
بینظیر پر قاتلانہ حملے کے بعد کا منظر
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں گزشتہ سنیچر کو یہ تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنائی تھی۔ کمیٹی نے پیرکو ابتدائی مشاورت کی اور متعقلہ افسران کو اپنے بیان قلمبند کرانے کو کہا گیا ہے۔
کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری چوہدری عبد الرؤف کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں صوبہ سرحد کے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ فیاض احمد طورو اور ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل سجاد غنی بطور رکن شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کی جگہ دھونے کا حکم تو راولپنڈی کے پولیس سربراہ سعود عزیز نے دیا تھا لیکن اقوام متحدہ کمیشن کو نام نہ بتانے کی شرط پر ایک شخص نے بتایا تھا کہ سعود عزیز نے یہ حکم میجر جرنل ندیم اعجاز کے کہنے پر دیا تھا۔
کلِک بینظیر قتل: اقوام متحدہ کی مکمل رپورٹ
میجر جنرل ندیم اعجاز جو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی بیگم، صہبا مشرف کے قریبی عزیز ہیں، وہ بینظیر بھٹو کے قتل کے وقت ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس کے عہدے پر تعینات تھے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حاضر سروس میجر جنرل سے ’سویلین اتھارٹیز‘ کی تحقیقات پر فوجی قیادت رضا مند ہوئی ہے۔ ماضی میں
جب بھی فوج کا اگر حاضر سروس کوئی کیپٹن سطح کا افسر بھی کسی معاملے میں ملوث ہو تو فوج نے یہ کہتے ہوئے سویلین حکام یا پولیس کو پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دی کہ اس واسطے ’ہمارا اپنا اندرونی نظام ہے‘۔
لیکن اب ایسی کیا وجہ ہے کہ فوج نے ایک حاضر سروس میجر جنرل سے پوچھ گچھ کی ایک سویلین کمیٹی کو اجازت دے دی، یہ سوال میں نے ایک تجزیہ کار جامی چانڈیو پوچھا تو ان کا کہنا تھاکہ ایک تو یہ بینظیر بھٹو کے قتل کا معاملہ ہے دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے میں جس طرح انٹیلی جنس اداروں کے کردار پر تبصرہ کیا گیا ہے اس سے وہ بظاہر دباؤ کا شکار ہیں اور شاید فوج یہ سمجھتی ہو کہ اگر کوئی فرد ذمہ دار ہے تو اُسے سزا ملنی چاہیے تا کہ ’خفیہ اداروں‘ پر کوئی حرف نہ آئے۔
لیکن اس بارے میں فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کہتے ہیں کہ فوجی اور سویلین افسران کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور اس کا نتیجہ آنے تک کوئی بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جبکہ اس بارے میں پیپلز پارٹی کے بعض سرکردہ کارکنوں کو اعتراض ہے کہ جب حکومت نے پہلے ہی فوجداری تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا رکھی ہے تو پھر جگہ دھونے کے بارے میں علیحدہ سے تحقیقات کرنے کا مقصد معاملے کو محض طول دینا ہے۔
بینظیر بھٹو کا خود کو پروٹوکول افسر کہنے والے چوہدری اسلم کہتے ہیں کہ حکومت معاملے کو طول نہ کرے اور اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بیک اپ کار کے غائب ہونے کے معاملے سے تحقیقات کا آغاز کرے اور یہ سامنے لائے کہ رحمٰن ملک اور بابر اعوان حادثے سے پہلے گاڑی کیسے لے گئے؟۔
پاکستان کی تاریخ میں اگر دیکھا جائے تو جب بھی کوئی اہم معاملہ ہوتا ہے تو اُسے الجھانے کے لیے کمیٹی پر کمیٹی بنادی جاتی ہے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ واقعہ لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوجائے۔ لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ آج کل کے الیکٹرانک میڈیا کے دور میں ماضی کی طرح بینظیر بھٹو کا خون چھپانا شاید آسان نہیں ہوگا۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔