
رحمان ملک کی تردید کے باوجود میڈیا یرغمالیوں کی خبر چلاتا رہا
کراچی میں پاکستانی بحریہ کی مہران بیس پر دہشت گردوں کے حملے اور ان کے خلاف فوج کی جوابی کارروائی کے دوران ذرائع ابلاغ خصوصاًَ ٹی وی چینلز کی اس واقعے کی کوریج میں بہت تضاد رہا۔
بحریہ کی مہران بیس پر حملہ اتوار کی رات تقریباَ َساڑھےدس بجے شروع ہوا جس کی اطلاع ملتے ہی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بڑی تعداد میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تاہم اُنہیں اندر جانے سے روک دیا گیا ، جس کے بعد انہوں نے شارع فیصل پر ہی ڈیرہ ڈال دیا اور وہیں سے صورتِ حال کو مانیٹر کرتے رہے۔
اس دوران پوری رات حتٰی کے صبح تک میڈیا کے نمائندوں کے درمیان مختلف قسم کی افواہیں گردش کرتی رہیں جنہیں بعد ازاں خبر بنا کر نشر کردیا جاتا۔
ایک موقع پر رات دو بجے کے لگ بھگ ایک چینل کے رپورٹر نے اچانک یہ خبر دی کہ ’غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق چھ حملہ آور ہلاک اور چار گرفتار ہوچکے ہیں۔ میں نے اس رپورٹر سے پوچھا کہ ایسا کیسے کہہ سکتے ہو تو اس کا کہنا تھا کہ ’میں نے اسی لیے غیرمصدقہ کہا ہے‘۔
یہ غیر مناسب اور غیر پیشہ ورانہ ہے ۔ ایک ایسی اطلاع جسے خود رپورٹر غیر مصدقہ کہہ رہا ہے اسے نشر کرنا یا تحریر میں لانا ہرگز صحیح طریقہ نہیں اور صحافت کے اصولوں کے منافی ہے چاہے یہ کام کسی بھی نیوز چینل نے کیا ہو۔
کامران خان
ایک اور رپورٹر نے کراچی کے سٹی پولیس چیف کے حوالے سے خبر دی کہ چار افراد ہلاک ہوچکے ہیں، حالانکہ پولیس مہران بیس کے اندر جاری آپریشن میں ہرگز شریک نہیں تھی اور صرف بیس کے باہر کچھ پولیس اہلکار تعینات تھے۔
رات تین بجے کے بعد جب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک مہران بیس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرنے کے لیے آئے اور بتایا کہ دہشت گردوں نے ایک عمارت میں قبضہ کرلیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی جاری ہے تو ایک رپورٹر نے ان سےسوال کیا کہ کیا کچھ افراد کو یرغمال بنایا گیا ہے تو رحمان ملک نے اس کی تردید کی ، مگر پھر بھی اس رپورٹر نے اپنے ٹی وی چینل کو بتایا کہ ’اندر کچھ افراد جو شاید غیرملکی ہیں انہیں دہشتگردوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے‘ ۔ جب ان سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’عمارت پر قبضہ کیا ہی اس لیے جاتا ہے کہ یرغمالیوں کو رکھا جاسکے‘۔
ان افواہوں کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سرکاری طور پر ذرائع ابلاغ کو معلومات کی فراہمی کا کوئی مؤثر ذریعہ نہیں تھا اور اسلام آباد میں موجود پاکستانی بحریہ کے ترجمان کموڈور عرفان الحق اور کراچی میں بحریہ کی آئی ایس پی آر کے کمانڈر سلمان علی ہی سب سے بڑا ذریعہ تھے مگر ان کی جانب سے بھی معلومات مکمل طور پر نہیں مل رہی تھیں۔
اس صورتِ حال میں نیوز چینل کے رپورٹرز ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں خود بھی افواہیں گھڑتے نظر آئے ۔
اس بارے میں سینئر صحافی اور ٹی وی میزبان کامران خان کا کہنا ہے کہ چونکہ میڈیا کو وہاں سے کافی دور رکھا گیا تھا اور یہ خبر اتنی بڑی تھی کہ کوئی بھی اپنے ناظرین اور سامعین سے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس کے پاس کوئی اطلاع نہیں اسی لیے غیرمصدقہ اطلاعات ٹی وی کے ذریعے پھیلتی رہیں۔
ٹی وی چینلز پر چلنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کے بارے میں کامران خان کا کہنا تھا کہ یہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔’یہ غیر مناسب اور غیر پیشہ ورانہ ہے ۔ ایک ایسی اطلاع جسے خود رپورٹر غیر مصدقہ کہہ رہا ہے اسے نشر کرنا یا تحریر میں لانا ہرگز صحیح طریقہ نہیں اور صحافت کے اصولوں کے منافی ہے چاہے یہ کام کسی بھی نیوز چینل نے کیا ہو‘۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔