
ایبٹ آباد کا وہ مکان جہاث اسامہ بن لادن رہ رہے تھے
ایبٹ آباد کے کنٹونمنٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ جس مکان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو گزشتہ اتوار کے روز ہلاک کیا گیا تھا اس مکان کی تعمیر کی اجازت سن دو ہزار چار میں دی گئی تھی اور اجازت دینے کے ایک سال کے اندر یہ مکان تعمیر کیا گیا۔
تقریباً ایک کنال پر پھیلا ہوا یہ تین منزلہ مکان ایبٹ آباد کے کنٹونمنٹ کے علاقے ٹھنڈا چوا میں گارگہ گاؤں کے ہاشمی کالونی میں واقع ہے۔ اس مکان کے ارد گرد بارہ سے چودہ فٹ اونچی دیوار ہے جس پر ایک سے دو فٹ خار دار تار بچھائی گئی ہے۔
ایبٹ آباد میں محمکہ کنٹونمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکیٹو آصف عامر خان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے اس مکان کی تعمیر کی اجازت سن دو ہزار چار میں دی تھی۔
’یہ نقشتہ دو ہزار چار میں ہمارے پاس آیا اور اس کے ساتھ شناختی کارڈ، زمین کے کاغذات اور عمارت کی تعمیر کا منصوبہ بھی لگا تھا۔ آصف عامر خان نے کہا کہ ’ہمارے لوگوں نے جاکر پلاٹ کی جانچ پڑتال کی، وہ موجود تھا اور بورڈ کی کمیٹی نے تعمیرات کے منصوبے کا بغور جائزہ لینے کے بعد مکان کو تعمیر کی اجازت دینے کی سفارش کی اور ستمبر دو ہزار چار میں بورڈ نے مکان کی تعمیر کی اجازت دی۔‘
انھوں نے کہا کہ مکان کی تعمیر کے لیے اجازت حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ اجازت حاصل کرنے کے بعد ایک سال کے اندر عمارت تعمیر کرنا ہوتی ہے بصورت دیگر دوبارہ اجازت حاصل کرنا پڑتی ہے۔

جہاں یہ عمارت دنیا کی توجہ مرکز کا بنی ہوئی ہے وہیں اس کا ریکارڈ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے
انھوں نے کہا کہ اس مکان کے مالک دوبارہ بورڈ سے رابط نہیں کیا تھا۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق جس مکان میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا وہ محمد ارشد ولد نقیب خان کے نام پر ہے۔
بی بی سی کو دکھائے جانے والے بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق محمد ارشد کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے چارسدہ کی تحصیل تنگی سے ہے۔ ریکارڈ کے مطابق محمد ارشد نے ستائیس جون دو ہزار چار کو کنٹونمنٹ بورڈ کو دس مرلے زمین پر دو منزلہ مکان کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا تھا۔
بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام لوازمات مکمل کرنے کے بعد ستمبر دو ہزار چار میں مکان کی تعمیر کی اجازت دے دی تھی۔
آصف عامر خان نے کہا کہ کسی عمارت کی تعمیر کی اجازت دیتے وقت درخواست گزار کے متعلق چھان بین کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔ ’ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ درخواست گزار کے پاس زمین کی ملکیت کے کاغذات ہیں اور شناختی کارڈ ہے۔‘
آصف عامر خان نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ہم نادرا سے شناختی کارڈ کی تصدیق کروائیں البتہ ہم یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ جو ریکارڈ ہمیں فراہم کیا گیا ہے وہ تصدیق شدہ ہے یا نہیں۔
آصف عامر خان نے بتایا کہ نوٹس جاری کرنے کے باوجود محمد ارشد خان نے سن دو ہزار پانچ سے پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کیا جو سالانہ نو ہزار آٹھ سو روپے بنتا ہے۔
اس سوال پر کہ آیا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی تو آصف عامر خان نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ہر شخص ٹیکس کے واجبات وقت پر ہی جمع کرائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ملک سے باہر ہے تو وہ دو یا تین سال بعد بھی ٹیکس جمع کراتا ہے اور بعض آٹھ سال بعد بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر کہیں بھی نہیں جاسکتے کیوں کہ گھر تو وہی موجود ہوتا ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’اس ( محمد ارشاد خان والے) کیس میں بھی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا اور انھیں طریقہ کار کے مطابق نوٹس جاری ہوتے رہے۔‘
انھوں نے کہنا ہے کہ ٹیکس کی عدم ادائیگی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور ہر سال ٹیکس جمع کرنے کا ایک ہدف مقرر کیا جاتا ہے جو حاصل کیا جاتا ہے۔
محمکہ مال کے ریکارڈ کے مطابق محمد ارشد خان نے سن دو ہزار چار سے دو ہزار پانچ کے درمیان چار مختلف مقامی افراد سے چھ کنال تیرہ مرلے زمین لگ بھگ اکتالیس لاکھ روپے میں خریدی تھی۔
اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد جہاں یہ عمارت دنیا کی توجہ مرکز کا بنی ہوئی ہے وہیں اس کا ریکارڈ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

تقریباً ایک کنال پر پھیلا ہوا یہ تین منزلہ مکان ایبٹ آباد کے کنٹونمنٹ کے علاقے ٹھنڈا چوا میں گارگہ گاؤں کے ہاشمی کالونی میں واقع ہے
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔