
نصیر آباد سانحہ کے خلاف پورے ملک میں انسانی حقوق اور عورتوں کی تنظیموں نے احتجاج کیا تھا
عدالت نے ایک شخص کو چھ ماہ جبکہ سولہ افراد کو باعزت طور پر بری کرنے کے احکامات بھی صادر کیے ہیں۔ دوخواتین کے زندہ در گور کیے جانے کا واقعہ اگست سال سنہ دوہزار آٹھ میں رپورٹ ہواتھا اور اس کا فیصلہ اٹھارہ مہنے کے بعد ہوا ہے۔
منگل کے روز انسداد دہشت گردی کے جج محمد عالم مینگل کی عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے چار ملزمان غوث بخش، رحمت اللہ، محمد عارف اور مہراللہ کو پچیس پچیس سال تک قید کی سزا سنائی جبکہ ایک اور ملزم محمد زاہد کو چھ ماہ قید کی سزادی۔ عدالت نے ثبوت نہ ملنے پر سولہ افراد کو اس مقدمے میں بری کردیا ہے۔
ملزمان کے وکیل سردار احمد خان لاشاری نے بی بی سی کو بتایا کہ دوخواتین کو زندہ درگور کرنےکے واقعہ پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔
بعد میں پاکستان کی مرکزی اور بلوچستان کی صوبائی حکومت نے واقعہ کا نوٹس لیکر بائیس افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں سے چار کو منگل کو انسداد دہشت گردی کی مقامی عدالت نے سزا سنائی ہے۔
بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں خواتین کے قتل کے واقعہ کے خلاف سوسائٹی سے وابستہ افراد نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیے تھےجبکہ نصیر آباد میں جن دو خواتین کی لاشیں ملی تھیں انہیں ورثا کی غیر موجودگی میں پولیس اور میونسپل کمیٹی کے حکام نے امانتاً دفن کر دیا تھا۔
اس واقعے پر خواتین نے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن مردوں نےان خواتین کو زندہ دفن کیا ہے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ان علاقوں میں پسماندگی کہیں زیادہ ہے، بےروزگاری ہے اور تعلیم نہیں ہے جس وجہ سے جاگیرداروں اور سرداروں کی اجارہ داری ہے۔
© 2012
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔