
سول ہپستال انتظامیہ نے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے فارمولے کے تحت یہ گدھا گاڑی سروس شروع کی ہے
میرپور خاص کی سٹیشن روڈ سے ایک ایمبولنس تیزی سے ہوٹر بجاتی ہوئی سِول ہپستال کے باہر پہنچتی ہے تو وہاں مرکزی دروازے سے ہسپتال کی عمارت تک مریض کو منتقل کرنے کے لیے کوئی سٹریچر موجود نہیں بلکہ سیلابی پانی میں ڈوبے اس ہسپتال میں اس مقصد کے لیے گدھا گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔
یہ ہسپتال گزشتہ ایک ہفتے سے زیرِ آب ہے اور انتظامیہ نے جہاں ایک گدھا گاڑی عملے کے لیے مختص کی ہے وہیں دوسری گدھا گاڑی مریضوں اور تیمارداروں کے لیے چلائی جاتی ہے جن سے فی کس دس روپے کرایہ لیا جاتا ہے۔
میرپورخاص سول ہپستال انتظامیہ نے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے فارمولے کے تحت یہ گدھا گاڑی سروس شروع کی ہے مگر سانگھڑ سول ہپستال کے مریض اس سے بھی محروم ہیں۔
ابتدائی دِنوں میں تو ڈاکٹر بھی گدھا گاڑی پر ہپستال جاتے رہے مگر اب وہ مزاحمت کر رہے ہیں۔ بعض ڈاکٹروں نے باہر ہی بینچ لگا لیے ہیں جہاں وہ مریضوں کو دوائیں لکھ کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر لیکھراج نے بتایا کہ ہپستال کے اندر تین سے چار فٹ پانی کھڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’اس پانی میں ہیپاٹائٹس کی استعمال شدہ سرنجیں اور دیگر فضلہ بھی موجود ہے، گندگی اس سے الگ ہے۔ ایسی صورتحال میں ڈاکٹر کیسے جاسکتے ہیں؟‘

سیلاب کے بعد مریضوں نے مجبوری میں پرائیوٹ ہپستالوں کا رخ کیا ہے
میر پور خاص سِول ہپستال میں عام حالات میں روزانہ دو ہزار مریض آتے ہیں لیکن سیلاب کے بعد مریضوں نے مجبوری میں پرائیوٹ ہپستالوں کا رخ کیا ہے، جہاں تین سو سے پانچ سو رپے فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ ادویات الگ سے خریدنی پڑتی ہیں۔
لیکن کچھ مریض ہپستال کی اس حالت میں بھی زیرِ علاج ہیں۔ جان بی بی کا بھتیجا بھی اندر تھا اور وہ ڈاکٹروں کے اندر جانے کے لیے منت سماجت کرتی رہیں۔
’مریض اندر تڑپ رہا ہے، سارے ڈاکٹر یہاں موجود ہیں اسے رات سے الٹیاں آ رہی ہیں۔ اگر مریض مر گیا تو کون ذمہ دار ہو گا۔‘
صحت کے عالمی ادارے ’ڈبلیو ایچ او‘ کے مطابق حالیہ بارشوں سے اور سیلاب سے سندھ میں سو سے زائد صحت مراکز متاثر ہوئے ہیں۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔