
پاکستان میں اقلیتیں توہین رسالت کے قانون کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں
پاکستان حکومت توہین رسالت کے قانون کے مبینہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کی تیاری کر رہا ہے اورحکومتی جماعت نے اس سلسلے میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں سےمشاورت شروع کر دی ہے۔
اقلیتوں کےوفاقی وزیر شہباز بھٹی نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئےکہا ہے کہ وہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانون سازی کی کوشش کر رہے ہیں اور امید ہے کہ اگلے سال اس بارے میں قانون سازی ہو جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی تجویز کر رہی ہے کہ توہین رسالت کی شکایت پر مقدمہ درج ہونے سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اس کی انکوئری کرے اور اگر ثابت ہو جائے کہ بادی النظر میں توہین رسالت کی گئی ہے تو پھر مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا اس وقت کوئی بھی شخص پولیس سٹیشن میں جا کر مقدمہ درج کرا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض لوگوں نے اپنے مفاد کے حصول کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آج تک پاکستان میں کسی شخص کو توہین رسالت کے قانون کے تحت ملنےوالی سزا کو پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے تسلیم نہیں کیا اور کسی شخص کو بھی سزا نہیں بھگتنی پڑی۔
انہوں نے توہین رسالت کے قانون کے موت کی سزا پانے والی آسیہ بی بی کے حوالے سے کہا ہے کہ انہوں نے پنجاب حکومت کو خط لکھا ہے کہ جیل میں ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور انہیں انصاف دلانے کے لیے تمام کوششیں کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آسیہ خاتون نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ وہاں سے بری ہو جائیں گے۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔