
پیلی ٹیکسی کی سکیم مسلم لیگ کی سابقہ حکومت کے دور میں شروع کی گئی تھی اور بینکوں کو اربوں روپے کا خصارہ اٹھانا پڑا تھا
صوبہ پنجاب کی حکومت نے ماضی کی متنازعہ سکیم یلو کیب سکیم کو دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے ساتھ اگلے مالی سال کے لیے چھ سو نوے ارب کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کیا۔
کلِک
سندھ حکومت کا فاضل بجٹ
یہ بجٹ ایوان میں میں وزیر اقلیتی امور کامران مائیکل نے پیش کیا جنہیں خزانہ کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔
کامران مائیکل نے بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ پیلی ٹیکسی سکیم کے تحت بے روز گار نوجوانوں کو بیس ہزار پیلی ٹیکسیاں دی جائیں گی۔ واضح رہے کہ نواز شریف کی گزشتہ حکومت میں پیلی ٹیکسی سکیم کے تحت پچاس ہزار گاڑیاں درآمد کی گئیں تھیں اور اس سکیم کے لیے جن دو بڑے بینکوں سے قرضے لیے گئے تھے انھیں اربوں روپے کا خصارہ اٹھانا پڑا تھا اور وہ سخت مالی بحران کا شکار ہو گئے تھے۔ یہ سکیم بہت سے مسائل اور تنازعات کا شکار رہی تاہم ماضی کے بر عکس اس بار اس یلو کیب سکیم کے لیے ملک کے اندر بننے والی گاڑیوں کو استعمال کیا جائے گا۔
اس بجٹ میں سالانہ ترقیاتی فنڈز دو سو بیس ارب روپے کے مختص کیے گیے ہیں جن میں تعلیم کے لیے تیئس ارب نوے کروڑ اور صحت کے لیے چودہ ارب اسی کروڑ رکھے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے ان شعبوں کے لیے رکھی گئی رقم سے بہت زیادہ نہیں ہے اور اس میں افراط زر کو کوئی خاص مد نظر نہیں رکھا گیا۔
پنجاب اسمبلی میں بجٹ تقریر کے شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی ہوئی جو چند منٹ میں ختم ہو گئی۔ یہ ہنگامہ آرائی اپوزیشن رہنما راجہ ریاض کے وزیر اعلی پنجاب نواز شریف کو ہار پہنانے کی کوشش پر شروع ہوئی۔مسلم لیگ ن کے اراکین نے راجہ ریاض کو ہار پہنانے نہ دیا اور دونوں طرف کے اراکین اٹھ کھڑے ہوئے ۔ کچہ لمحوں کے لیے ایوان میں نعرے بازی کی گئی۔
بجٹ تقریر کے دوران مسلم لیگ ن کے اراکین ڈیسک بجانے کے ساتھ ساتھ نعرے بازی کرتے رہے جن میں ان کی خواتین اراکین پیش پیش رہیں۔
اس بجٹ میں سالانہ ترقیاتی فنڈز دو سو بیس ارب روپے کے مختص کیے گیے ہیں جن میں تعلیم کے لیے تیئس ارب نوے کروڑ اور صحت کے لیے چودہ ارب اسی کروڑ رکھے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے ان شعبوں کے لیے رکھی گئی رقم سے بہت زیادہ نہیں ہے اور اس میں افراط زر کو کوئی خاص مد نظر نہیں رکھا گیا۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیر اقلیتی امور اور خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی امداد نہ لینے کے پنجاب حکومت کے فیصلے کے پیش نظر جو ٹیکس لگائے جا رہے ہیں وہ امراء کے لیے ہوں گے اور ان سے غریب اور متوسط طبقہ متاثر نہیں ہو گا۔
حکومت نے بڑے مکانوں پر پراپرٹی ٹیکس عائد کیا ہے جبکہ سؤمنگ پولز اور امراء کے لیے بنائے جانے جسمانی تربیت کے سینٹروں پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
گاڑیوں کی ٹوکن فیس میں اضافہ کیا گیا ہے۔سینما گھروں اور تھیٹر پر تفریحی ٹیکس کم کر دیا گیا ہے۔
عوام کے فائدے کےلیے رمضان پیکج کی مد میں چار ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے دو ارب نوے کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
پنجاب میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ بنایا جا رہا ہے۔