آخری وقت اشاعت:  منگل 21 جون 2011 ,‭ 17:10 GMT 22:10 PST

حزب التحریر سے روابط، حاضر سروس بریگیڈئر زیرِ حراست

بریگیڈئر علی خان

بریگیڈئر علی خان نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں مستقبل کے فوجی افسران کو تعلیم دیتے رہے ہیں: (تصویر بشکریہ این ڈی یو)

پاکستانی فوج کے صدر دفاتر (جی ایچ کیو) میں تعینات ایک سینیئر فوجی افسر کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے بارے میں، پاکستانی فوج کے مطابق، کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ڈیڑھ ماہ قبل اچانک ’لاپتہ‘ ہونے والے بریگیڈئر علی خان جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں ریگولیشن ڈائریکٹوریٹ میں قریباً دو برس سے تعینات تھے۔

کلِک ’گرفتاری انتقامی کارروائی ہے‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

بریگیڈئر علی کے روابط حزب التحریر سے: میجر جنرل اطہر عباس

پاکستانی فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کے استفسار پر تصدیق کی کہ مذکورہ بریگیڈیئر پاکستانی فوج کے زیرِ حراست ہیں۔

پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت بریگیڈئر علی جیسے ’شاندار‘ اور فوج کے ساتھ تین نسلوں سے وفادار افسر کے بارے میں اس طرح کی اطلاعات پر خاصی پریشان رہی اور ان کی گرفتاری سے قبل فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دفتر میں اس معاملے پر بھی بات کی گئی۔

عسکری ذرائع

ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ وہ زیرِ حراست ہیں اور ان کے ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ روابط کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ لیکن اس موقع پر اس بارے میں مزید تفصیلات ہماری تفتیش کو متاثر کر سکتی ہیں‘۔

بعد ازاں بی بی سی اردو کے شفیع نقی جامعی سے بات کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے بتایا کہ ’ فوج کے خفیہ اداروں کے نوٹس میں یہ بات آئی تھی کہ بریگیڈئر علی خان ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ کچھ عرصے بعد جب یہ یقین ہو گیا اور یہ بہت زیادہ ملوث پائے گئے تو ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور تفتیش جاری ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جس تنظیم سے بریگیڈئر علی کے روابط تھے ’وہ حزب التحریر ہے جو کہ ہمارے ملک میں کالعدم قرار دی گئی ہے‘۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بریگیڈیر علی کی گرفتاری کا حکم فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے دیا تھا۔

فوجی کے خفیہ اداروں کے نوٹس میں یہ بات آئی تھی کہ بریگیڈئر علی خان ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ کچھ عرصے بعد جب یہ یقین ہو گیا اور یہ بہت زیادہ ملوث پائے گئے تو ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔

میجر جنرل اطہر عباس

بریگیڈیئر علی خان کے خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ چھ مئی کی شام گھر نہیں لوٹے اور اعلیٰ فوجی حکام سے رابطہ کرنے پر ان کے اہلِ خانہ کو بتایا گیا کہ ’بریگیڈیئر صاحب سے کچھ سوالات کی غرض سے انہیں روک لیا گیا ہے اور وہ بہت جلد گھر لوٹ آئیں گے‘۔

ایک اہم عہدے پر تعینات پاکستانی فوج کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک بریگیڈیئر علی کے خلاف باضابطہ چارج شیٹ سامنے نہیں آئی ہے لیکن پاکستانی فوج کا اعلیٰ ترین تفتیشی ادارہ سپیشل انوسٹی گیشن برانچ (ایس آئی بی) بریگیڈیئر علی کے اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ روابط کی تفتیش کر رہا ہے۔

ایس آئی بی فوج کے اندر بہت سنگین نوعیت کے جرائم کی تفتیش کے لیے جانی جاتی ہے۔

زیرِ تفتیش بریگیڈیئر کے اہلِ خانہ اس سارے معاملے پر میڈیا کو کسی قسم کا بیان جاری کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں اور ان کا معاملہ عدالت میں لے جانے سے بھی گریزاں ہیں۔

بریگیڈئر علی کا پاکستانی فوج کے ساتھ دیرینہ تعلق ہی اصل میں پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔ ان کے والد پاکستانی فوج میں جونئیر کمیشنڈ افسر تھے، ان کے چھوٹے بھائی فوج میں کرنل ہیں اور ملک کے ایک اہم انٹیلیجنس ادارے میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کے داماد اور صاحبزادے بھی فوج میں کپتان ہیں۔

پاکستان فوج کے ساتھ اس خاندان کے تین نسلوں کے تعلق کی بنا پر بریگیڈیئر علی کے اہلِ خانہ کو امید ہے کہ انہیں جلد رہا کر دیا جائے گا۔ بریگیڈیئر علی کے والد پاکستانی فوج میں جونیئر کمیشنڈ افسر تھے، ان کے چھوٹے بھائی فوج میں کرنل ہیں اور ملک کے ایک اہم انٹیلیجنس ادارے میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے داماد اور صاحبزادے بھی فوج میں کپتان ہیں۔

بریگیڈیئر علی کا پاکستانی فوج کے ساتھ یہ تعلق ہی اصل میں پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔

ایک اہم فوجی ذریعے کے مطابق پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت بریگیڈیئر علی جیسے ’شاندار‘ اور فوج کے ساتھ تین نسلوں سے وفادار افسر کے بارے میں اس طرح کی اطلاعات پر خاصی پریشان رہی اور ان کی گرفتاری سے قبل فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دفتر میں اس معاملے پر بھی بات کی گئی اور اس بات چیت سے باخبر ایک افسر کے مطابق جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بریگیڈیئر علی کی گرفتاری کا ذاتی طور پر حکم دیا تھا۔

پانچ جولائی کو جی ایچ کیو میں ایک کانفرنس کے دوران بریگی؟ئر علی نے ایبٹ آباد کے واقعہ کے بارے میں چند سوالات پوچھے تھے، اسی لیے ان کے ساتھ یہ ہورہا ہے۔

بریگیڈئر علی کے وکیل

دوسری جانب بریگیڈئر علی خان کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں اس لیے کہ بتیس سال ان کی سروس ہو چکی ہے۔ بتیس سال تک کو الزام کسی نے نہیں لگایا اب جولائی میں وہ ریٹائر ہو رہے تھے اور اس بارے میں ان کو ایڈوانس نوٹس دو ماہ پہلے مل چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ جولائی کو جی ایچ کیو میں ایک کانفرنس کے دوران انہوں نے ایبٹ آباد کے واقعہ کے بارے میں چند سوالات پوچھے تھے، اسی لیے انہیں کے ساتھ یہ ہورہا ہے۔ ’بریگیڈئر علی کے خلاف یہ ایک انتقامی کارروائی ہے۔‘

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔