
اسلام آباد میں وکلاء سلمان تاثیر کے قاتل کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں
پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، تعیناتی سے لیکر آخری سفر تک شہ سرخیوں میں رہے، جب انہوں نے عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی معافی کی کوششیں کیں تو مذہبی جماعتوں کے علاوہ میڈیا کی بھی زبردست تنقید کی زد میں آگئے۔
ناموس رسالت قانون نے ایک اور جان لے لی، پنجاب کے گورنر محافظ کے ہاتھوں قتل۔ ملک کے کئی اخبارات کی منگل کو شہہ سرخی کچھ اس طرح کی تھی، مگر اس کے ساتھ مذہبی جماعتوں اور علما کے بیانات اور بعض اخبارات کے اداریے بھی نظر آتے ہیں، جو کھلے یا دبے الفاظ میں اس واقعے میں ملوث اہلکار ممتاز قادری کے اقدام کی حمایت کر تے دیکھائی دیتے ہیں۔
اخبارات کے علاوہ بعض ٹی وی چینلز کے تجزیہ نگار اور صحافی بھی سلمان تاثیر کے قتل پر افسوس تو کرتے ہیں مگر اسے رد عمل بھی قرار دیتے ہیں۔
سول سوسائٹی کے حلقوں میں ایک مرتبہ پھر میڈیا کے کردار پر بحث چھڑ گئی ہے۔ عباس اطہر روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر اور اس گروپ کے ٹی وی چینل کے اینکرپرسن بھی ہیں۔ بقول ان کےمیڈیا نے بہت گندا کردار ادا کیا ہے۔ ’سلمان تاثیر ایک قانون کی مخالفت کر رہا تھا، جو جنرل ضیاالحق کے دور میں بنایا گیا۔‘
’بہت سے لوگوں نے ایسی باتیں کی ہیں جن میں ممتاز قادری کے اقدام کو درست قرار دیا گیا۔ ٹاک شوز میں مولویوں کو لانے کی کیا ضرورت تھی جو الزام دیتے ہیں کہ تاثیر نے کہا تھا کہ وہ صدر کے پاس رحم کی اپیل لیکر جائیں گے، ان مولویوں کو آئین کا نہیں پتہ، آئین کے مطابق صدر سے کسی بھی سزا میں معافی مانگی جاسکتی ہے۔‘
مذہبی انتہا پسندی کے نقاد، کالم نویس ندیم فاروق پراچہ کا کہنا ہے کہ سلمان تاثیر کے قتل سے قبل بھی میڈیا کا کردار متوازی نہیں تھا۔ ’میڈیا نے خود فروغ دیا ہے کہ اس قسم کی نفرت پھیلے۔ جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں انہیں تو میڈیا سے ترغیب ملتی ہے، اس ملک میں نفرت والا جو کلچر پھیل رہا ہے اس میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے۔‘
نائین الیون واقعے کے بعد جب دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی ابتدا ہوئی تو اس وقت پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کا ابھی جنم ہوا تھا۔ بقول بعض مبصرین کے دائیں بازو کی جماعتوں اور دانشوروں نے اسے اپنا محاذ بنا لیا۔
افغانستان میں اتحادیوں کے حملے، طالبان کی کارروائیوں اور خود کش بم حملوں کے حوالے سے مختلف دلائل سامنے آئے، ملک کے ایک بڑے چینل کے پروگرام میں احمدیوں کے قتل کے فتوے تک جاری ہوئے۔
ڈاکٹر توصیف احمد وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبے ابلاغ عامہ کے سربراہ ہیں۔ وہ میڈیا کے کردار سے رنجیدہ ہیں۔ بقول ان کے میڈیا نے جس طرح سے انتہا پسندی کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اس کی تریسٹھ سالوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
’ملزموں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، فتوے نشر کیے جا رہیں، ہم ایک ایسی صورتحال کی طرف جا رہے ہیں جس میں صرف وہ ہی لوگ زندہ رہے سکتے ہیں جو انتہا پسندوں کے ساتھ ہیں۔‘
ڈاکٹر توصیف احمد کا خیال ہے کہ میڈیا انتہا پسندی کو ایک پراڈکٹ کے طور پر فروخت کرکے اپنی مقبولیت میں تو اضافہ کر رہا ہے مگر پاکستان کو جو اس کا نقصان ہوگا اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا۔
پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کی آمد کے ساتھ ساتھ نئے اینکرز اس میدان میں اتر آئے، جو اخباروں کے کالم نگار تھے انہوں نے بھی بحث مباحثوں کی محفلیں سجانی شروع کر دیں۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے رہنما مظہر عباس کا کہنا ہے کہ میڈیا میں تربیت کا بھی فقدان ہے، جب الیکٹرانک میڈیا آیا تو پروفیشنل لوگ دستیاب نہیں تھے۔
’زیادہ تر جو لوگ آئے ہیں ان کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا یا وہ لوگ آئے جن کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا کوئی تجربہ نہیں تھا، اب ان ہی لوگوں کا تسلط ہے۔‘
مظہر عباس خود بھی اے آر وائی نیوز چینل کے اینکر پرسن ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم الفاظ کے استعمال سے لیکر بہت سی چیزوں کا خیال نہیں کرتے اور حساس معاملات پر بھی اسی طرح سے بحث کرتے ہیں جیسے سیاسی معاملات پر حالانکہ دونوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔‘
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔