اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں ایک نوجوان سرفراز شاہ کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر تحقیقات کی نگرانی کریں گے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔
انہوں نے یہ اعلان جمعرات کو قومی اسمبلی میں اس وقت کیا جب مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق نے انتہائی سخت الفاظ میں رینجرز کے اہلکاروں کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔
کلِک کراچی میں قتل پر اسمبلی میں احتجاج
ادھر ڈی جی رینجرز کا کہنا ہے کہ کسی بھی اہلکار کو نہتے شہری پرگولی چلانے کا اختیار نہیں اور اس واقعے میں ملوث رینجرز اہلکاروں کوگرفتار کر کے انکوائری کے لیے تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس واقعے پر پوری قوم کو افسوس اور تشویش ہے اور اس میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہر چیز میں ہمیں رد عمل کا اظہار کرنا چاہیے مگر ایک دائرہ کار میں رہتے ہوئے فوری طور پر کسی ادارے کے خلاف غیر شائستہ زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے‘۔
اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق نے کہا یہ ریاستی دہشتگردی ہے اور رینجرز کے وردی پوش دہشتگردوں نے ایک ماں سے بیٹا چھین لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے لیکن وہ اپنی ہی فورس کی تحویل میں ہیں اور انہیں فوری طور پر پولیس کے حوالے کیا جائے اور ان پر انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔
رینجرز کے ہاتھوں سرفراز شاہ نامی نوجوان کی ہلاکت کا واقعہ بدھ کی شام کراچی میں بینظیر بھٹو پارک کلفٹن کے علاقے میں پیش آیا تھا۔
کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ جائے وقوع پر اتفاقاً موجود سندھی ٹی وی چینل آواز کے کیمرہ مین نے اس سارے منظر کو کیمرہ کی آنکھ میں محفوظ کر لیا تھا۔
اس فوٹیج میں ایک شخص ایک نوجوان کو بالوں سے پکڑ کر پارک کے اندر سے لاتا ہے اور اسے رینجرز اہلکاروں کے سامنے دھکیل دیتا ہے۔ وہ نوجوان رینجرز اہلکاروں کے سامنے اپناموقف بیان کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے جس دوران اہلکار اسے رائفل کی نوک سے پیچھے دھکیلتے ہیں اور پھر دو فائر ہوتے ہیں اور نوجوان تڑپنے لگتا ہے اور اس کے بازو اور بائیں ران سے تیزی سے خون بہنے لگتا ہے۔
رینجرز کے کسی اہلکار کو شک کی بنیاد پر کسی شہری پر فائرنگ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
ڈی جی رینجرز
بعد ازاں اس زخمی نوجوان سرفراز شاہ کو جناح ہپستال پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا جس کے بعد بدھ کی رات اس کے لواحقین نے لاش سمیت وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب کلفٹن کے بوٹ بیسن تھانے پر مقتول نوجوان سر فراز شاہ کے خلاف اختر نامی ایک شخص کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ان سے موبائل فون چھیننے کی کوشش کر رہا تھا رینجرز کے آنے پر اس نے پستول نکال لی اور رینجرز نے اپنے بچاؤ میں فائرنگ کی۔
مقتول سرفراز شاہ مقامی صحافی سالک شاہ کا بھائی تھا اور اسے جمعرات کو ہجرت کالونی میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔
ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل اعجاز چوہدری نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں نوجوان کی ہلاکت کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رینجرز کے کسی اہلکار کو شک کی بنیاد پر کسی شہری پر فائرنگ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
میجر جنرل اعجاز کا کہنا تھا کہ رینجرز اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور اس معاملے کی انکوائری کے لیے ایک بریگیڈئر اور دو لیفٹیننٹ کرنلوں پر مشتمل کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی انکوائری جلد از جلد مکمل کر کے ملوث اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔
یہ بربریت کا عمل ہے، رینجرز کو لوگوں کے تحفظ کے لیے بلایا گیا ہے نہ کہ لوگوں کو بے رحم مارنے کے لیے۔حکومت سکیورٹی ایجنسی کو لوگوں کے حقوق کی خلاق ورزی کی اجازت نہیں دے سکتے یہ جمہوریت ہے اس میں ایسی ذہنیت کی اجازت نہیں ہے۔
شازیہ مری
بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھی رینجرز کا کردار زیر بحث آیا، جس میں حکومتی اراکین نے بھی اس واقعے پر تنقید کی۔ صوبائی وزیر شازیہ مری کا کہنا تھا کہ یہ بربریت کا عمل ہے، رینجرز کو لوگوں کے تحفظ کے لیے بلایا گیا ہے نہ کہ لوگوں کو بے رحم مارنے کے لیے۔
ان کےمطابق حکومت سکیورٹی ایجنسی کو لوگوں کے حقوق کی خلاق ورزی کی اجازت نہیں دے سکتے یہ جمہوریت ہے اس میں ایسی ذہنیت کی اجازت نہیں ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ٹی وی فوٹیج دیکھ کر لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے رینجرز پر تنقید کی جارہی ہے۔’ایک شخص کی غفلت یا جرم کی وجہ سے پورے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں، وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر رحمان ملک اس کی تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں‘۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی غلام قادر چانڈیو نے اس بات سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی اور منتخب اراکین ہیں اور عوام کے پاس جاتے ہیں اور شرجیل میمن کو رینجرز کی حمایت نہیں کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ صوبائی اسمبلی کی وزرات داخلہ کی قائمہ کمیٹی کو اس واقعے کی تحقیقات کرنی چاہیے۔
دریں اثنا اس واقعے کی فوٹیج بنانے والے کیمرہ مین سلام کا کہنا ہے کہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ان دھمکیوں کے خلاف صحافیوں نے جمعرات کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا ہے۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔