
پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاستدان جوڑے سید فخر امام اور ان کی اہلیہ اور سابق وفاقی وزیر بیگم سیدہ عابدہ حسین نے ’فرینڈز آف بلوچ اینڈ بلوچستان‘ کے نام سے ایک نیا فورم تشکیل دیا ہے۔
بظاہر یہ قدم وفاق سے ناراض بلوچ رہنماؤں کی رنجشیں دور کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
سیدہ عابدہ حسین نے بی بی سی کے نثار کھوکر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا تعلق پنجاب سے ضرور ہے مگر ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جنہوں نے بلوچوں کو زخم لگائے ہیں اور ان کو ناراض کیا ہے ،ہم تو ان لوگوں میں سے ہیں جو اداروں اور دیگر لوگوں کی غلطیوں پر بھی معافی مانگتے ہیں‘۔
انہوں نے اس فورم کے تحت تمام صوبوں میں سیمینار منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا۔
اسی سلسلے میں پندرہ مئی کو اسلام آباد میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل(ر)عبدالوحید کاکڑ، جنرل(ر) علی قلی خان اور جنرل(ر) صلاح الدین ترمذی کے علاوہ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے صدر محی الدین بلوچ اور دیگر بلوچ طلبہ رہنما بھی شریک ہوئے۔
جنرل(ر) عبدالوحید کاکڑ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد قریباًً پندرہ سال بعد کسی سیمینار میں شریک ہوئے اور بقول بیگم عابدہ حسین ’ وہ بولے نہیں بلکہ گرجے ہیں‘۔
میرا تعلق پنجاب سے ضرور ہے مگر ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جنہوں نے بلوچوں کو زخم لگائے ہیں اور ان کو ناراض کیا ہے ،ہم تو ان لوگوں میں سے ہیں جو اداروں اور دیگر لوگوں کی غلطیوں پر بھی معافی مانگتے ہیں۔
عابدہ حسین
جنرل کاکڑ نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ بلوچستان میں سابق فوجی سربراہ جنرل(ر) پرویز مشرف کی طرف سے فوجی آپریشن بہت بڑی غلطی ہے اور ان کے مطابق اس فوجی آپریشن میں بلوچ رہنماء نواب اکبر بگٹی کو ہلاک کرنا پاکستان کے خلاف ایک جرم تھا کیونکہ ان کے بقول نواب اکبر بگٹی اتنے ہی محب وطن پاکستانی تھے جتنے وہ خود ہیں۔
بیگم عابدہ حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم کی جانب سے ماہ جولائی میں کراچی اور ماہ اگست میں کوئٹہ میں ایسے سیمینار منعقد کیے جائیں گے جہاں ناراض بلوچوں کی سخت اور تیز باتیں بڑے حوصلے اور بردباری سے سنی جائیں گی۔
دوسری جانب بی ایس او کے مرکزی صدر محی الدین بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس طرح کے سیمینار اور فورم میں اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے جاتے ہیں اور وہ سول سوسائٹی اور مہذب دنیا کے سامنے بلوچستان کا سیاسی مسئلہ بیان کرتے رہیں گے۔
بیگم عابدہ حسین اور ان کے شوہر سید فخرامام کا تعلق پنجاب کے علاقے جھنگ سے ہے اور دونوں رہنماؤں کا سیاسی تعلق حکمراں جماعت پیپلزپارٹی سے ہے۔پیپلزپارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد ناراص بلوچوں کی رنجشیں ختم کرنے کے لیے ان سے معافی مانگی تھی اور آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے ایک پیکیج کا اعلان بھی کیا تھا۔
دوسری جانب وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے حالیہ دنوں کراچی میں بزرگ بلوچ رہنماء سردار عطاءاللہ مینگل کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی تھی اور بلوچوں کی رنجشیں ختم کرنے پر بات چیت کی تھی۔مگر سردار مینگل نے انہیں بتایا تھا کہ بلوچوں کو خفیہ ایجنسیاں اٹھا رہی ہیں، وہ قتل ہو رہے ہیں اور ان کے خلاف آپریشن اب بھی جاری ہے۔
بیگم عابدہ حسین کا کہنا ہے کہ فرینڈز آف بلوچ اینڈ بلوچستان کے تحت سرگرمیوں سے وہ بلوچوں کو پیغام پہنچانا چاہتی ہیں کہ پاکستان کی ریاست میں ان کا درد اور سمجھ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے متعلق کانفرنس کی تجاویز پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹیوں اور متعلقہ حکومتی اداروں کو روانہ کی جائیں گی۔ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان ایک کنبے کی طرح ہے اور ان کا فریضہ ہے کہ ایک دوسرے کو منا لیں۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔