آخری وقت اشاعت:  منگل 10 مئ 2011 ,‭ 22:25 GMT 03:25 PST

اسامہ کا گھر اور میڈیا کا تجسس

اسامہ کے مکان کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا تانتا

گزشتہ پیر کو صوبۂ خیبر پختونخواہ کے ہزارہ ڈویژن کا شہر ایبٹ آباد دنیا کی توجہ کا مرکز تھا۔ پوری دنیا سےمیڈیا کے نمائندوں نے اس شہر کا رخ کیا اور سیکورٹی فورسز سے چھپ کر اپنے کیمروں سمیت ہر اس تنگ گلی میں جانے کی کوشش کی جو انہیں اسامہ کے گھر تک لے جا سکے۔

شام چار بجے تک میڈیا کے نمائندے وہاں پہنچتے رہے اور جو پہلے سے موجود تھے انہوں نے آس پاس کے گھروں میں ایسی چھتوں کی تلاش شروع کی جہاں سے اس کمپاؤنڈ کو دیکھا جا سکے۔

میں جس چھت پر پہنچی اس گھر کے مکین نے بنا پوچھے ہی کہنا شروع کردیا۔

’میں یہاں تھا ہی نہیں آج صبح ہی واپس آیا ہوں، میں نے کچھ نہیں دیکھا‘ لیکن پھر آہستہ آہستہ وہاں کھڑے لوگوں نے اپنے اپنے الفاظ لیکن محتاط انداز میں معلومات فراہم کرنی شروع کیں۔

’اس کا نام ارشد خان تھا۔۔۔ اس کے پاس سرخ کیری ڈبہ تھا ۔۔۔ہم نے کبھی اس سے بات نہیں کی ۔۔۔ہاں وہ پشتو جانتا تھا‘

دن بھر اسی طرح کی ابتدائی معلومات سے صورتحال واضح کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن اس دن پاکستانی فوج اور حکومت دونوں پر جو دباؤ دیکھنے میں آیا اس نے رات تک یہ واضح کردیا کہ اگلے دن اس کمپاؤنڈ تک میڈیا کو رسائی دے دی جائے گی اور ہوا بھی یہ ہی۔

تاہم اجازت اس حد تک ملی کہ میڈیا کے لوگ کمپاؤنڈ کی چار دیواری کا قریبی جائزہ تو لے سکتے ہیں لیکن اندر داخل نہیں ہوسکتے۔ دو بڑے بڑے گیٹوں پر سیل لگی تھی اور فوج اور پولیس کے جوان اسلحہ تھامے کھڑے تھے۔

مکان پر پولیس کا پہرہ

اس قلعہ نماء مکان کی کئی فٹ اونچی مضبوط دیواروں پر خار دار تار لگے تھے۔ وہاں تک پہنچ کر تجسس کی انتہا نے ایک بار پھر آس پاس کی قریبی چھتوں اور دیوراوں پر چڑھنے پر مجبور کیا اور ہم اپنے کیمروں کی مدد سے اس احاطے کے اندر کافی حد تک دیکھنے میں کامیاب ہو گئے۔

اگلی صبح جیسے اس ماحول کی شکل اور اہمیت ہی تبدیل ہو گئی اور پورا دن وہاں اس مکان کو دیکھنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔

آئسکریم اور کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کی چاندی الگ ہو گئی جبکہ اُس مکان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کے ساتھ لوگ تصویریں بنواتے نظر آئے۔

لیکن اس کے اگلے ہی دن ایک بار پھر بلال ٹاؤن میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی اور شہر میں سخت سیکورٹی اور میڈیا کے نمائندوں سے تلخ رویہ بھی دیکھنے میں آیا۔

دو دن وہاں کے مکین بھی اپنےگھروں میں نظر بند کر دیے گئے جب کہ سخت پہرے میں اس مکان کے قریب رہنے والے ایک شخص سے جب فون پر بات ہوئی تو اس نے بیچارگی سے کہا کہ’فوج نے ہم غریبوں پر ظلم کر دیا ہے، دو دن ہو گئے ہیں، گھروں سے باہر نکلنے دیں تو ہم اپنی فصلوں کو پانی لگائیں۔ ہم کیا کریں، کہاں پھنس گئے ہیں، ہم نے تو کچھ نہیں کیا‘۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے پیشگی اجازت کے بغیر اپ لنکنگ پر ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو نوٹس جاری کیے گئے جس کے بعد میڈیا کے غیر ملکی نمائندے شہر چھوڑنا شروع ہوگئے۔

مجھے شہر چھوڑتے ہوئے یہاں کے مکینوں کے چہروں سے ایک بات عیاں لگ رہی تھی، وہ یہ کہ ایبٹ آباد کی تاریخ کا یہ غیر معمولی واقعہ یہاں کے شہریوں کے ذہنوں میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔