، متاثرہ علاقوں میں اب تک پانی کھڑا ہے اور نکاسی آب کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ہے اور متاثرین تک رسائی میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اس صورت میں دیگر امدادی ایجنسیاں مدد کو نہیں آتی ہیں تو یہ سب کے لیے لحمۂ فکریہ ہے

ڈاکٹر نورین خالد

’اس وقت بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں، متاثرین کی کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور ان کے خوراک کے ذخائر سیلاب میں بہہ چکے ہیں، متاثرہ علاقوں میں اب تک پانی کھڑا ہے اور نکاسی آب کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ہے اور متاثرین تک رسائی میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اس صورت میں دیگر امدادی ایجنسیاں مدد کو نہیں آتی ہیں تو یہ سب کے لیے لحمۂ فکریہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات ہے کہ بین الاقوامی برادری اور امدادی اداروں کو اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن طریقے سے متحرک کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے سیلاب کے برعکس حالیہ سیلاب اس لیے زیادہ شدید ہے کیونکہ لوگ ابھی گزشتہ سال کے سیلاب کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار تھے اور مکمل طور پر ان کی بحالی ممکن نہیں ہو سکی تھی کہ اب بار پھر سیلاب سے متاثر ہو گئے ہیں۔

’ایک ہی سال میں دو بار سیلاب سے متاثر ہونے کی وجہ سے متاثرین میں نفسیاتی، جسمانی اور طبی طور پر حالات کا مقابلہ کرنے کی اہلیت کم ہو گئی ہے۔‘

اس وقت دو لاکھ چالیس ہزار خواتین حاملہ ہیں اور روزانہ چالیس بچوں کی ولادت ہو رہی ہے، اس کے علاوہ دس لاکھ سے زائد بچے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں جن میں جلد کے امراض اور ملیریا وغیرہ کا شکار ہیں اور ان لوگوں کو طبی امداد میسر نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت آکسفیم نے آٹھ لاکھ پچاس ہزار کے قریب متاثرین کو امداد کی فراہمی شروع کی ہے جس میں پینے کا صاف پانی اور نکاسی آب پر زیادہ توجہ مرکوز ہے۔ کیونکہ زیادہ تر بیماریاں یا طبی مسائل پانی کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔

’کیونکہ متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس لیے باقی امدادی ایجنسیوں کو بھی فوری طور پر مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔‘

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012

بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔