امریکہ میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے پہلی بار کہا ہے کہ اسامہ بن لادن اپنی ہلاکت تک القاعدہ کےسربارہ کے طور پرمتحرک تھے۔ بی بی سی کے سکیورٹی کے امور کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکاروں کا یہ موقف ان کے پرانے موقف سے مختلف ہے جس میں وہ کہتے تھے کہ اسامہ بن لادن مستقل نئی پناہ کی تلاش میں رہتے ہیں اور القاعدہ کے انتظامی امور میں متحرک نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسمہ بن لادن کی پناہ گاہ اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ کا مرکزی کمانڈ سنٹر تھا۔
دریں اثناء پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف چوہدری نثار علی نے کہا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں موجودگی پر ناکامی میں جو افراد ملوث ہیں ان کو اس ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے اور استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
اسامہ کی ویڈیوز جاری

امریکی وزارت دفاع پیٹاگون نے ایبٹ آباد کے جس مکان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا اس مکان سے قبضے میں لی گئی ویڈیو جاری کی ہیں۔
ایک ویڈیو میں اسامہ بن لادن اپنی ہی جاری کردہ ویڈیو ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں اسامہ کو امریکہ کے نام پیغام تیار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
پینٹاگون نے اسامہ بن لادن کی کُل پانچ ویڈیوز جاری کی ہیں۔
کلِک پہلی ویڈیو(کلک کریں) میں جو اکتوبر 2010 کی ہے اسامہ نے سفید ٹوپی اور سفید لباس زیب تن کیا ہوا ہے۔ وہ اس ویڈیو میں پیغام ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں اگرچہ کوئی آواز نہیں ہے لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو میں امریکہ کو پیغام دیا گیا ہے۔
تین دیگر کلپس میں پیغام ریکارڈ کرانے کی ریہرسل کی گئی ہے۔
اسامہ بن لادن کی یہ ویڈیو سنہ 2007 کے بعد پہلی ویڈیو ہے جو منظرِ عام پر آئی ہے۔
کلِک ایک اور ویڈیو میں اسامہ بن لادن کو ایک عربی ٹی وی چینل پر ان کے بارے میں پروگرام دیکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں اسامہ زمین پر بیٹھے ہیں اور بظاہر انہوں نے کمبل اوڑھ رکھا ہے اور ان کے ہاتھ میں ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول ہے۔
اس ویڈیو میں ان کی داڑھی دیگر پیغامات والی ویڈیوز سے زیادہ سفید ہے۔
تاہم ان پانچوں فلموں میں سے کوئی بھی یہ ظاہر نہیں کر رہی کہ وہ ایبٹ آباد والے مکان میں موجود ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان فلموں کو جاری کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسامہ بن لادن ہلاک ہو گئے ہیں۔
’پاشا امریکہ نہیں جا رہے‘

پاکستانی افواج کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نہ تو امریکہ کے دورے پر جا رہے ہیں اور نہ ہی وہ مستعفی ہو رہے ہیں۔
بی بی سی کے شعیب حسن سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ای پی آر نے کہا کہ میڈیا میں آنے والی خبریں بے بنیاد ہیں کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا ایبٹ آباد کے واقعے کے بعد آج (ہفتے کو) واشنگٹن کے دورے پر جا رہے ہیں جہاں وہ پاکستان کو موقف بیان کریں گے۔
یاد رہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آئی تھیں کہ پاکستان کو موقف پیش کرنے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا واشنگٹن کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر اطہر عباس نے ان خبروں کی بھی تردید کی ہے کہ جنرل پاشا پر القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی سے لاعلم ہونے پر دباؤ ہیں اور آئندہ چند دنوں میں جنرل پاشا مستعفی ہو جائیں گے۔
میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ یہ خبریں بے بنیاد ہیں۔
دوسری جانب عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ اسامہ بن لادن کے اہلِ خانہ کو امریکہ کے حوالے کرنے کے بارے میں کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک اسامہ کے اہلِ خانہ کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
ذرائع نے ان خبروں کی بھی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی اہلیہ نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ ایبٹ آباد آنے سے قبل اسامہ نے دو سال ہری پور کے ایک گاؤں میں گزارے تھے۔
خبروں کے مطابق اسامہ بن لادن نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سنہ دو ہزار تین میں ایبٹ آباد سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہری پور کے گاؤں چک شاہ محمد میں دو سال کے لیے رہائش اختیار کی اور دو ہزار پانچ میں ایبٹ آباد آئے۔
اسامہ کی صحت کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ تفتیش کاروں کی اسامہ بن لادن کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ مکمل طور پر صحت یاب تھے اور ان کو گردوں کی تکلیف اب نہیں تھی۔
’ذمہ دار افراد مستعفی ہوں‘

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف چوہدری نثار علی نے کہا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں موجودگی پر ناکامی میں جو افراد ملوث ہیں ان کو اس ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے اور استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی فوج کے ہاتھوں ہلاکت پر صدرِ پاکستان اور وزیر اعظم وضاحت دیں یا پھر مستعفی ہو جائیں۔
’پاکستان کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے کا کوئی جواب نہیں دے رہا اور حکومتِ پاکستان خاموش بیٹھی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے ایٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اپنے اصل کردار سے ہٹ گیا ہے اور جو اس کا کام ہے وہ نہیں کر رہا۔
تاہم وفاقی وزیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مڈیا سے بات کرتے ہوئے مستعفی ہونے کے مطالبے کو رد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارگل آپریشن کے بعد کس نے استعفے دیے تھے۔
اس سے قبل سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ایبٹ آباد کے واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔
اسامہ کی موت کی تصدیق

تنظیم کی جانب سے یہ تصدیق ایک بیان کے ذریعے کی گئی جو جہادی انٹرنیٹ فورمز پر جاری کیا گیا ہے۔
اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور القاعدہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ بیان کے مطابق اسامہ کی موت امریکہ کے لیے تباہی لائے گی۔
القاعدہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جلد ہی ایک ایسا آڈیو پیغام جاری کیا جائے گا جو اسامہ نے اپنی ہلاکت سے ایک ہفتہ قبل ریکارڈ کروایا تھا۔
بیان کے مطابق ’انشا اللہ اسامہ بن لادن کا خون ایک ایسی تباہی لائے گا جو امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کا ان کے اپنے ملکوں میں اور باہر بھی پیچھا کرتی رہے گی‘۔
ہم پاکستان، جس کی سرزمین پر شیخ اسامہ مارے گئے، کے تمام مسلمانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور علمِ بغاوت بلند کر دیں۔
القاعدہ
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ان کی خوشی غم میں بدل جائے گی اور ان کا خون آنسوؤں میں مل جائے گا‘۔
اس بیان میں پاکستان میں بھی مزاحمتی تحریک کے آغاز پر زور دیا گیا ہے۔ القاعدہ کا کہنا ہے کہ ’ہم پاکستان، جس کی سرزمین پر شیخ اسامہ مارے گئے، کے تمام مسلمانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور علمِ بغاوت بلند کر دیں‘۔
اسامہ بن لادن دو مئی کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے ایک خفیہ آپریشن میں مارے گئے تھے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی سے لاعلم تھے جبکہ امریکی حکام کے مطابق اس آپریشن کے بارے میں بھی پاکستانی حکام کو اس کی کامیابی کے بعد ہی بتایا گیا تھا۔
ادھر پاکستان میں جمعہ کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی کال پر زیادہ پرجوش ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔
دینی جماعتوں کی کال پر جہاں کوئٹہ میں ایک ہزار کے قریب لوگ سڑکوں پر نکلے وہیں لاہور اور ایبٹ آباد اور پشاور سمیت خیبر پختونخواہ کے شہروں میں مظاہرین کی تعداد چند سو رہی۔
فوج میں کمی کو نہیں کہا گیا

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک حکومت پاکستان کی جانب سے ملک میں موجود امریکی فوجی اہلکاروں کی تعداد کم کرنے کے بارے میں کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا ہے۔
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں تعینات وزارت دفاع ایک نمائندے نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ فوجیوں کی تعداد میں کمی کے سلسلے میں ابھی تک پاکستانی حکام نے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا پاکستان میں فی الوقت امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد پونے تین سو ہے اورہ یہ تعداد اکثر سرگرمیوں کی وجہ سے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
جمعرات کو پاکستانی فوج کی جانب سے راولپنڈی میں کور کمانڈر اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے امریکی فوجیوں کی تعداد کو کم سے کم تر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پاکستان میں فی الوقت امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد پونے تین سو ہے اورہ یہ تعداد اکثر سرگرمیوں کی وجہ سے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
امریکی حکام
ادھر پاکستانی حکام کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکیوں کے لیے سات ہزار سے زائد ویزے جاری کیے جا چکے ہیں اور خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ انہیں ملک میں موجود تمام غیرملکیوں پر نظر رکھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
خفیہ اداروں کی پریشانی کی تصدیق واشنگٹن پوسٹ کی اس تازہ خبر سے بھی ہوتی ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ایبٹ آباد میں اپنے جاسوسوں کے لیے ایک ’سیف ہاوس‘ قائم کر رکھا تھا۔
یہ خفیہ مرکز اسامہ بن لادن پر نظر رکھنے میں مدد دے رہا تھا۔ اخبار کے مطابق مشن کی کامیابی کے بعد اسے اب بند کر دیا گیا ہے۔ اس بارے میں حکومت پاکستان کا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
حکام کے مطابق اس طرز کے غیر ملکی خفیہ مراکز اور جاسوس ان کے لیے درد سر بن چکے ہیں۔
سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ حکومت کی جانب سے امریکہ کو فراخ دلی سے ویزے جاری کرنے کے فیصلے سے انتہائی نالاں دکھائی دیتی ہے۔ اس اقدام کی اس کی جانب سے مخالفت تو پہلے دن سے تھی لیکن ایبٹ آباد کے واقعے کے بعد اب اس کے خیال میں اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے۔
تاہم ناقدین کے خیال میں سکیورٹی ادارے اب اپنی کمزوریوں یا ناکامیوں کو چھپانے کی خاطر سیاسی حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سیاسی حکومت سے اس معاملے پر کافی ناراض ہے۔ اسے شکایت ہے کہ ایک دن میں صدر اور وزیر اعظم نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کو ویزے جاری کرنے کے اختیار نامے پر دستخط کر کے بھیج دیا۔
اس وقت سے خیال ہے کہ بڑی تعداد میں ویزے وہیں سے خفیہ اداروں کی جانچ پڑتال کے بغیر جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل ویزے کی درخواست وزارت داخلہ کے پاس منظوری کے لیے بھیجی جاتی تھی۔
یہ معاملہ پارلیمان میں بھی چند روز قبل اٹھایا گیا تھا جہاں حکومت نے امریکیوں کو واشنگٹن سے گزشتہ تین برس کے دوران جاری کیے جانے والے ویزوں کی تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا۔
مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی ملک شاکر بشیر اعوان کی جانب سے یہ تفصیل حاصل کرنے سے متعلق ایک سوال کا جواب میں وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے دنیا بھر میں جاری کئیے جانے والے ویزوں کی تفصیل تو ایوان میں پیش کی لیکن واشنگٹن کی نہیں۔ اس کمی کی وضاحت کرتے انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ سوال دیکھا ہی نہیں تھا۔
خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستانی حکام کو ویزے جاری کیے جانے کے اقدام کے بعد پاکستان نے بھی کچھ عرصہ قبل امریکی اہلکاروں کو ویزے جاری کرنے بند کر دیے تھے۔
ایبٹ آباد میں سی آئی اے کا سیف ہاؤس

امریکی خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن ایبٹ آباد میں سی آئی اے کے ایک خفیہ ٹھکانے سے کئی ماہ تک کی جانے والی نگرانی کے بعد کیا گیا۔
امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ہے کہ اس خفیہ ٹھکانے پر جاسوسوں کی ایک چھوٹی ٹیم موجود تھی جس نے کئی ماہ تک اس کمپاؤنڈ کی نگرانی کا کام سرانجام دیا۔
اخبار کے مطابق نگرانی کے اس آپریشن میں مکان کے اندر سے تصاویر حاصل کرنے اور آوازیں سننے کے لیے سیٹلائٹس کی مدد لی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن سی آئی اے کی حالیہ تاریخ میں انسانی انٹیلیجنس کے حصول کا سب سے نازک مشن تھا جس میں پاکستانی مخبروں اور دیگر ذرائع کی مدد سے اس فصیل بند مکان کے رہائشیوں کی روزمرہ زندگی کا ایک نقشہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
حکام کے مطابق نگرانی کا یہ سلسلہ گزشتہ برس اگست میں اس مشتبہ مکان کی سامنے آنے کے بعد شروع ہوا تھا اور یہ آپریشن اتنا بڑا اور مہنگا تھا کہ سی آئی اے نے گزشتہ برس دسمبر میں کانگریس سے ایجنسی کے کئی ملین ڈالر کے فنڈز اس آپریشن کے لیے مختص کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نگرانی کا یہ سلسلہ اسامہ کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز تک جاری رہا تاہم سی آئی اے کے جاسوسوں نے اس آپریشن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اور اسامہ کی ہلاکت کے بعد سی آئی اے کا نگرانی آپریشن بھی بند کر دیا گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کا کام ’فائنڈ اینڈ فکس‘ تھا جس کا خفیہ آپریشنز کی زبان میں مطلب کسی اہم ہدف کی نشاندہی اور شناخت ہوتا ہے۔
اسامہ پانچ سال سے ایبٹ آباد میں تھے

پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی بیوی سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق القاعدہ کے سربراہ گزشتہ پانچ سال سے ایبٹ آباد میں مقیم تھے۔
اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
جمعرات کو صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ میں اعلٰی عسکری حکام نے بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف کیے جانے والے خفیہ امریکی آپریشن سے لاعلم تھے۔ ان کے مطابق’کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا تھا‘۔
حکام نے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے لاعلمی کو خفیہ اداروں کی ناقص کارکردگی قرار دیا اور کہا کہ اس ناقص کارکردگی کے بارے میں آئی ایس آئی کے اندر اور باہر بھی انکوائری کی جائے گی۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سینئر رہنماؤں سمیت سو سے زائد القاعدہ ارکان کی گرفتاری یا ہلاکت میں آئی ایس آئی کے کلیدی کردار کے باوجود اس کی خدمات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس آپریشن کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کرنا چاہیے تھا اور تعاون دو طرفہ ہونا چاہیے۔ ’جیسا کہ ہم نے ملا بردار کی بابت کیا ویسا امریکہ کو بھی کرنا چاہیے تھا‘۔
جیسا کہ ہم نے ملا بردار کی بابت کیا ویسا امریکہ کو بھی کرنا چاہیے تھا۔
فوجی حکام
اعلٰی فوجی حکام کا کہنا تھا اس آپریشن کے سلسلے میں پاکستان نے کچھ خفیہ معلومات امریکہ کو دی تھیں۔حکام نے یہ بھی بتایا کہ عربی زبان بولنے والے فرد کی اس علاقے سے سعودی عرب کی جانے والی کچھ کالز بھی ٹریس کی ہیں جس میں رقوم کی منتقلی کا ذکر ہے۔
پاکستان کے عسکری حکام کے مطابق القاعدہ مالی معاملات پر تقسیم ہو چکی ہے اور ایمن الظواہری نے اسامہ بن لادن کو ’سائیڈ لائن‘ کر دیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی اہلیہ کے بیان کے مطابق وہ پانچ برس کے بعد اس کمرے سے باہر نکلی ہیں اور اسامہ بھی اس سارے عرصے میں وہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کی تین بیویوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے ساتھ تیرہ بچے بھی تھے تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے بچے اسامہ کے ہیں۔
اسامہ کی ایک بیوی نے جن کا تعلق یمن سے ہے بتایا ہے کہ انہیں گولی لگنے اور ان کے بیہوش ہونے تک اسامہ زندہ تھے لیکن اسامہ کی ایک بیٹی نے تصدیق کی کہ ان کے والد کو ان کی آنکھوں کے سامنے مارا گیا۔
ان اطلاعات کے بارے میں کہ امریکہ نے ان سے ان افراد تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے، فوجی حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ تو ہر کسی کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہتا ہے۔
پاکستان کا چپہ چپہ رڈار کی کوریج میں نہیں ہے۔ محض اہم مقامات اور جوہری اثاثوں کے لیے نہ صرف رڈار ہیں بلکہ انفنٹری بھی تعینات ہے لہذا وہاں ایسی غیرملکی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے۔
عسکری حکام
پاکستانی عسکری حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایبٹ آباد سے حال ہی میں پکڑنے جانے والا ایک اور دہشتگرد عمر پاتک اگرچہ معلومات کا خزانہ ثابت ہوا ہے لیکن اس کا اسامہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
فوجی حکام کا کہنا تھا کہ فراج اللبی کی گرفتاری کے لیے ایبٹ آباد میں سال دو ہزار تین میں کارروائی کی گئی تھی جس میں ایک شخص ہلاک ہوا لیکن اللبی وہاں سے فرار ہوگیا۔ ’اس سے اگلے روز اسے ہم نے مردان سے گرفتار کر لیا تھا لیکن ہماری تفتیش اور کافی عرصے تک امریکی حراست میں بھی اس نے کچھ بتانے سے مسلسل انکار کیا۔ ہوسکتا ہے اس نے اب کچھ امریکیوں کو بتایا ہو‘۔
فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اسامہ کی موجودگی کے بارے میں علم ہوتا تو وہ ضرور خود اس کے خلاف کارروائی کرتے۔
آئی ایس آئی کی کارکردگی کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ اب ملک میں موجود تمام غیرملکیوں پر نظر رکھنا ان کے لیے ناممکن ہوگیا ہے۔ ’اب تک صرف سات ہزار ویزے امریکیوں کو جاری کیے جا چکے ہیں‘۔
فوجی افسران کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی ہیلی کاپٹر بہتر ٹیکنالوجی کی وجہ سے راڈار میں دکھائی نہیں دیے۔ ’پاکستان کا چپہ چپہ رڈار کی کوریج میں نہیں ہے۔ محض اہم مقامات اور جوہری اثاثوں کے لیے نہ صرف رڈار ہیں بلکہ انفنٹری بھی تعینات ہے لہذا وہاں ایسی غیرملکی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے‘۔
