
بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں پرتشدد واقعات کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے
ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری کے زیرِ صدارت سندھ پر بلائے گئے اجلاس میں ذوالفقار مرزا کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کو ان کا ذاتی فعل قرار دیا گیا ہے۔
ایوانِ صدر میں ہونے والے اجلاس میں سندھ کے وزیرِ اعلیٰ قائم علی شاہ، سندھ اسمبلی کے سپیکر نثار احمد کھوڑو، صوبائی وزیر پیر مظہر الحق، میر نادر مگسی، شرجیل میمن، اور صوبائی وزیر داخلہ منظور حسین واسن سمیت کئی رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس نے ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس کو ان کا ذاتی فعل قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے اس فعل کو ڈسپلن کی ناقابلِ قبول خلاف ورزی بھی قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق صوبائی وزیر داخلہ اور سینیئر وزیر ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس بینظیر بھٹو کی شروع کی گئی مفاہمتی پالیسی کے منافی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مفاہمتی پالیسی کو جاری رکھا جائے گا اور تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے اجلاس کو مطلع کیا کہ ذوالفقار مرزا کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور ان کا استعفیٰ قبول کر لیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں پرتشدد واقعات کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔
دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس میں میں کہا کہ سپریم کورٹ کو ذوالفقار مرزا سے ثبوت لینے چاہییں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم میڈیا پر آ کر صرف یہ کہہ دے کہ ذوالفقار مرزا کی جانب سے لگائے گئے الزامات غلط ہیں۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔