امریکی صدر براک اوباما نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد لی گئی تصاویر جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسامہ بن لادن کو اتوار کی رات پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے خصوصی دستے نے ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔
تصاویر جاری نہیں ہوں گی

امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تصاویر جذبات کو بھڑکا سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات سی بی ایس ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہی۔
اس سے قبل امریکی حکام نے کہا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی لاش اور اسے سمندر برد کیے جانےکے موقع پر لی گئی تصاویر کب جاری کی جائیں تاکہ اسامہ کی ہلاکت کے حوالے سے چہ مہ گوئیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا ’ہم اس قسم کے مواد (تصاویر) کی نمائش ٹرافی کے طور پر نہیں کرتے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ ہوں گے جو اس خبر کو نہیں مانیں گے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اب آپ اسامہ بن لادن کو روئے زمین پر چلتے نہیں دیکھ سکیں گے۔‘
واشنگٹن میں بی بی سی کے پال ایڈمز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے یہ حتمی فیصلہ کر لیا ہے کہ تصاویر جاری کرنے کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے کہ یہ تصاویر جذبات کو بھڑکانے یا پروپیگنڈے کا ذریعے کے طورپر تقسیم نہ ہوتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے ضروری ہے کہ ایسی تصاویر جس میں (اسامہ کو) سر میں گولی ماری گئی ہے لوگوں کے جذبات بھڑکانے یا تشدد میں اضافے کے لیے استعمال نہ کی جا سکیں‘۔
’میرے خیال میں تصاویر کی نوعیت کی وجہ سے یہ قومی سلامتی کے لیے ایک قسم کا خطرہ بن سکتی ہیں۔‘
خیال رہے کہ امریکی صدر کا یہ فیصلہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا کے ایک دن قبل دیے گئے اس بیان سے متضاد ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آنے والے وقت میں تصاویر جاری کی جا سکتی ہیں۔
اس سے قبل اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ سے ملنے والی معلومات کے بعد مزید نام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔
میرے خیال میں تصاویر کی نوعیت کی وجہ سے یہ قومی سلامتی کے لیے ایک قسم کا خطرہ بن سکتی ہیں۔
براک اوباما
ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن ایک جائز فوجی ہدف تھے۔ انھوں نے سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کو بتایا کہ اسامہ نے فوجی آپریشن کے دوران خود امریکی کمانڈوز کے حوالے کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور ان کی ہلاکت قومی دفاع کی کارروائی تھی۔
گزشتہ روز امریکہ نے کہا تھا کہ جب اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا اس وقت وہ مسلح نہیں تھے البتہ انھوں نے مزاحمت کی تھی۔
اس کارروائی کے بعد ناقدین نے اوباما کے خلاف ہونے والے کمانڈو ایکشن کی قانونی حیثیت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایرک ہولڈر نے بتایا کہ اسامہ کسی بھی لمحے فرار کے لیے تیار تھے، ان کے لباس میں پانچ سو یورو کے نوٹ سلے ہوئے تھے اور دو ٹیلی فون نمبر بھی درج تھے۔
اسامہ کو ہلاک کرنے والی کمانڈو ٹیم نے ایبٹ آباد میں اس گھر سے جہاں اسامہ بن لادن قیام پذیر تھے دس کمپیوٹر، دس موبائیل فون اور تقریباً ایک سو فلیش ڈرائیویں برآمد کی تھیں۔
الزامات لگانے کا وقت نہیں

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے اس دعویٰ کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی معلومات کو پاکستان سے خفیہ رکھنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا کہ کہیں یہ راز افشا نہ ہو جائے۔
پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے خیال میں امریکی بیان پریشان کن ہے کیونکہ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے سے تعاون کیا ہے۔
سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ وقت ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے اسامہ جیسے ’ہائی ویلیو ٹارگٹ‘ کو پکڑنے کے لیے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی بہت اہم ہے تاہم اِسے مثال نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کمپاؤنڈ جہاں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا کی نشاندہی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے کچھ عرصہ قبل کی تھی۔
سلمان بشیر کے مطابق انہیں معلومات کی بنیاد پر امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے اپنی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مدد سےاسامہ بن لادن تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
پاکستان کی گراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے اپنی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مدد سےاسامہ بن لادن تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔
سلمان بشیر
اُن کے مطابق دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کا اہم کردار رہا ہے۔
اس سے قبل پاکستانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اپریل دو ہزار گیارہ کے وسط تک امریکہ کے ساتھ ایبٹ آباد اور اس کے مضافات میں غیر ملکیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتا رہا ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان نے پیشگی اطلاع دیے بغیر امریکی آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستبقل میں ایسے یکطرفہ آپریشن سے نہ صرف پاکستانی تعاون خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ ایسا کوئی آپریشن عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ایبٹ آباد اور کے مضافاتی علاقے سن دو ہزار تین کے بعد سے خفیہ اداروں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور انہیں خفیہ معلومات بنیاد پر آئی ایس آئی نے سن دو ہزار چار میں القاعدہ اہداف کے خلاف کامیاب آپریشن کیا تھا۔
اس سے پہلے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے کہا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی ادارے کے لیے سخت ہزیمت کا باعث بنی ہے۔
اُدھر سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نے کہا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی معلومات کو پاکستان سے خفیہ رکھنے کا فیصلہ اس خوف کی وجہ سے کیا گیا تھا کہ یہ راز افشا کر دیا جائے گا۔
لیون پنیٹا نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا کہ اطلاعات کا تبادلہ اس مشن کو ناکام کر سکتا ہے۔
ہم نے تو بتایا تھا

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپریل دو ہزار گیارہ کے وسط تک امریکہ کے ساتھ ایبٹ آباد اور اس کے مضافات میں غیر ملکیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتا رہا ہے
وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہیں معلومات کی بنیاد پر امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے اپنی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مدد سے اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں کامیاب ہوا اور اس امر کو امریکی صدر اور سیکریٹری خارجہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔’
ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی معلومات کو پاکستان سے خفیہ رکھنے کا فیصلہ اس خوف کی وجہ سے کیا گیا تھا کہ یہ راز افشا کر دیا جائے گا۔
سی آئی اے سربراہ
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپریل دو ہزار گیارہ کے وسط تک امریکہ کے ساتھ ایبٹ آباد اور اس کے مضافات میں غیر ملکوں کی نقل و حرکت کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتا رہا ہے
پاکستان نے پیشگی اطلاع دیے بغیر امریکی آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستبقل میں ایسے یکطرفہ آپریشن سے نہ صرف پاکستانی تعاون خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ ایسا کوئی آپریشن عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ادھر سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی معلومات کو پاکستان سے خفیہ رکھنے کا فیصلہ اس خوف کی وجہ سے کیا گیا تھا کہ یہ راز افشا کر دیا جائے گا۔
لیون پنیٹا نے ٹائم میگزین کو بتایا ہے کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ اطلاعات کا تبادلہ اس مشن کو ناکام کر سکتا ہے۔
جبکہ وائٹ ہاوس نے اب کہا ہے کہ جب اسامہ بن لادن کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تو وہ اس وقت مسلح نہیں تھے۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ اسامہ نے مزاحمت کی جس پر انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مسلح نہ ہونے کے باوجود اسامہ نے مزاحمت کیسے کی۔
جے کارنی نے کہا کہ امریکی فوجیوں کو اس آپریشن کے دوران اسامہ کے گھر میں موجود مسلح افراد کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ایبٹ آباد اور کے مضافاتی علاقے سن دو ہزار تین کے بعد سے خفیہ اداروں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور انہیں خفیہ معلومات بنیاد پر آئی ایس آئی نے سن دو ہزار چار میں القاعدہ اہداف کے خلاف کامیاب آپریشن کیا تھا۔
مستبقل میں ایسے یکطرفہ آپریشن سے نہ صرف پاکستانی تعاون خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ ایسا آپریشن عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ
’جہاں تک امریکہ کی طرف سے نشانہ بنائی جانے والی عمارت کا تعلق ہے، اس کے بارے میں آئی ایس آئی سی آئی اے اور دیگر دوست ملکوں کے خفیہ اداروں کے ساتھ سن دو ہزار نو تک انٹیلیجنس کا تبادلہ کرتا رہا ہے۔‘
اس سے پہلے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے کہا تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی ادارے کے لیے سخت ہزیمت کا باعث بنی ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے حکام نے بتایا کہ جس مکان میں اسامہ بن لادن پناہ لیے ہوئے تھے انہیں اس کے بارے میں 2003 سے پتہ تھا۔
بی بی سی کے اوئن بینٹ جونز کے مطابق آئی ایس آئی کے ایک افسر نے بتایا کہ سنہ 2003 میں جب یہ مکان زیرِتعمیر تھا اس پر القاعدہ کے ایک اور رہنما ابو فراج اللبی کی تلاش میں چھاپہ مارا گیا تھا جو اس وقت کے سربراہِ حکومت جنرل مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں مطلوب تھے۔
تاہم بعد ازاں اس مکان کی نگرانی کا سلسلہ ختم کر دیا گیا اور اب پاکستانی خفیہ ادارے یہ نہیں جانتے تھے کہ وہاں اسامہ بن لادن موجود ہیں۔
امریکی ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقوں اور ایسی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئے جو ریڈار پر نہیں آتے ہیں۔
پاکستان
پاکستان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایبٹ آباد میں آپریشن کے لیے امریکی ہیلی کاپٹر پاکستانی غازی ائربیس سے اڑے تھے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایبٹ آباد میں آپریشن سے متعلق کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کی۔
پاکستان نے کہا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقوں اور ایسی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئےپاکستان میں داخل ہوئے جو ریڈار پر نہیں آتے ہیں۔
پاکستان نے کہا پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے امریکی ہیلی کاپٹروں کا پتہ نہیں چل سکا لیکن جوں ہی اسے ایبٹ آباد میں جاری آپریشن کے بارے میں اطلاعات ملی تو پاکستان فضائیہ کے ہوائی جہاز منٹوں میں ہوا میں فضا میں بلند ہوئے جس کو وائٹ ہاؤس کے مشیر جان برینن نے بھی تسلیم کیا ہے۔
پاکستان میں اونچے دیواروں والے گھر کوئی انہونی بات نہیں ہے اور خصوصاً ایسے گھر جہاں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے متاثرین رہتے ہیں وہاں مقامی روایت کے مطابق دیواریں اونچی ہوتی ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ
پاکستانی دفتر خارجہ نے ایبٹ آباد میں نشانہ بنائے جانے والےگھر کی دیواروں کے حوالے سے جاری بحث کے بارے میں کہا کہ پاکستان میں ایسےگھروں کا وجود کوئی انہونی بات نہیں ہے اور خصوصاً ایسے گھر جہاں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے متاثرین رہتے ہیں وہاں مقامی روایت کے مطابق دیواریں اونچی ہوتی ہیں۔
اسامہ بن لادن کے خاندان کے افراد کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور ان میں سے جن کو طبی امداد کی ضرورت تھی انہیں امداد دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے کہا کہ پاکستانی قانون کے تحت ان افراد کو ان کے آبائی ممالک کے حوالے کر دیا جائے گا۔
دفتر خارجہ نے کہا پاکستان کو پیشگی اطلاع دیے بغیر امریکہ نے جس ا نداز میں یہ آپریشن کیا ہے پاکستان کو اس پر شدید تحفظات ہیں۔
پاکستان نے کہا کہ مستبقل کے ایسے یکطرفہ آپریشن اس جنگ میں پاکستانی تعاون کو نہ صرف خطرے میں ڈال سکتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی مدد سے القاعدہ اور دوسری دہشتگرد تنظیموں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور امریکہ اور دوسری دوست ممالک کو القاعدہ کے خلاف جنگ میں کامیابیاں پاکستانی مدد سے ہی ملی ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ یہ انکشاف پاکستانی خفیہ ادارے کے لیے باعثِ شرمندگی ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان کے اس علاقے میں موجود تھا اور وہ اس سے لاعلم تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ’ہم کارکردگی میں اچھے ہیں لیکن ہم خدا نہیں ہیں‘۔
خفیہ ادارے کے حکام نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ اسامہ بن لادن کی بارہ سالہ بیٹی پاکستانی حکام کی تحویل میں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے امریکیوں کو اپنے والد کو گولی مارتے دیکھا تھا۔
حکام کے مطابق ایبٹ آباد میں چھپے ہوئے اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے وقت اس گھر میں سترہ سے اٹھارہ لوگ موجود تھے اور اگر امریکی ہیلی کاپٹر تباہ نہ ہوتا توامریکی کمانڈوز تمام افراد کو ساتھ لے جاتے۔
آئی ایس آئی کے ایک اہلکار نے صحافیوں کی بتایا کہ امریکی صرف اسامہ بن لادن کی لاش اور ایک دوسرے شخص کو جو شاید اسامہ بن لادن کے بیٹے تھے، زخمی حالت میں اپنے ساتھ لےگئے۔
کارروائی کے دوران اس کمپاؤنڈ میں متعدد بچے اور عورتیں موجود تھے جن کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے اور ان کے خیال میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ سے انہیں ساتھ اس لیے نہیں لے جایا گیا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ امریکی فوجی جاتے ہوئے جن چار لاشوں کو اس مکان میں چھوڑ گئے ان میں سے ایک اسامہ بن لادن کا بیٹا، دو بھائی اور ایک سکیورٹی گارڈ تھا۔
اس حملے میں جو افراد بچ گئے ان میں اسامہ بن لادن کی ایک بیوی، ایک بیٹی اور آٹھ سے نو بچے ہیں۔ ایک لڑکی کے علاوہ باقی بچے بظاہر اسامہ بن لادن کے نہیں ہیں۔
آئی ایس آئی نے اسامہ بن لادن کی بیوی سے بھی بات چیت کی ہے جنہوں نے ہوش میں آنے کے بعد بتایا کہ وہ یمنی نژاد ہیں اور وہ لوگ اس گھر میں کچھ ماہ پہلے ہی منتقل ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن میں چار ہیلی کاپٹر استعمال ہوئے جن میں سے دو نے لینڈنگ کی۔ آئی ایس آئی کے اہلکار نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ آپریشن سے ایک گھنٹہ پہلے پاکستانی فوجیوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے پڑوسیوں کو بتیاں بجھانے کے لیے کہا تھا۔
اسامہ ہلاکت ناکامی کی نشانی نہیں

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اس خیال کو رد کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کا پاکستان میں ہلاک کیا جانا پاکستان کی دہشتگردی سے نمٹنے میں ناکامی کی نشانی ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک اداریے میں پاکستانی صدر نے کہا ہے کہ ان کا ملک تو دنیا میں دہشتگردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے۔
اسامہ بن لادن کو اتوار کی شب پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے خصوصی دستے نے ایک کارروائی کے دوران چار دیگر افراد کے ہمراہ ہلاک کر دیا تھا۔
پاکستانی حکام اس کارروائی سے لاعلم تھے اور امریکہ نے آپریشن کی تکمیل کے بعد ہی پاکستانی حکام کو اس کی اطلاع دی تھی۔ امریکی حکام کا یہ خیال بھی ہے کہ پاکستانی اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے محل و وقوع سے آگاہ تھے۔
تاہم اپنے مضمون میں صدر زرداری نے ان خیالات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ذرائع ابلاغ میں پیش کی جانے والی تصویر کے برعکس پاکستان نہ کبھی انتہاپسندی کا مرکز تھا اور نہ کبھی ہوگا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کے بے بنیاد اندازے سنسنی خیز خبر تو بن سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت کے عکاس نہیں‘۔
ذرائع ابلاغ میں پیش کی جانے والی تصویر کے برعکس پاکستان نہ کبھی انتہاپسندی کا مرکز تھا اور نہ کبھی ہوگا۔ اس قسم کے بے بنیاد اندازے سنسنی خیز خبر تو بن سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت کے عکاس نہیں۔
صدر زرداری
صدر زرداری نے لکھا کہ ’ پاکستانیوں کے پاس القاعدہ سے نفرت کے کسی بھی قوم سے زیادہ وجوہات ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ اتنی ہی پاکستان کی ہے جتنی امریکہ کی اور پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف کھڑے رہنے کی بڑی قیمت ادا کی ہے‘۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اتوار کے روز ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی میں پاکستانی فورسز شامل نہیں تھیں اور یہ پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ آپریشن نہیں تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں پاکستان کے صدر نے لکھا ہے کہ اس مخصوص کارروائی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز تو شامل نہیں تھیں لیکن پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک دہائی پر محیط تعاون القاعدہ رہنما کی ہلاکت کا باعث بنا ہے۔
پاکستانی صدر نے لکھا ہے کہ اسامہ بن لادن جس جگہ پائے گئے اس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی لیکن بہرحال وہ اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ صدر زرداری نے اس مضمون میں صدر براک اوبامہ کی جانب سے اس آپریشن میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
نامہ نگاروں کے مطابق اس وقت پاکستانی حکومت شدید مشکل کا شکار ہے اورجہاں اندرونی طور پر عوام اس سے ناراض ہیں وہیں امریکی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کہیں اور کوئی اہم رہنما تو یہاں چھپا ہوا تو نہیں۔
اور اس صورتحال میں پاکستان کے عسکری حکام کی جانب سے خاموشی سب سے حیران کن چیز ہے۔
اسامہ کی زندگی

کسی کے لیے ہیرو اور کسی کے لیے دہشت گردی کا منبع سمجھے جانے والے بین الاقوامی شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ڈرامائی انداز میں ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے اسامہ بن لادن کی زندگی پر نظر ڈالی۔
اسامہ بن لادن دس مارچ 1957 کو سعودی عرب میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد محمد بن لادن ایک معروف کنسٹرکشن کمپنی کے مالک اور سعودی عرب کی ایک امیر شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد بن لادن کی کمپنی نے سعودی عرب کی اسی فیصد سڑکیں بنائی ہیں۔
اسامہ بن لادن کی والدہ کا تعلق یمن سے بتایا جاتا ہے۔
1968 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں اپنے والد کی ہلاکت کے بعد اسامہ بن لادن اور ان کے بھائیوں کو تقریباً پچیس کروڑ ڈالر کے اثاثے ملے۔
بتایا جاتا ہے کہ اسامہ بن لادن کنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں سول انجنئرنگ کے طالب علم تھے۔ اس دوران ان کی ملاقات شدت پسند اور سخت گیر سمجھے جانے والے طالب علموں اور اساتذہ سے ہوئی جس سے طالب علمی کے زمانے ہی میں اس کے نظریات میں تبدیلی آنی شروع ہوگئی۔
انیس سو اناسی میں جب سابق سویت یونین نے افغانستان پر یلغار کی تو اس نے اسامہ بن لادن کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے۔ وہ اسی کے دہائی میں افغانستان آئے اور کمیونزم کے خلاف جنگ میں بھر پور حصہ لیا اور تقریباً ایک عشرے تک افغانستان میں ’جہاد‘ کے کاموں سے منسلک رہے۔
سکیورٹی تـجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن افغانستان میں امریکی سی ائی اے کے تعاون سے لڑے اور انہوں نے ہی ان کو تربیت دی اور اسلحہ فراہم کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس جنگ کے اختتام پر بھی بن لادن کی سوچ میں کافی تبدیلی آئی ۔
امریکہ کے لیے اسامہ بن لادن میں شاید اس وقت نفرت پیدا ہوئی جب 1991 میں خلیجی جنگ کے دوران تین لاکھ امریکی فوجیوں نے پہلی مرتبہ سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھا۔ امریکی فوجیوں کے داخلے کو وہ سعودی عرب جیسی’ پاک زمین‘ پر انتہائی توہین امیز سمجھتے تھے اور اسی اقدام نے انہیں امریکہ کا جانی دشمن بنا دیا۔
اس اقدام کے خلاف انہوں نے اپنے ساتھیوں اور مشرق وسطیٰ میں دیگر قوتوں کے ہمراہ امریکہ کے خلاف ایک محاذ بنانا شروع کیا۔ انیس سو چورانے میں امریکہ کے دباؤ پر سعودی عرب کی حکومت نے بن لادن کی سعودی عرب کی شہریت ختم کردی جس کے بعد وہ پھر کچھ عرصہ سوڈان میں رہے لیکن وہاں سے بھی نکالے گئے اور بالآخر دو سال بعد یعنی انیس سو چھیانوے میں دوبارہ اپنے بیوی بچوں سمیت افغانستان آگئے۔
اسامہ بن لادن جب افغانستان پہنچے تو ان دنوں وہاں طالبان تحریک عروج پر تھی اور چند ہی ماہ کے بعد طالبان عسکریت پسندوں نے دارالحکومت کابل پر قبضہ کرلیا تھا۔
افغانستان میں انہوں نے طالبان تحریک کے اہم رہنماؤں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرلیے اور القاعدہ تنظیم کے ذریعے سے ان کی ہر ممکن معاشی اور دوسری مدد کی جس سے یہ تعلق مضبوط ہوتا گیا۔
1998 میں بن لادن نے افغانستان میں ایک فتوے کے ذریعے امریکیوں اور یہودیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا اور بحیثیت مسلمان امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو قتل کرنا ایک فرض سے تعبیر کیا۔
اس اعلان کے چھ ماہ بعد کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کیے گئے جس میں ڈھائی سو کے قریب افراد مارے گئے۔ ان حملوں کا شبہ اسامہ بن دلان اور ان کے سولہ ساتھیوں پر ظاہر کیاگیا۔
ان واقعات کے بعد وہ امریکی ایف بی آئی کے سب سے اہم اور مطلوب افراد میں شمار ہونے لگے اور ان کے سر کی قیمت پچیس ملین امریکی ڈالر مقرر کی گئی۔ ان دنوں مشرقی افغانستان میں ان کے ٹھکانوں اور تربیت گاہوں پر امریکی کروز میزائل سے حملے بھی کیے گئے جس میں پچاس سے زآئد میزائل داغے گئے تاہم حملوں میں خود محفوظ رہے۔
اسامہ بن لادن پر انیس سو ترانوے میں نیو یارک کے مقام پر ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور سعودی عرب میں امریکی شہریوں پر حملوں کے الزامات بھی لگائے گئے۔ اسامہ بن لادن ان حملوں کے بارے میں اکثر کہتے تھے کہ ’میں ہمیشہ سے امریکیوں کو مارتا ہوں کیونکہ وہ ہمیں مارتے ہیں لیکن امریکیوں پر حملوں کے وقت ہم دوسرے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔‘
گیارہ سمتبر 2001 میں امریکہ پر حملوں کی ذمہ داری اسامہ بن لادن اور ان کے القاعدہ تنظیم پر عائد کی گئی۔ ان کے حملوں کے نتیجے میں امریکہ نے دو ہزار ایک کے آخر میں افغانستان پر حملہ کردیا اور یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ اسامہ بن لادن تورہ بورہ میں ہونے والے آپریشن کے دوران مارے گئے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اپنے ساتھیوں سمیت افغانستان سے پاکستان کی قبائلی پٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ آخری مرتبہ بن لادن تورہ بورہ کی پہاڑیوں میں دیکھے گئے تھے۔ تاہم اس دوران امریکی اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے ان کی تلاش جاری رہی۔ امریکی حکام کی طرف سے کئی مرتبہ یہ کہا گیا کہ القاعدہ کے سربراہ پاکستان اور افغانستان کے قبائلی علاقوں میں رو پوش ہیں تاہم پاکستان اس کی تردید کرتا رہا ہے۔
روپوشی کے بعد اسامہ بن لادن آڈیو یا وڈیو کسیٹوں کے ذریعے سے میڈیا کو وقتاً فوقتاً اپنے پیغامات جاری کرتے رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ چار سال سے ان کی طرف سے پیغامات جاری کرنے کا سلسلہ بھی رک گیا تھا بلکہ ان کی جگہ بیانات جاری کرنے کی ذمہ داری القاعدہ کے دوسرے اہم رہنما ڈاکٹر ایمن الزواہری کے سپرد کی گئی تھی۔
اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں القاعدہ جنگجوؤں کی ہلاکت اور اہم لیڈروں کی روپوشی کی وجہ سے القاعدہ کا تنظیمی ڈھانچہ کافی حد تک کمزوری کا شکار ہوگیا ہے جبکہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت یقینی طورپر اس تنظیم کےلیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔