آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 مئ 2010 ,‭ 07:04 GMT 12:04 PST

کراچی فائرنگ: ہلاکتوں کی تعداد تئیس

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

کراچی میں بدھ کی شام سے شروع ہونے والے فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے جبکہ منگل سے اب تک تئیس افراد فائرنگ اور تشدد کا نشانہ بنے ہیں۔

گولیاں

صوبائی حکومت نے بدھ کی رات کو ہی تمام سرکاری تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کردیا تھا

سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ منگل اور بدھ کو فائرنگ کے واقعات میں تئیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو سو کے قریب افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ کس کا کیا قصور ہے۔

جمعرات کو وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی زیر صدارت امن و امان کے بارے میں اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر جن کا سیاسی وجود نہیں ہے وہ اپنا وجود قائم کرنے کے لیے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ رینجرز کو چھاپوں اورگرفتاری کی اختیارات دینے میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی جا رہی ہے، دس روز قبل ان اختیارات کی مدت ختم ہوگئی تھی۔

پولیس سرجن حامد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ نو لاشیں جناح ہپستال، چھ عباسی شہید اور تین سول ہسپتال لائی گئی ہیں۔

فائرنگ اور ہلاکتوں کا سلسلہ بدھ اور جمعرات کی شب جاری رہا۔ جمعرات کو شہر کے پشتون آبادی والے علاقوں سہراب گوٹھ، قائد آباد، اورنگی، قصبہ کالونی اور بنارس میں کشیدگی برقرار ہے۔

صوبائی حکومت نے بدھ کی رات کو ہی تمام سرکاری تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کردیا تھا جب کہ کچھ نجی تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ کراچی یونیورسٹی نے بھی اپنے امتحانات ملتوی کر دیے تھے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق شہر میں صبح سے ٹریفک معمول سے کم تھی مگر بعد میں صورتحال قدرے بہتر ہوگئی، شہر کے مرکزی علاقے کے چوراہوں اور سڑکوں پر پولیس اور رینجرز تعینات ہیں اور گشت بھی جاری ہے ۔

حکومت نے رینجرز کو بغیر وارنٹ چھاپوں اور حراست میں رکھنے کے جو اختیارات دیئے تھے ان کی مدت پوری ہوگئی ہے، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے یہ اختیارات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے مگر رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ابھی تک ٹوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

حکومت نے رینجرز کو بغیر وارنٹ چھاپوں اور حراست میں رکھنے کے جو اختیارات دیئے تھے ان کی مدت پوری ہوگئی ہے، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے یہ اختیارات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے مگر رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ابھی تک ٹوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

اس سے پہلے بدھ کی شام صدر کے علاقے لکی سٹار پر ایک لینڈ کروزر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس میں ایک شخص عبدالرحمان ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا، واقعے کے بعد صدر ایمپریس مارکیٹ میں شدید فائرنگ کی گئی جس کے بعد تمام بازار بند ہوگئی تھی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان عبدالماک کا کہنا تھا کہ مقتول محمود آباد سے عوامی نیشنل پارٹی کے احتجاج میں شرکت کے لیے آیا تھا واپسی کے وقت ان پر حملہ کیا گیا۔

کراچی احتجاج

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے کراچی کے واقعات کا از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

شاہ فیصل کالونی کے علاقے شمع شاپنگ پلازہ کے پاس بدھ کی رات نبی داد خان کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، جن کی لاش سمیت بدھ کو گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا گیا۔

پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ رکاوٹیں ہٹا کرگیٹ تک پہنچ گئے۔ پولیس نےاس موقعے پر آنسو گیس کا ایک شیل بھی فائر کیا تھا۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی کے چیئرمین شاہی سید نے ہلاکتوں کے حالیہ واقعات کو انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ناکامی قرار دیا ہے۔ انھوں نے ان واقعات کو پختونوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

شاہی سید کا کہنا ہے ان واقعات میں وہی عناصر شامل ہیں جو سانحہ بارہ مئی میں ملوث تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کافی عرسے سے پورے شہر میں ٹارگٹ کلنگ ایک بہت ہی منظم طریقے سے جاری ہے اور اس میں ایک ہی قسم کا اسلحہ استعمال ہو رہا ہے اور مارنے والوں کا انداز بھی ایک جیسا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں ایک ہی گروہ ملوث ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کراچی کے واقعات پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پر جتنا حق دیگرقومیتوں اور اے این پی کا ہے اتناہی حق ہزارے وال کاہے اور کراچی کاامن پورے شہرکے عوام کے مفادمیں ہے۔ لہٰذا وہ اے این پی اورہزارہ صوبہ تحریک چلانے والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے بینر اور پوسٹر جلانے کے بجائے ایک دوسرے کو برداشت کریں اور ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات سے گریزکیاجائے۔

اس سے قبل مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کی جانب سے ٹارگٹ کلنگز اور نو گو ایریاز کے خلاف بدھ کی صبح سپریم کورٹ کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس وقت یہ مظاہرہ جاری تھا اس وقت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری مقدمات کی سماعت کر رہے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ چیف جسٹس ٹارگٹ کلنگز کا ازخود نوٹس لیں اور نو گو ایریاز ختم کیے جائیں۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔