آخری وقت اشاعت:  اتوار 7 مارچ 2010 ,‭ 17:05 GMT 22:05 PST

عبدالمالک ریگی کی رہائی کے لیے مظاہرہ

شہر کراچی میں شدت پسند تنظیم جنداللہ کے رہنما عبدالمالک ریگی کی رہائی کے لیے بلوچ قومپرست کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

عبدالمالک ریکی

ریگی کو ایرانی حکومت نے فروری کے آخری ہفتے میں گرفتار کیا ہے۔

ریگی کو ایرانی حکومت نے فروری کے آخری ہفتے میں گرفتار کیا ہے۔ ان کے خلاف ایران میں شدت پسند کاروایاں کرنے کا الزام ہے۔بلوچ رائٹس جماعت کا کہنا ہے کہ عبدالمالک ریگی ایران میں بلوچ عوامی مزاحمتی تنظیم کے سربراہ ہیں اور بلوچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

عبدالمالک ریگی کی رہائی کے لیے بلوچ رائٹس کونسل کے کارکنان نے کراچی پریس کلب کے سامنےاحتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں عبدالمالک ریگی کی تصویر اور مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے۔بلوچ قومپرست کارکنان نے ایران کے خلاف اور ریگی کے حق میں نعرے لگائے۔

مظاہرین نے خضدار یونیورسٹی میں طلبہ پر حالیہ بم حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔

شدت پسند سنی تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی تیئیس فروری کو ایران میں گرفتار ہوئے تھے۔ایرانی حکومت کے مطابق انہیں کرغستان سے دبئی جانے والے طیارے میں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ریگی کے خلاف ایرانی سیکورٹی فورسز پر حملوں کے الزام ہیں۔جبکہ کراچی میں بلوچ رائیٹس کونسل کے رہنما اسحاق آزاد بلوچ کا کہنا ہے کہ ریگی مذہبی شدت پسند نہیں بلوچ علحدگی پسند ہیں۔

اسحاق بلوچ آزاد کے مطابق وہ اپنی آزادی اور آزاد گریٹر بلوچستان کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران ہو، پاکستان ہو یا افغانستان وہ ان میں اپنا پوار ملک چاہتے ہیں اور ریگی کو وہ بلوچوں کا سربراہ سمجھتے ہیں۔

بلوچ رائٹس کونسل کے مظاہرے میں ایرانی پرچم نذر آتش کیا گیا۔جبکہ بلوچ کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اور پاکستان میں بلوچوں کی نسل کشی بند کی جائے اور تمام لاپتہ بلوچوں کو بازیاب کیا جائے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012

بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔