آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 جولائ 2011 ,‭ 21:37 GMT 02:37 PST

کراچی:’بعض کا فریقین سے کوئی تعلق نہیں‘

فائل فوٹو، کراچی ہلاکتیں

کراچی میں لسانی بنیادوں پر جاری پرتشدد واقعات میں کچھ ایسے بھی لوگ نشانہ بن رہے ہیں جن کا فریقین سے کوئی تعلق نہیں ہیں۔

سہیل لاثانیل مسیحی بھی ان میں شامل ہیں، جو سب سے زیادہ شورش زدہ علاقے قصبہ کالونی کے رہائشی تھے۔

سہیل لاثانیل کے عزیز عدیل پیٹرکس نے بتایا کہ قصبہ کالونی میں ایک طرف پشتون اور دوسری طرف اردو بولنے والی آبادی ہے، ان کے بہنوئی سہیل اردو بولنے والی آبادی میں جبکہ وہ ( سہیل کے سسرال) پشتو بولنے والی آبادی میں رہتے تھے۔

بدھ کی شام سہیل ان سے ملنے کے لیے آگئے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس ہنگامہ آرائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدیل کے مطابق علاقے میں کسی نے کوئی بات پھیلا دی جس کے نتیجے میں ان کے پیچھے کچھ لوگ لگ گئے۔

’ کوئی تیس چالیس مسلح افراد نے ہمارے گھر کو گھیرے میں لے لیا اور سب کو یرغمال بنا کر سہیل کو گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ باہر لے گئے اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد میں گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے، ہمیں انہوں نے صرف یہ کہا کہ یہ مخالفین کے لیے مخبری کرتا ہے ۔‘

سہیل مسیحی کے خاندان نے پولیس اور مقامی لوگوں سے رابطہ کیا مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ عدیل کے مطابق’ انہوں نے پولیس کے ایمرجنسی ٹیلیفون نمبر پر رابط کرکے مدد کی درخواست کی مگر ڈیوٹی پر موجود افسر نے انہیں بتایا کہ وہ بے اختیار ہیں حکومت کی طرف سے کارروائی کے احکامات نہیں ہیں۔‘

پولیس کے ایمرجنسی ٹیلیفون نمبر پر رابط کرکے مدد کی درخواست کی مگر ڈیوٹی پر موجود افسر نے انہیں بتایا کہ وہ بے اختیار ہیں حکومت کی طرف سے کارروائی کے احکامات نہیں ہیں

عدیل

’ کوئی صبح ساڑھے پانچ بجے ہمیں پتہ چلا کہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے اور لاش عباسی ہپستال میں موجود ہے۔ وہاں جا کر دیکھا کہ تشدد کے ساتھ ان کے جسم پر گولیوں کے سات نشانات موجود تھے۔‘

سہیل لاثانیل کا تعلق صوبہ پجناب کے شہر گوجرانوالہ سے تھا وہ ایک بینک میں ملازم تھے جہاں سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لے لی تھی، ان کے ماموں رابن جولیس بینظیر بھٹو کی حکومت میں مملکتی وزیر رہے ہیں۔

عدیل پیٹرکس اور ان کے خاندان نے اس واقعے کے بعد اپنا گھر چھوڑ دیا ہے، ان کے مطابق قصبہ کالونی اور اسلامیہ کالونی میں واحد ان کا ہی اقلیتی گھر تھا، وہ سمجھتے ہیں کہ بطور اقلیتی ان سے بہت زیادہ زیادتی کا رویہ اختیار کیا گیا ہے۔

سہیل لاثانی کی میت لیکر ان کی بیگم اور بارہ سال بیٹی گوجرانوالہ روانہ ہو رہے ہیں جہاں ان کی تدفین ہوگی۔

سہیل کی طرح اوکاڑہ کے رہائشی اختر حسین کا بھی ان فسادات سے کوئی براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔ پیر آباد کے علاقے میں چالیس سالہ اختر حسین نے گھر سے باہر جیسے ہی جھانکا تو نامعلوم سمت سے آنے والی دو گولیاں ان کی گردن میں لگیں اور وہ زخمی ہوگئے۔

اختر حسین کے قریبی رشتے دار محمد اکرم نے بتایا کہ انہوں نے ایمبولینس کو بلایا جب تک اختر تڑپتے رہا، اور بعد میں جب اسے ہپستال کی طرف لے جا رہے تھے تو ایمبولینس پر فائرنگ کی گئی۔

صبح سے وہ پولیس حکام کو ٹیلیفون کر رہے ہیں کہ کوئی بکتر بند گاڑی بھیج کر مقتول کے خاندان کو باہر نکالے تاکہ وہ میت کے ساتھ جا سکیں مگر سوائے آسروں کے کسی نے کوئی مدد نہیں کی

اکرم

’بچتے بچاتے قطر ہسپتال پہچنے تو وہاں ایمرجنسی شعبے میں کوئی انتظام نہیں تھا، وہاں اختر کی سانسیں اکھڑ گئیں اور وہ فوت ہوگئے۔‘

اکرم نے بتایا کہ اختر کی اہلیہ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کا شوہر زندہ ہے یا فوت ہوگیا ہے کیونکہ جب وہاں سے لیکر آ رہے تھے تو اس کی سانسیں چل رہی تھیں اب ان کا وہاں رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں کیونکہ دو روز سے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے موبائل ٹیلیفون بھی چارج نہیں ہیں۔

اختر حسین کی میت اوکاڑہ جانی ہے جہاں اس کے والدین اور رشتے دار منتظر ہیں، محمد اکرم کے مطابق صبح سے وہ پولیس حکام کو ٹیلیفون کر رہے ہیں کہ کوئی بکتر بند گاڑی بھیج کر مقتول کے خاندان کو باہر نکالے تاکہ وہ میت کے ساتھ جا سکیں مگر سوائے آسروں کے کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔

رنچھوڑ لائن کے رہائشی چوبیس سالہ زبیر بیگ بھی بدھ کو لاپتہ ہوگئے تھے، بعد میں اس کی تشدد شدہ لاش ملی۔ زبیر کے والد کے دوست محمد سلمان نے بتایا کہ زبیر اچانک لاپتہ ہوگیا جس کو رشتے دار ڈھونڈتے رہے مگر کوئی پتہ نہیں چلا۔ جمعرات کی صبح ایدھی سینٹر سے ٹیلیفون آیا اور جب وہاں جا کر دیکھا تو زبیر کی لاش موجود تھی۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔