اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نےکہا ہے کہ کراچی میں سی آّئی ڈی کے سینٹر پر گزشتہ رات ہونے والا خود کش حملہ ’کراچی میں ہونے والا سب سے بھیانک حملہ تھا۔‘
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے جمعہ کو سی آئی ڈی سینٹر کے دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی اطلاعات تھیں کہ کچھ لوگوں کو ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے۔ ’اس حوالے سے ہم نے احتیاط برتی ہوئی تھی لیکن حملہ مکمل تیاری کے ساتھ کیا گیا ہے۔ (پولیس) کے جوانوں نے مقابلہ کیا ہے اور جو ہلاک ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر پولیس اور ایف سی کے جوان ہیں‘۔
کلِک ہم لوگوں نے جان بچانے کے لیے دوڑ لگا دی: عینی شاہد
کلِک کراچی:پولیس مرکز پر حملہ، آپ کا ردِ عمل؟
کلِک تصاویر: کراچی میں پولیس مرکز پر حملہ
کلِک اس علاقے میں پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں
کلِک سی پی ایل سی کے سربراہ کا انٹرویو
دریں اثناء پولیس ہیڈ کواٹر گارڈن میں ایف سی اور سی آئی ڈی کے آٹھ اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور آئی جـی سندھ صلاح الدین بابر خٹک نے شرکت کی۔
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کے لیے پانچ پانچ لاکھ رپے معاوضے کا اعلان کیا۔
پولیس کو وزیر اعلیٰ ہاؤس پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے سے کچھ ریکارڈ ملا ہے جس میں ایف سی اور پولیس اہلکار پوزیشن لیتے ہوئے نظر آرہے ہیں جبکہ حملہ آور کی تصاویر نظر نہیں آتیں۔ تفتیشی ادارے فائیو اسٹار ہوٹلوں کے کیمراؤں کی رکارڈنگ سے بھی مدد حاصل کر رہے ہیں۔
آئی جی سندھ صلاح الدین خٹک کا کہنا ہے کہ پولیس کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد دس کے قریب تھی اور وہ دو گاڑیوں میں سوار تھے۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے سے اگر سڑک کو بند کر دیں تو سب سے پہلے میڈیا شور مچائے گا کہ وزیر اعلیٰ کو تو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ باقی لوگوں کی کسی کو پرواہ نہیں
قائم علی شاہ
وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ’حملہ آور اس ارادے سے آئے تھے کہ اپنے لوگوں کو چھڑوائیں گے یا اپنے لوگوں کا بدلہ لیں گے لیکن ان کا مقصد تو پورا نہیں ہوا‘۔
کراچی حملے کی تحقیقات کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے ٹرک کی رجسٹریشن کراچی کی تھی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں کی تعداد کم از کم آٹھ تھی اور انھیں شبہہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان اس میں ملوث تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور پہلے گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرکے اندر داخل ہوئے اورپھر ٹرک کو اڑا دیا۔
یاد رہے کہ پولیس نے تین روز قبل شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے چھ اراکین کو گرفتار کر کے اسلحہ بارود برآمد کیا تھا، سی آئی ڈی سینٹر پر حملے کی کڑیاں اس سے ملائی جا رہی ہیں۔
جمعرات کی شب ہونے والے اس حملے میں سولہ افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔
بی سی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق قائم علی شاہ نے ایک سوال کے جواب میں اپنی سرکاری رہائش گاہ کے سامنے اس نوعیت کے واقعے کے بارے میں کہا کہ پولیس کی غفلت کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا۔
ان کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے سے اگر سڑک کو بند کر دیں تو سب سے پہلے میڈیا شور مچائے گا کہ وزیر اعلیٰ کو تو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ باقی لوگوں کی کسی کو پرواہ نہیں۔
گزشتہ رات وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے والی گلی سے کچھ مسلح افراد سی آئی ڈی سینٹر میں داخل ہوئے اور دروازے پر فائرنگ شروع کردی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور ناکامی پر بارود سے بھرا ٹرک دروازے سے ٹکرا دیا جس سے زوردار دھماکہ ہوگیا۔
آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے تخریب کاروں سے مقابلہ کیا جس کے بعد انہوں نے یہ دھماکہ کیا۔
دھماکے کے چند قدم کے فاصلے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس واقع ہے اور ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دو فائیو سٹار ہوٹل، امریکی قونصل خانہ اور کراچی کلب کی عمارت موجود ہے۔
دھماکے کی جگہ پر پندرہ فٹ بڑا گڑھا پڑ گیا۔ اس حملے کو ستمبر دو ہزار آٹھ کو اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے جیسا قرار دیا جا رہا ہے جس میں ساٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔