آخری وقت اشاعت:  جمعـء 10 جون 2011 ,‭ 14:11 GMT 19:11 PST

پنجاب میں پیلی ٹیکسی سٹارٹ

پیلی ٹیکسی کی سکیم مسلم لیگ کی سابقہ حکومت کے دور میں شروع کی گئی تھی اور بینکوں کو اربوں روپے کا خصارہ اٹھانا پڑا تھا

صوبہ پنجاب کی حکومت نے ماضی کی متنازعہ سکیم یلو کیب سکیم کو دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے ساتھ اگلے مالی سال کے لیے چھ سو نوے ارب کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کیا۔

کلِک سندھ حکومت کا فاضل بجٹ

یہ بجٹ ایوان میں میں وزیر اقلیتی امور کامران مائیکل نے پیش کیا جنہیں خزانہ کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔

کامران مائیکل نے بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ پیلی ٹیکسی سکیم کے تحت بے روز گار نوجوانوں کو بیس ہزار پیلی ٹیکسیاں دی جائیں گی۔ واضح رہے کہ نواز شریف کی گزشتہ حکومت میں پیلی ٹیکسی سکیم کے تحت پچاس ہزار گاڑیاں درآمد کی گئیں تھیں اور اس سکیم کے لیے جن دو بڑے بینکوں سے قرضے لیے گئے تھے انھیں اربوں روپے کا خصارہ اٹھانا پڑا تھا اور وہ سخت مالی بحران کا شکار ہو گئے تھے۔ یہ سکیم بہت سے مسائل اور تنازعات کا شکار رہی تاہم ماضی کے بر عکس اس بار اس یلو کیب سکیم کے لیے ملک کے اندر بننے والی گاڑیوں کو استعمال کیا جائے گا۔

اس بجٹ میں سالانہ ترقیاتی فنڈز دو سو بیس ارب روپے کے مختص کیے گیے ہیں جن میں تعلیم کے لیے تیئس ارب نوے کروڑ اور صحت کے لیے چودہ ارب اسی کروڑ رکھے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے ان شعبوں کے لیے رکھی گئی رقم سے بہت زیادہ نہیں ہے اور اس میں افراط زر کو کوئی خاص مد نظر نہیں رکھا گیا۔

پنجاب اسمبلی میں بجٹ تقریر کے شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی ہوئی جو چند منٹ میں ختم ہو گئی۔ یہ ہنگامہ آرائی اپوزیشن رہنما راجہ ریاض کے وزیر اعلی پنجاب نواز شریف کو ہار پہنانے کی کوشش پر شروع ہوئی۔مسلم لیگ ن کے اراکین نے راجہ ریاض کو ہار پہنانے نہ دیا اور دونوں طرف کے اراکین اٹھ کھڑے ہوئے ۔ کچہ لمحوں کے لیے ایوان میں نعرے بازی کی گئی۔

بجٹ تقریر کے دوران مسلم لیگ ن کے اراکین ڈیسک بجانے کے ساتھ ساتھ نعرے بازی کرتے رہے جن میں ان کی خواتین اراکین پیش پیش رہیں۔

اس بجٹ میں سالانہ ترقیاتی فنڈز دو سو بیس ارب روپے کے مختص کیے گیے ہیں جن میں تعلیم کے لیے تیئس ارب نوے کروڑ اور صحت کے لیے چودہ ارب اسی کروڑ رکھے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے ان شعبوں کے لیے رکھی گئی رقم سے بہت زیادہ نہیں ہے اور اس میں افراط زر کو کوئی خاص مد نظر نہیں رکھا گیا۔

بجٹ تقریر کے دوران وزیر اقلیتی امور اور خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی امداد نہ لینے کے پنجاب حکومت کے فیصلے کے پیش نظر جو ٹیکس لگائے جا رہے ہیں وہ امراء کے لیے ہوں گے اور ان سے غریب اور متوسط طبقہ متاثر نہیں ہو گا۔

حکومت نے بڑے مکانوں پر پراپرٹی ٹیکس عائد کیا ہے جبکہ سؤمنگ پولز اور امراء کے لیے بنائے جانے جسمانی تربیت کے سینٹروں پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

گاڑیوں کی ٹوکن فیس میں اضافہ کیا گیا ہے۔سینما گھروں اور تھیٹر پر تفریحی ٹیکس کم کر دیا گیا ہے۔

عوام کے فائدے کےلیے رمضان پیکج کی مد میں چار ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے دو ارب نوے کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

پنجاب میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ بنایا جا رہا ہے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2013 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔