
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق لڑاکا طیاروں نے مشینی کلی کے مقام پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں تین شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ چند ماہ سے عسکریت پسندوں کے خلاف محدود پیمانے پر کاروائیاں کا سلسلہ جاری ہے۔
تقریباً دو تین ماہ پہلے قبل جب ان کاروائیوں میں شدت آئی تو علاقے سے لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ شروع کیا اور اس وقت ایجنسی کی اسی فیصد آبادی علاقہ چھوڑ کر ہنگو اور آس پاس کے علاقوں میں پناہ گزین ہوچکی ہے۔
تاہم حالیہ کارروائیاں اور سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت سے بظاہر لگتا ہے کہ وہاں باقاعدہ آپریشن کا اغاز کردیا گیا ہے۔
ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے پشاور سے بتایا کہ ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی دوپہر جیٹ طیاروں نے اپر اورکزئی ایجنسی میں طالبان کے گڑھ کہلانے والے علاقے ماموں زئی میں عسکریت پسندوں کے زیر قبضہ ارغنجہ مدرسہ اور ایک نجی سکول شاہ جہان پر بمباری کی جس سے دونوں عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروائی میں آٹھ شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ماموں زئی میں ایک تبلیغی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے تاہم اس واقعہ میں ہلاکتوں کی مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہیں۔
دریں اثناء لوئر اورکزئی ایجنسی کے ہیڈ کواٹر کلایہ پر شدت پسندوں کی طرف سے راکٹ گولے داغے گئے ہیں جس میں ایک ایف سی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ عرصے سے یہ اطلاعات بھی ملی رہی ہیں کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے نتیجے میں بیت اللہ گروپ کے تحریک طالبان کے کئی اہم کمانڈر اور جنگجو علاقہ چھوڑ کر اورکزئی ایجنسی، کرم اور شمالی وزیرستان منتقل ہوئے ہیں۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔