آخری وقت اشاعت:  جمعـء 30 ستمبر 2011 ,‭ 11:12 GMT 16:12 PST

نواب شاہ کا پانی سانگھڑ میں

سانگھڑ شہر میں نواب شاہ سے پانی مسلسل آ رہا ہے لیکن شہر سے پانی کی نکاسی کہیں سے بھی نہیں ہو رہی۔

سانگھڑ اور اس کے قریبی علاقوں میں اس تاثر کو بڑی تقویت مل رہی ہے کہ نواب شاہ اور میر پور خاص میں رہنے والی شخصیات کی آپس میں رشتہ داری اور قرابت داری کی وجہ سے اس شہر کو جان بوجھ کر پانی کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری جن کا تعلق نواب شاہ سے ہے وہاں کے رہائشیوں کے بقول اس شہر سے پانی کو نکالنے کے لیے طاقتور موٹریں لگائی گئی ہیں۔ چونکہ سانگھڑ زیریں علاقے میں ہے اس لیے وہاں سے پانی بڑی تیزی سے اس شہر میں داخل ہو رہا ہے۔

اس شہر کی سڑکوں پر تین تین فٹ تک پانی کھڑا ہے۔ جن لوگوں کے رشتہ دار کراچی حیدر آباد یا دیگر علاقوں میں موجود ہیں وہ لوگ تو اپنے گھر بار چھوڑ کر اہلِ خانہ سمیت وہاں چلے گئے لیکن جن کا کوئی بھی نہیں ہے ایسے لوگ اسی سیلابی پانی میں رہنے پر مجبور ہیں جس میں اب سیورج کا پانی بھی شامل ہوگیا ہے۔

سانگھڑ کی ان شاہراوں پر صرف ایک ٹرانپسورٹ ہی نظر آئے گی اور وہ ہے ٹریکٹر جن کے ڈرائیور بیس سے چالیس روپے فی کس کے حساب سے مسافروں سے وصول کرتے ہیں۔

ان شاہراہوں پر تعمیر ہوئے گھروں میں بھی تین سے چار فٹ تک پانی موجود ہے اور وہاں پر بھی بہت کم لوگ رہائش پذیر ہیں اور سیلابی پانی کا راج ہے۔

سیلاب کے اس پانی نے ڈسٹرکٹ جیل کے قیدیوں کو بھی نہیں بخشا اور جیل کے اندر بیرکوں میں بھی تین تین فٹ تک پانی کھڑا ہے۔ چنانچہ ان قیدیوں کو حیدر آباد جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

مقامی صحافی نواز کنبھر کا کہنا ہے کہ اس شہر کے مکینوں نے جب شہر میں موجود پانی کو نکالنے کے لیے مٹھڑاو نہر میں شگاف ڈالا تو پانی بڑی تیزی کے ساتھ گُزارنے لگا اور شہر کے مکینوں کو اس بات کا یقین ہونے لگا کہ بہت جلد سیلابی پانی شہر میں سے اُتر جائے گا لیکن اُنہیں کیا پتہ تھا کہ اُن کی یہ اُمید بہت جلد دم توڑ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ سانگھڑ سے نکالا جانے والہ پانی مٹھڑاو نہر سے میر پور خاص کی جانب جا رہا تھا جہاں سے یہ بدین اور پھر سمندر میں گرنا تھا لیکن اُس پانی کو میرپور خاص تک بھی نہیں پہنچنے دیا گیا اور اس نہر کو بند کروا دیا گیا۔

سیلاب سے متاثرہ متعدد افراد کا کہنا تھا کہ عمر کوٹ اور میر پور خاص سے ارکان قومی اسمبلی نواب یوسف تالپور اور منور تالپور نے مبینہ طور پر ضلعی انتظامیہ پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اس شگاف کو بند کروا دیا۔

منور تالپور صدر آصف علی زرداری کے بہنوئی اور رکن قومی اسمبلی فریال تالپور کے شوہر ہیں۔

اس ضمن میں وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ساتھ میرپور خاص کے دورے کے دوران جب منور تالپور سے میں نے یہ سوال پوچھا کہ اُنہوں نے نہر کا شگاف کیوں بند کروایا تو اُنہوں نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ اس شہر کی تحصیل حسین بخش مری سے ایک برساتی نالے سے سانگھڑ شہر کا پانی میر پور خاص میں داخل ہو رہا ہے۔

سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں سانگھڑ اور بدین کے دورے کے دوران اس تاثر کو بھی بڑی تقویت ملی کہ صدر آصف علی زرداری نے بین الاقوامی برادری سے امداد کی اپیل اُس وقت کی جب نواب شاہ ڈوب رہا تھا اس سے پہلے اُنہیں اس بات کا خیال تک نہیں آیا جب سندھ کے دوسرے علاقے سیلاب میں ڈوب ہوئے تھے۔

اب سانگھڑ شہر کی صورت حال یہ ہے کہ نواب شاہ سے پانی مسلسل آ رہا ہے لیکن اس شہر سے پانی کی نکاسی کہیں سے بھی نہیں ہو رہی۔

متاثرین کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہےاگر نواب شاہ سے آنے والا سانگھڑ میں داخل ہوسکتا ہے تو پھر اس شہر کا پانی میر پور خاص کی طرف کیوں نہیں جا سکتا۔

اس شہر کے دورے کے دوران میں نے یہی سوال یہاں سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی اور انسداد منشیات ڈویژن کے وفاقی وزیر خُدا بخش راجڑ کے سامنے رکھا اور کہا کہ وہ شہر کے باسیوں کو سیلابی پانی سے نجات دلانے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیوں نہیں کرتے تو پہلے تو اُنہوں نے ہنس کر سوال کو ٹال دیا بعدازاں جب میں نے اصرار کیا تو وہ کہنے لگے سائیں آپ کے بھی علم میں ہے تو پھر آپ مجھ سے کیوں اُگلوانا چاہتے ہو۔

خُدا بخش راجڑ کا تعلق مسلم لیگ فنکشنل گروپ سے ہے اور وہ چند ماہ پہلے ہی وفاقی کابینہ میں شامل ہوئے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر جادم منگریو کا تعلق بھی فنکشنل لیگ سے ہے اور وہ بھی سانگھڑ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ متاثرین کے مطابق سیلاب کے بعد وہ علاقے میں نظر نہیں آئے۔

فنکشنل لیگ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تمام معاملات پر بات چیت اس جماعت کے سربراہ پیر پگارا ہی کرتے ہیں۔

اس شہر میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی اشیاء کی بھی کمی دیکھائی دیتی ہے۔ امدادی سامان کے ٹرک لوٹنے کے سب سے زیادہ واقعات بھی اسی شہر میں ہوئے ہیں۔

سانگھڑ سے کچھ معلومات ملی ہیں کہ وہاں پر پانی کھنچنے کی موٹریں لگائی گئی ہیں جس کا پانی ایک برساتی نالے میں پھینکا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنا پانی ہے اُس کو نکالنے میں بھی دو سے تین ماہ کا عرصہ درکار ہے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔