آخری وقت اشاعت:  جمعـء 23 ستمبر 2011 ,‭ 13:48 GMT 18:48 PST

سندھ میں سیاسی بنیادوں پر امداد

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے ‘این ڈی ایم اے’ کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سامان کی تقسیم درست نہیں ہو رہی اور کچھ علاقوں میں سیاسی بنیاد پر سامان تقسیم ہور ہا ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے کئی آفات نمٹائی ہیں لیکن آپ صحیح کہہ رہے ہیں کہ ہم نے سامان تقسیم کرنے کے حوالے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔۔ ہم سامان حاصل کرتے ہیں، پہچاتے ہیں لیکن تقسیم کا مسئلہ ہے اُسے ٹھیک کرنا ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ جمعہ تک ڈھائی لاکھ خیمے اور ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب ‘فیملی راشن بیگ’ سندھ روانہ کردیے ہیں۔ ان کے بقول سامان کی تقسیم میں دشواریاں ہیں اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی مشینری محدود ہے اور وہ ملازین خود بھی متاثر ہوئے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ سندھ کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں سامان اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سیاسی بنیادوں پر تقسیم کر رہے ہیں تو انہوں نے بعض علاقوں میں اس طرح کی شکایات کی تصدیق کی اور کہا کہ امدادی سامان کی تقسیم کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے اس میں ان کا عمل دحل نہیں ہے۔

جب ان سے پوچھا کہ بلوچستان کے کچھ اضلاع میں بھی بارشیں ہوئی ہیں لیکن اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوتی تو انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صرف جعفرآباد اور نصیر آباد میں نقصان ہوا ہے اور وہ علاقہ بہت کم ہے اس لیے صوبائی ڈزاسٹر اتھارٹی نے صورتحال پر قابو پالیا ہے اور لوگوں کو امداد مل رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ماہرین کہتے ہیں کہ مون سون کی بارشوں کا سلسلہ بھارتی ریگستان سے سندھ کے جنوب مشرق کی طرف منتقل ہوا ہے اور آئندہ اٹھارہ سے بیس برس تک ہر سال زیادہ بارشوں کا امکان ہے اس لیے ابھی سے تیاری کرنی ہوگی۔

‘سندھ کے جن علاقوں میں یہ تیز بارشیں ہوئی ہیں وہاں گزشتہ ایک سو سال میں کبھی اتنی مقدار میں بارش نہیں ہوئی۔۔۔دو روز میں تین سو چالیس ملی میٹر بارش ہوئی۔”

جب انہیں یاد کرایا کہ محکمہ موسمیات تو کہتا ہے کہ انہوں نے وقت سے پہلے ہی شدید بارشوں کے لیے خبردار کیا تھا تو ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے کہا کہ ‘میٹ آفس نے آٹھ اکتوبر کو پیش گوئی کی اور دس کو بارشیں ہوگئیں۔۔ ڈیڑھ دو روز میں کوئی حکومت اتنا انتظام نہیں کر سکتی۔”

ان کے بقول ‘میٹ آفس’ کے پاس تین دن سے زیادہ کی پیشنگوئی کی گنجائش ہی نہیں ہے اور انہوں نے جون میں کہا تھا کہ رواں سال مون سون میں بارشیں معمول سے دس فیصد کم ہوں گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزارت پانی و بجلی اور سندھ کا محکمہ آبپاشی مل کر پانی نکالنے کی حکمت عملی بنا رہے ہیں اور لگتا ہے کہ ڈیڑھ دو ماہ تک یہ پانی رہے گا۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔