آخری وقت اشاعت:  پير 26 ستمبر 2011 ,‭ 14:44 GMT 19:44 PST

سیلاب: صورتحال تشویش ناک، ڈبلیو ایچ او

سیلاب

نو اضلاع میں اس وقت 12 ملین ایکڑ فٹ پانی موجود ہے

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع نوشہروفیروز، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار اور تھرپارکر میں صحت کی صورتحال تشویش ناک ہے، ان اضلاع میں مستقل توجہ اور نگہداشت کی ضرورت ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ ان متاثرہ اضلاع میں ملیریا کو کنٹرول کرنے کے پروگرام کو موثر بنانے، مچھردانیاں اور ملیریا کی فوری تشخیص کے ٹیسٹ کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے تقریباً 300 مقامات سے پانی کے نمونے حاصل کیے گئے جہاں سے متاثرین کو پانی فراہم کیا جاتا ہے ۔ ان نمونے کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ چھیانوے فیصد مقامات سے ملنے والا پانی قابل استعمال نہیں ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے چار کروڑ پانچ لاکھ امریکی ڈالرز کی اپیل کی ہے تاکہ چھ ماہ تک صحت اور خوراک کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

دوسری جانب ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز کی گشتی ٹیمیں بدین کے سیلاب سے متاثر علاقوں میں پہنچ گئی ہیں، تنظیم کے فیلڈ ایمرجنسی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ارون لائیوڈ کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر پانی کھڑا نظر آتا ہے اور متاثرین نے پلاسٹک کی شیٹوں کی مدد سے عارضی سائبان بنالیے ہیں۔

سیلاب

مچھردانیاں اور ملیریا کی فوری تشخیص کے ٹیسٹ کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایچ او

ڈاکٹر ارون لائیوڈ کا کہنا ہے کہ کہیں بھی لیٹرین نظر نہیں آتی، حفظان صحت کے انتظامات نہ ہونے کے باعث انفیکشن اور آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریوں کے خدشات بڑہ جاتے ہیں، ان کے مطابق متاثرین میں جلد کے امراض اور ڈائریا عام ہیں جبکہ بچوں میں واضح طور پر خوراک کی کمی دیکھی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرین کی تعداد اٹھاسی لاکھ سے بھی تجاویز کر گئی ہے۔ صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بدین میں دس لاکھ، نوابشاھ اور سانگھڑ میں نو نو لاکھ اور عمرکوٹ میں آٹھ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 413 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں نوے بچے اور چھیانوے خواتین تھیں۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق پونے سات لاکھ لوگ اس وقت کیمپوں میں ہیں جن میں پونے تین لاکھ بچے اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد خواتین ہیں۔

دریں اثنا صوبائی محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ سندھ کے متاثرہ نو اضلاع میں اس وقت 12 ملین ایکڑ فٹ پانی موجود ہے جو تقریبا ساڑھ اکیس ہزار کلومیٹر علاقے پر پھیلا ہوا ہے، محکمہ آبپاشی کا اندازہ ہے اس پانی کی نکاسی میں کم سے کم بھی تین ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

محکمہ آبپاشی کی جانب سے سیٹلائیٹ تصاویر کے تجزیے سے بنائی گئی رپورٹ کے مطابق میرپورخاص نوے فیصد، سانگھڑ بیالیس فیصد، بدین اٹھاون فیصد، عمرکوٹ چوبیس فیصد، بینظیر آباد ستاون فیصد ٹھٹہ تیس فیصد اور حیدرآباد چھ فیصد زیر آب ہے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔