آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 مارچ 2011 ,‭ 13:15 GMT 18:15 PST

اسمبلی میں حکومت، حزب اختلاف کا ’واک آؤٹ‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اقلیتوں کے امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل پر تین روزہ سرکاری سوگ منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ قتل کے خلاف حکومت اور حزب مخالف نے علامتی واک آؤٹ کیا ہے۔

فائل فوٹو،

بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو قتل کیا گیا

وزیراعظم نے سوگ کا اعلان جمعرات کو قومی اسمبلی میں شہباز بھٹی کے قتل پر قواعد معطل کر کے بحث کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پرچم سرنگوں رہے گا۔ ان کے بقول پرچم میں جو سفید حصہ ہے وہ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

کلِک پاکستان میں ابھی باضمیر لوگ زندہ ہیں: انٹریو سنیے

کلِک وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو قتل کر دیا گیا

جب کارروائی شروع ہوئی تو سابق رکن قومی اسمبلی پیر آف رانی پور عبدالقادر شاہ جیلانی کی وفات پر فاتحہ خوانی کی گئی۔ پیر عبدالقادر شاہ جیلانی شکار کے بڑے شوقین تھے اور سندھ میں انہیں ایک بہت بڑا نشانہ باز سمجھا جاتا ہے۔

جس کے بعد قواعد معطل کرکے مقتول وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو خراج پیش کرنے اور بڑھتی ہوئی شدت پسندی، انتہا پسندی اور عدم برداشت کی صورتحال پر بحث کی گئی۔ مذہبی پارٹی جمیعت علماء اسلام (ف) کی اقلیتی رکن آسیہ ناصر نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔

پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا: آسیہ ناصر

انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے کے لیے عیسائی برادری نے ووٹ دیا اور قربانیاں بھی دیں لیکن کبھی نصاب میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا پاکستان بننے کے بعد اقلیتوں کو دیوار سے لگایا جاتا رہا ہے۔’ہمیں کبھی برتن علیحدہ کرنے کا کہا جاتا رہا تو کبھی اچھوت کہا جاتا رہا ہے۔‘

آسیہ ناصر نے انکشاف کیا کہ شہباز بھٹی کو دھمکیاں مل رہی تھیں اور انہوں نے وزیرا داخلہ رحمٰن ملک سے ان کی سکیورٹی بڑھانے پر بات کی تو وزیر داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ لیکن ان کے بقول جب انہوں نے شہباز بھٹی سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کوئی سکیورٹی نہیں بڑھائی گئی، ’رحمٰن ملک جھوٹ بول رہے ہیں۔‘

ان کے بقول شہباز بھٹی کے قتل کی ذمہ دار حکومت ہے اور رحمٰن ملک سے پوچھا جائے کہ انہوں نے سکیورٹی کی فراہمی میں کیوں کوتاہی برتی؟

شہباز بھٹی کے قتل کی ذمہ دار حکومت ہے اور رحمٰن ملک سے پوچھا جائے کہ انہوں نے سکیورٹی کی فراہمی میں کیوں کوتاہی برتی؟

آسیہ ناصر

انہوں نے کہا کہ شہباز بھٹی وفاقی وزیر تھے لیکن انہیں خطروں کے باوجود بلٹ پروف گاڑی ملی اور نہ ہی ’منسٹرز انکلیو‘ میں مکان۔ جبکہ ان کے بقول منسٹرز کالونی میں اب بھی کئی برطرف وزیر رہائش پذیر ہیں۔

انہوں نے قتل کے خلاف واک آؤٹ کا اعلان کیا تو مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم نے بھی اس میں شرکت کا اعلان کیا۔ جس پر وزیر قانون بابر اعوان نے کہا کہ حکومت بھی واک آوٹ کرتی ہے۔ اس دوران عوامی نیشنل پارٹی کے بعض اراکین نے واک آوٹ نہیں کیا اور کہا کہ یہ واک آؤٹ حکومت کے خلاف ہے اس میں وہ شریک نہیں ہوسکتے۔ لیکن ان کی خواتین اراکین نے واک آؤٹ کیا۔

گزشتہ روز جب شہباز بھٹی کے قتل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ایوان میں دو منٹ کی کھڑے ہو کر خاموشی اختیار کی گئی تو جمیعت علماء اسلام (ف) کے بعض اراکین اس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ لیکن ان کی خاتون رکن کی جانب سے جمعرات کو احتجاج کے بعد مولانا عطاء الرحمٰن نے اس کی حمایت میں کہا کہ ’ہم اس قتل کی تردید اور مذمت کرتے ہیں۔‘

انہوں نے امریکہ کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ اس خطے میں موجود ہے تو ایسی لاشیں اٹھانی پڑیں گی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن پلواشہ خان شہباز بھٹی کے قتل پر روتی رہیں اور ان کی ساتھی خواتین انہیں دلاسہ دیتی رہیں۔

شہباز بھٹی نے بین المذاہب ہم آہنگی کے محمد علی جناح کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا اور ان کے قتل جیسے اقدام اسلام کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم غلط راستے پر چل پڑے ہیں اور یہ تباہی کا راستہ ہے۔ ہمیں ہندو، سکھ اور کرسچن کی ضرورت ہے۔ اس قتل سے ہم نے دنیا میں پاکستان اور اسلام کا چہرہ مسخ کرکے یہ پیغام دیا کہ ہم عدم برداشت کے قائل ہیں

جاوید ہاشمی

مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ شہباز بھٹی نے بین المذاہب ہم آہنگی کے محمد علی جناح کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا اور ان کے قتل جیسے اقدام اسلام کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم غلط راستے پر چل پڑے ہیں اور یہ تباہی کا راستہ ہے۔ ہمیں ہندو، سکھ اور کرسچن کی ضرورت ہے۔ اس قتل سے ہم نے دنیا میں پاکستان اور اسلام کا چہرہ مسخ کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ ہم عدم برداشت کے قائل ہیں۔‘

مسلم لیگ (ق) اکرم مسیح گِل، ایم کیو ایم کے منوہر لال، مسلم لیگ (ن) کے درشن لال، اریش کمار، پیپلز پارٹی کے لال چند اور دیگر اقلیتی اراکین نے کہا کہ شہباز بھٹی کے قتل سے پاکستان میں اقلیتوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ وہ غیر محفوظ ہیں۔

انہوں نے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعض نے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ بھی کیا۔ لال چند نے ایک شعر بھی پڑھا۔

مسئلہ بلٹ پروف کار کا نہیں یہ انٹیلی جنس حکام کی ناکامی ہے اور ان کی باز پرس ہونی چاہیے: بشرٰی گوہر

جب کبھی لہو کی ضرورت پڑی، سب سے پہلے گردن ہماری کٹی

پھر بھی کہتے ہیں ہم سے اہل چمن، یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

مسلم لیگ (ق) کے میاں ریاض پیرزادہ نے کہا پاکستان کا نظام عدل بیٹھ چکا ہے اور اسٹیبلشمینٹ کا دوغلہ رویہ ہے کیونکہ شدت پسندوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ یہاں دعا تک نہیں کروائی جاتی۔

عوامی نیشنل پارٹی کی بشریٰ گوہر نے کہا کہ آئین متضاد ہے اس میں وزیراعظم اور صدر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ہے اور ایسے میں اقلیتوں کو کیسے مساوی شہری مانا جا سکتا ہے۔ مذہبی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا جا سکتا اور اس طرح کی منافقانہ پالیسیاں ختم کرنی ہوں گی۔ ان کے بقول مسئلہ بلٹ پروف کار کا نہیں یہ انٹیلی جنس حکام کی ناکامی ہے اور ان کی باز پرس ہونی چاہیے۔

بشریٰ گوہر نے مزید کہا کہ پنجاب میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں اور پنجاب حکومت فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی کرے ورنہ ان کا حال بھی خیبر پختونخوا والا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے دور میں بنائے گئے تمام امتیازی قوانین ختم کریں۔

پنجاب میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں اور پنجاب حکومت فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی کرے ورنہ ان کا حال بھی خیبر پختونخوا والا ہوسکتا ہے

بشریٰ گوہر

سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی نے کہا کہ وہ شہباز بھٹی جیسے شفیق انسان سے محروم ہوگئے ہیں اور ان کے قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز بھٹی کو مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

سلمان تاثیر کے قتل کے بعد ان کے بارے میں دعائے مغفرت کو متنازعہ بنایا گیا اور اراکین بھی اپنی تقاریر میں کافی محتاط تھے لیکن شہباز بھٹی کے قتل کے خلاف تمام جماعتوں کے نمائندوں نے کھل کر باتیں کیں اور ان کے قتل کو پاکستان پر حملہ قرار دیا ہے۔

بحث کے دوران کئی اراکین نے وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر غفلت برتنے کا الزام عائد کیا اور وزیر داخلہ ایوان میں موجود ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں بولے۔ لیکن بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’منسٹرز انکلیو میں مکان دینے یا بلٹ پروف گاڑی دینے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے، میرے پاس خود بلٹ پروف گاڑی نہیں ہے۔‘

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔