آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 ستمبر 2011 ,‭ 13:55 GMT 18:55 PST

جلال الدین حقانی کبھی امریکہ گئے ہی نہیں

یہ تصویر حزب اسلامی افغانستان (خالص گروپ) کے سربراہ مولوی یونس خالص مرحوم کی ہے۔

پاکستان میں جب بھی افغان طالبان یا پاکستانی شدت پسندوں کے حوالے سے کوئی اہم بات آتی ہے تو ٹی وی اینکرز اور ریٹائرڈ فوجی افسران قیمتی ٹائیاں پہن کر ٹی وی سکرینز کے سامنے نمودار ہوجاتے ہیں اور پھر تجزیوں میں ایک دوسرے سے بازی لینے کےلیے سانس لینے کا انتظار بھی نہیں کرتے۔

تصویر میں نظر آنے والے مجاہدین کمانڈر جلال الدین حقانی نہیں بلکہ حزب اسلامی افغانستان (خالص گروپ) کے سربراہ مولوی یونس خالص مرحوم ہیں۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مبصرین کی افغانستان اور قبائلی علاقوں کے حوالے سے معلومات اتنی کمزور ہوتی ہے کہ بعض اوقات وہ اتنی بڑی غلطی کرجاتے ہیں کہ جلال الدین حقانی جیسے بڑے رہنما کو بھی پہچان نہیں پاتے۔

گزشتہ چار پانچ دنوں سے ذرائع ابلاغ میں ایک تصویر چل رہی ہے جس میں ان تجزیہ نگاروں کے مطابق طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کو سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ لیکن تصویر میں نظر آنے والے مجاہدین کمانڈر جلال الدین حقانی نہیں بلکہ حزب اسلامی افغانستان (خالص گروپ) کے سربراہ مولوی یونس خالص مرحوم ہیں۔ یونس خالص کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تصویر مولوی یونس خالص کے دورہء امریکہ کے دوران بنائی گئی تھی۔

یہ تصویر بدھ کے روز شائع ہونے والے پاکستان کے قومی اور مقامی اخبارات میں نمایاں طورپر شائع کی گئی ہے۔ زیادہ تر اخبارات اور ویب سائٹس پر یہ تصویر صفحہء اول پر لگائی گئی ہے جبکہ ایک انگریزی اخبار نے اس تصویر کو چھ کالم میں بڑا کر کے چھاپا ہے۔

جلال الدین حقانی کے قریب رہنے والے بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ جلال الدین حقانی نے زندگی میں کبھی امریکہ یا یورپ کا دورہ نہیں کیا۔ اسی کی دہائی میں بعض جہادی کمانڈر امریکہ کے دورے پر گئے تھے لیکن وہ ان میں شامل نہیں تھے۔

ایک دو دنوں سے یہی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر بھی نظر آرہی ہے جس پر لوگ طرح طرح کے رائے دے رہے ہیں اور حقانی نیٹ ورک کو امریکی سی آئی اے سے جوڑا جارہا ہے۔

چند دن قبل وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغان طالبان کمانڈر امریکی سی آئی اے کا پیدا کردہ ہے اور اس بیان کے بعد یہ تصویر سامنے آئی تھی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ منگل کی رات مختلف نجی ٹیلی ویژن چینلوں کےٹاک شوز میں اس بات پر بحث ہورہی تھی کہ حقانی نیٹ ورک خود امریکہ کا پیدا کردہ تنظیم ہے اور پھر اسی تصویر کو بنیاد بناکر شواہد کے طورپر پیش کیا جاتا رہا۔ ان شوز میں فوج کے بعض اہم ریٹائرڈ جرنیل اور آئی ایس آئی کے سابق افسران بھی شریک تھے جن کا افغان مجاہدین کمانڈروں سے انتہائی قریبی تعلق رہا ہے۔

جلال الدین حقانی کے قریب رہنے والے بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ جلال الدین حقانی نے زندگی میں کبھی امریکہ یا یورپ کا دورہ نہیں کیا۔ اسّی کی دہائی میں بعض جہادی کمانڈر امریکہ کے دورے پر گئے تھے لیکن وہ ان میں شامل نہیں تھے۔

کچھ عرصہ سے ملکی اور غیر ذرائع ابلاغ میں جلال الدین حقانی اور اس کے بیٹے سراج الدین حقانی کے گروپ کو ’حقانی نیٹ ورک‘ کے نام سے یاد کیا جا رہا ہے اور ایک ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جیسے وہ ملا عمر کی سرہراہی میں لڑنے والے طالبان مزاحمت کاروں سے الگ ایک تنظیم ہے یا وہ ان سے طاقت ور ہیں۔

فغان مجاہدین کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی کا تعلق افغان صوبہ پکتیا کے ضلع واضعہ ذدران سے ہے۔ انہوں نے سن انیس سو چوہتر میں افغان صدر سردار داؤد کے دور میں افغانستان سے ہجرت کرکے شمالی وزیرستان آئے تھے۔

افغان امور پر نظر رکھنے والے اکثر تجزیہ نگار اس بات پر متفّق ہیں کہ جلال الدین حقانی طالبان تحریک کے اہم کمانڈروں میں شامل ہیں اور وہ ہر اقدام کےلیے ملاعمر کے حکم کے تابع ہیں۔

افغان طالبان نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں طالبان تحریک میں ’حقانی نیٹ ورک‘ نام کی کسی تنظیم کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ جلال الدین حقانی کوئی الگ طاقت یا گروپ نہیں بلکہ وہ تمام کاروائیوں کےلیے ’اسلامی امارات‘ سے ہدایات لیتا ہے۔ بیان میں جلال الدین حقانی کو شاندار الفاظ میں یاد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ افغان مجاہدین کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی کا تعلق افغان صوبہ پکتیا کے ضلع واضعہ ذدران سے ہے۔ انہوں نے سن انیس سو چوہتر میں افغان صدر سردار داؤد کے دور میں افغانستان سے ہجرت کرکے شمالی وزیرستان آئے تھے۔ وہ سابق روس کے خلاف جہاد کے دنوں میں حزب اسلامی افغانستان (خالص) کے سربراہ مولوی محمد یونس خالص کے کمانڈر تھے۔ تاہم سنہ 96 -1995 میں جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو وہ ان کے ساتھ شامل ہوگئے اور بعد وہ وزیر سرحدات بھی رہے۔

بتایا جاتا ہے کہ جلال الدین حقانی کو پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں پکتیا، پکیتکا، خوست اور گردیزمیں خاصا اثر رسوخ حاصل ہے۔ ان کی ایک بیوی عرب ملک یمن سے تعلق رکھتی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔