آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 جنوری 2011 ,‭ 14:51 GMT 19:51 PST

’پاکستان کی بھارتی شہروں سے ٹیکس وصولی‘

پاکستان کے ٹیکس حکام نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سات شہروں کو اپنے علاقے ظاہر کرتے ہوئے وہاں سے ٹیکس وصول کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر نجمہ حمید کے سوال کے جواب میں اقتصادی امور کی وزیرِ مملکت حنا ربانی کھر نے جو تحریری جواب پیش کیا ہے اس میں بھارتی شہروں اور ان سے پاکستان کو ٹیکس دینے والوں کی تعداد بھی بتائی ہے۔

جس کے مطابق اُدھم پور، سرینگر، راجوڑی، اسلام آباد (اننت ناگ) میں ایک ایک ٹیکس دہندہ ہے۔ جبکہ لہہ میں ایک سو اٹھانوے، کٹھوہہ میں دو اور ڈوڈا میں ایک سو اکہتر ٹیکس دہندگان حکومتِ پاکستان کو ٹیکس دیتے ہیں۔

حنا ربانی کھر نے بتایا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگاں کی تعداد تیس لاکھ بیالیس ہزار دو سو چھیالیس ہے۔

حکومت نے ضلع وار ٹیکس دہندگاں کی تعداد پر مشتمل معلومات تو ایوان بالا میں پیش کردی ہیں لیکن ٹیکس دہندگان کے نام ظاہر نہیں کیے اور کہا ہے کہ قانون کے مطابق حکومت نام ظاہر نہیں کر سکتی۔

حکومت نے ضلع وار ٹیکس دہندگاں کی تعداد پر مشتمل معلومات تو ایوان بالا میں پیش کردی ہیں لیکن ٹیکس دہندگان کے نام ظاہر نہیں کیے اور کہا ہے کہ قانون کے مطابق حکومت نام ظاہر نہیں کر سکتی۔

پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس دہندگان کی تعداد کا تعلق کراچی سے ہے، جو سات لاکھ کے قریب ہے۔ جب کہ لاہور میں ٹیکس دہندگان کی تعداد تقریباً ساڑھے چار لاکھ، کوئٹہ میں تئیس ہزار، پشاور میں پینسٹھ ہزار ٹیکس دہندگان ہیں۔

فیصل آباد میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار، راولپنڈی میں ایک لاکھ سینتالیس ہزار، اسلام آباد ایک لاکھ بائیس ہزار، حیدرآباد اکیس ہزار، ملتان ساٹھ ہزار، لاڑکانہ دس ہزار، نوابشاہ سات ہزار، شمالی وزیرستان ڈیڑھ سو اور جنوبی وزیرستان میں تریسٹھ ٹیکس دہندگان ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد تو سب سے زیادہ پنجاب میں ہے لیکن سب سے زیادہ ٹیکس صوبہ سندھ سے وصول ہوتا ہے اور پاکستان کی نصف آبادی والے صوبے پنجاب سے زیادہ ٹیکس اسلام آباد شہر سے وصول ہوتا ہے۔

ُادھر قومی اسمبلی میں ارشد خان لغاری کے سوال پر وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے بتایا کہ پنجاب سے ساڑھے چودہ لاکھ ٹیکس دہندگان دو سو ارب روپے ٹیکس دیتے ہیں۔ جبکہ صوبہ سندھ سے آٹھ لاکھ چھتیس ہزار ٹیکس دہندگان چار سو ساٹھ ارب روپے ٹیکس دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں پونے دو لاکھ ٹیکس دہندگان سے تیرہ ارب روپے، بلوچستان کے چھتیس ہزار ٹیکس دہندگان کے سات ارب روپے اور اسلام آباد کے سوا لاکھ ٹیکس دہندگان سے دو سو سولہ ارب روپے ٹیکس وصول ہوتا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔