
متاثرینِ سیلاب میں بتیس فیصد خواتین ہیں جن میں ایک لاکھ کے قریب حاملہ ہیں: آکسفیم
برطانوی فلاحی ادارے آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر متاثرینِ سیلاب کو صاف پانی اور نکاسی کی سہولیات فوری طور پر بہم نہیں پہنچائی جاتیں تو وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے جن میں ہیضہ، ڈینگی، ملیریا اور ہیپی ٹائٹس کی بیماریاں شامل ہیں۔
آکسفیم کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ متاثرینِ سیلاب میں بتیس فیصد خواتین ہیں جن میں ایک لاکھ کے قریب حاملہ ہیں اور انہیں امراض لگنے کا بہت زیادہ خدشہ ہے۔
کلِک ’بہت ہی غیر متوقع شدت کی تباہی ہے‘
کلِک سندھ سیلاب: پینسٹھ لاکھ افراد متاثر
آکسفیم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لوگ پہلے ہی گزشتہ سال کے سیلاب سے پوری طرح بحال نہیں ہو پائے تھے کہ انہیں ایک اور تباہی نے آگھیرا ہے اور جس سے ان کی مزاحمت اور برداشت کرنے کی قدرتی استطاعت کو شدید دھچکا لگا ہے۔
آکسفیم کی کنٹری ڈائریکٹر نیوا خان کا کہنا ہے ’خوراک، پانی، سائبان، اور نکاسی کی عدم سہولیات نے لوگوں کی مدافعتی قوت کو مزید کمزور کردیا ہے جس کے باعث خواتین، بچوں اور ضیعف العمر افراد کو بیمار ہونے کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔‘
ادارے کا کہنا ہے کہ صاف پانی اور نکاسی کی سہولیات بنیادی ضروریات ہیں جن کے ذریعے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے اور مزید تباہی سے بچا جا سکتا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے پہنچنے والا نقصان گزشتہ سال کے سیلاب کی طرح شدید ہے۔

چار لاکھ پچھہتر ہزار سیلاب متاثرین کا کیمپوں میں اندراج کیا جا چکا ہے
نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں نیوز کانفرس کے دوران ایک سوال کے جواب میں بانکی مون نے کہا کہ سیلاب کے مسئلے پر ان کی صدر آصف علی زرداری سے بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا ’مجھے بہت افسوس ہے کہ پاکستان کو گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کی طرح اس سال بھی شدید سیلاب کا سامنا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’ہم نے ایک اعلیٰ سطح کا جائزہ مشن فوری طور پر روانہ کر دیا تھا اور ان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حالیہ سیلاب سے پہنچنے والا نقصان اتنا ہی شدید ہے جتنا کہ گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے نتیجے میں پہنچا تھا‘۔
بانکی مون کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے کہ کس طرح کی امدادی سرگرمیاں شروع کی جانی چاہیے، اور میرا یقین ہے کہ آئندہ چند روز کے اندر اقوام متحدہ اس پوزیشن میں ہو گی کہ سیلاب سے پہنچنے والے نقصان کا پہلے اندازہ لگانے کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیاں شروع کر سکے۔
جمعہ کو صوبہ سندھ میں صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق متاثرینِ سیلاب کی تعداد پینسٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ کئی اضلاع میں سیلاب سے پہنچنے والے نقصان کی مزید تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

سیلاب سےمتاثرہ افراد کو کھانے پینے اور دیگر اشیا کی شدید ضرورت ہے
ادارے کے مطابق اس وقت تک چار لاکھ پچھہتر ہزار متاثرین سیلاب کا کیمپوں میں اندراج کیا جا چکا ہے اور انھیں خوراک سمیت دیگر ضروری سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔ ’حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 269 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ستتر خواتین اور چھپن بچے شامل ہیں۔‘
اس سے پہلے جمعرات کو پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد میں سے تئیس لاکھ نوے ہزار مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان ارشاد بھٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عالمی اداروں سے فوری امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہزاروں افراد کی جانیں بچانے کے لیے آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے بتایا کہ چھ لاکھ سولہ ہزار پانچ سو سے زیادہ افراد آشوب چشم، پانچ لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب جِلدی بیماریوں اور ساڑھے سات لاکھ ہیضے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ جس میں سے ان کے مطابق چار لاکھ تیرہ ہزار سے زیادہ مریض ایسے ہیں جنہیں خونی ہیضہ ہے۔
ترجمان نے بتایا ہے کہ دو لاکھ ستر ہزار سے زیادہ لوگ سانس کی بیماری جبکہ ایک لاکھ پچاسی ہزار سے زیادہ ملیریا کا شکار ہیں اور ملیریا کا شکار سولہ سو ساٹھ افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
اس سے پہلے صوبہ سندھ میں متاثرینِ سیلاب کی مدد کرنے والے بین الاقوامی ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ اس سیلاب سے پچاس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جن کو کھانے پینے اور دیگر اشیا کی شدید ضرورت ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سیلاب کی صورتحال کی وجہ سے امریکہ کا دورہ منسوخ کر دیا ہے، جہاں انھوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیراعظم کی جگہ اب وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اجلاس میں شرکت کریں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم گیلانی سنیچر سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ شروع کریں گے اور وہاں پر جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے۔

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔