آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 جولائ 2011 ,‭ 11:51 GMT 16:51 PST

’بھائی باتھ روم میں ہیں‘

’کیا حامد کرزئی صاحب سے بات ہو سکتی ہے‘۔ راقم نے فون اُٹھانے والے سے پوچھا۔

’بھائی تو اس وقت باتھ روم میں ہیں۔ آپ بی بی سی سے بات کر رہے ہیں‘

’جی‘

’تو مجھ سے بات کرلیں، میں اُن کا بھائی ہوں احمد ولی کرزئی‘

’بہت شکریہ۔ میں تھوڑی دیر میں فون کر لوں‘

’جیسے آپ کی مرضی‘

ستمبر 2001 کے بعد افغانستان پر فوج کشی ہونے کو تھی کئی ریٹائرڈ مجاہد اور گمنام قبیلوں کے نامعلوم قبائلی رہنما شہ سرخیوں میں گھس کر اپنے آپ کو افغانستان کے رہنما کے طور پر پیش کر رہے تھے۔

چند دن قبل ہی دنیا کا سارا میڈیا پشاور میں ایک سابق مجاہد کمانڈر کے گھر جمع تھا۔ عبدالحق کو دبئی میں ان کی ریٹائرڈ زندگی سے نکال کر لایا گیا تھا اور پھر امریکی جاسوس اداروں اور اخباروں نے چند ہی دنوں میں انہیں افغانستان کے نجات دہندہ کے عہدے پر فائز کر دیا۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ایک سٹیلائیٹ فون اور ڈالروں سے بھرا ایک سوٹ کیس لے کر افغانستان کو آزاد کرانے کے لیے ابھی افعانستان میں گھسے ہی تھے کہ طالبان نے بغیر علیک سلیک کے انہیں ہلاک کر دیا۔

مغربی میڈیا ابھی طالبان کا صحیح تلفظ سیکھ ہی رہا تھا لیکن پھر بھی یاروں نے اِسے طالبان کی بربریت کی ایک اور داستان کے طور پر پیش کیا۔ حلانکہ ایک ریٹائرڈ آدمی کو ڈالروں سے بھرا سوٹ کیس دے کر اِن ظالم طالبان کے دیس میں بھیجنا بھی تو ایک طرح کی بربریت تھی۔

جب افغانستان پر حملہ شروع ہوا تو ایک اور نجات دہندہ کا نام دیا گیا۔ کوئٹہ میں رہائش رکھتے تھے، ممتاز قبائلی رہنما تھے، معروف کمانڈر تھے لیکن ان کا یہ تعارف صرف پاکستانی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے مقامی اہلکاروں تک تھا راقم اور راقم کے مدیران نے تو کبھی کرزئی کا نام بھی نہیں سنا تھا۔

جب افغانستان پر حملہ شروع ہوا تو ایک اور نجات دہندہ کا نام دیا گیا۔ کوئٹہ میں رہائش رکھتے تھے، ممتاز قبائلی رہنما تھے، معروف کمانڈر تھے لیکن ان کا یہ تعارف صرف پاکستانی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے مقامی اہلکاروں تک تھا راقم اور راقم کے مدیران نے تو کبھی کرزئی کا نام بھی نہیں سنا تھا۔

لیکن باقی صحافیوں کی طرح ہم نے بھی نمبر گھمایا۔ پھر دوبارہ گھمایا تو ایک سٹیلائیٹ فون کا نمبر دیا گیا اِس بار فون خود بڑے بھائی حامد کرزئی صاحب نے اٹھایا اور فرمانے لگے کہ اس وقت قندھار کے نزدیک ایک نامعلوم پہاڑی سے بات کر رہا ہوں۔ ’ہم افغانستان کو طالبان کے چنگل سے آزاد کروائیں گے، وغیرہ وغیرہ‘

راقم یہ سوچتا ہی رہ گیا کہ حضرت بیس منٹ کے اندر اندر کوئٹہ کے باتھ روم سے قندھار کی پہاڑیوں تک کیسے پہنچے!

یہ واقعہ مجھے احمد کرزئی کی ہلاکت کے بعد امریکی اخباروں میں اُن کے بارے میں لکھی جانے والی تعزیتی تحریریں پڑھ کر یاد آیا۔

ان کے امریکی مداحوں نے انہیں ایک ہی جملے میں منشیات کا سمگلر بھی کہا، بے لگام جنگجو سردار بھی اور ساتھ ہی امریکہ کا سچا ساتھی بھی جس کے بعد افغانستان کے جنوب میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔

ایک صحافی نے شاعرانہ مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکی کمانڈر احمد کرزئی سے ہاتھ ملانے کے بعد یقیناً اپنے ہاتھ دھوتے ہوں گے۔ معلوم نہیں اس سے امریکیوں کی صفائی پسندی کیسے ثابت ہوتی ہے۔ معلوم نہیں گلے لگانے کے بعد کیا کرتے ہوں گے۔

کرزئی کے بھائی کے جنازے پر بھی حملہ ہوا

عین ممکن ہے مرحوم ولی کرزئی بھی امریکیوں سے ہاتھ ملانے کے بعد وضوع دوبارہ کر لیتے ہوں۔ مگر دونوں کے ہاتھ دھوتے دھوتے ایک پورا ملک غرقاب ہونے کو آگیا ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ راقم نہیں جانتا کہ جب بڑے بھائی فون پر بات کر رہے تھے تو وہ اپنی جنگ غسل خانے سے لڑ رہے تھے یا قندھار میں مورچہ زن تھے۔ لیکن یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ جب دو مہینے بعد دسمبر 2001 میں جرمنی میں حامد کرزئی کی تاج پوشی کی گئی تو وہ کسی محاذِ جنگ پر نہیں تھے بلکہ امریکی فوجیوں کی حفاظت میں تھے۔ اور دس سال گزرنے کے بعد آج بھی ہیں۔

اور امید ہے کہ باتھ روم جاتے ہونگے تو بھی پہرہ باہر امریکی ہی دیتے ہونگے کیونکہ اب تو خاندانی محافظوں سے اعتبار اُٹھ گیا۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2013 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔