آخری وقت اشاعت:  جمعـء 31 دسمبر 2010 ,‭ 12:37 GMT 17:37 PST

ناموسِ رسالت، مجوزہ ترمیم کے خلاف ہڑتال

ناموسِ رسالت کے قانون میں ترمیم کی مبینہ کوشش کے خلاف پاکستان کے بڑے شہروں میں مذہبی جماعتوں کی اپیل پر ہڑتال کی گئی ہے۔

اس ہڑتال کی کال رواں ماہ کے وسط میں اسلام آباد میں تمام مذہبی جماعتوں کی ایک کانفرنس کے بعد دی گئی تھی۔

مذہبی جماعتوں نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر توہینِ رسالت ایکٹ میں ترمیم کی گئی تو اس کی مزاحمت کی جائے گی اور یہ عمل کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ توہین رسالت قانون میں ترمیم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی شہر میں ہڑتال کی کال کامیاب رہی جس کی بڑی وجہ کراچی کے تاجروں اور ٹرانسپورٹ مالکان کا اس ہڑتال کا ساتھ دینے کا فیصلہ تھا۔

جمعہ کو جہاں کراچی کے مرکزی کاروباری مراکز ویران رہے وہیں سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری اور نجی اداروں میں حاضری بھی کم تھی جبکہ جامعہ کراچی سمیت تعلیمی بورڈز کے امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

ملک کے بڑے شہروں میں کاروبارِ زندگی معطل رہا ہے

کراچی میں اس سلسلے میں مظاہرے بھی کیے گئے۔ ایم اے جناح پر سنی اتحاد کونسل کی ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ شرکائے مظاہرہ نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر احتجاجی و مذمتی نعرے درج تھے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں اور بھی ریلیاں نکالی گئی اور شیریں جناح کالونی سے نکالی جانے والی ریلی نے جب بلاول ہاؤس کا رخ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج کر کے انہیں منتشر کر دیا۔

کراچی میں ہی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو پی کے رہنما صاحبزادہ زبیر اور جماعتِ اسلامی کے رہنما پروفیسر غفور نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شیری رحمان کا ناموِس رسالت کے قانون میں ترمیم کا بل واپس لیا جائے اور اقلیتوں کے حوالے سے وزیرِ اقلیتی امور کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کو بھی ختم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق ہڑتال کی اپیل پر لاہور میں مال روڈ، ہال روڈ، لبرٹی،گلبرگ اور اکبری منڈی سمیت مختلف بڑی مارکیٹں بند رہیں البتہ چھوٹے بازار اورگلی محلوں میں دکانیں کھلی رہیں۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے بیشتر شہروں میں جمعہ کو ہفتہ وار تعطیل ہوتی ہے، اس لیے وہاں دکانیں معمول کے مطابق بند رہیں۔

توہینِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کے خلاف بھی پاکستان میں مظاہرے ہوئے تھے

پنجاب کے مختلف شہروں میں چھوٹے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد علماء نے مساجد اور مدرسوں کے باہر ان مظاہرین سے خطاب کیا۔ لاہور میں پریس کلب کے سامنے سنی اتحاد کونسل کی زیر اہتمام ایک ریلی نکالی جا رہی ہے اس کے علاوہ تحریک حرمت رسول اور متحدہ تحریک ختم نبوت کے زیر اہتمام بھی بڑی ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے مکہ مکرمہ سے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو ایک سیکولرریاست بنانے کی ہر سازش کا مذہبی قوتیں اور عوام مل کر مقابلہ کریں گے۔

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ہڑتال کی اپیل پر پشاور میں اندرون شہر اور یونیورسٹی روڈ پر قریباً ستّر فیصد کاروباری مراکز بند رہے ہیں۔ ان کے مطابق جمعہ کی صبح جماعتِ اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے مظاہرے کیے گئے ہیں جن سے مقامی قائدین نے خطاب کیا جبکہ نمازِ جمعہ کے بعد بھی پشاور میں مزید مظاہرے ہوں گے۔

خیال رہے کہ ناموسِ رسالت کے قانون میں ترمیم کا معاملہ اس وقت اٹھا تھا جب پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی شیری رحمان نے ایوان میں نجی کارروائی کے دن ذاتی حیثیت میں ایک ترمیمی بل پیش کیا تھا جس میں ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو رکوانے کے لیے تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

اس سے قبل صوبہ پنجاب کی ایک عدالت کی جانب سے ایک مسیحی خاتون کو توہینِ رسالت کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی جس کے بعد جہاں ملک بھر میں اس سزا کی مخالفت میں سول سوسائٹی اور مسیحی تنظیموں نے جلوس نکالے تھے وہیں مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس سزا کو معاف کیے جانے کی خبروں پر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012

بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔