
جب تک بلوچستان میں آپریشن بند نہیں ہوگا سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رہیں گے: لشکر بلوچستان
دھماکے میں ایف سی کی ایک گاڑی تباہ ہوئی ہے۔ واقعہ کے بعد شہر میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔
جمعہ کی رات کو کوئٹہ کے علاقے اسپنی روڈ پر مبارک چوک کے قریب فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کو اس وقت بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ گاڑی میں معمول کے گشت میں مصروف تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں دو ایف سی اہلکار جاں بحق جبکہ دو اہلکار زخمی ہوگئے۔
کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان مرتضیٰ بیگ نے دو اہلکاروں کے جاں بحق اور دو کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ پہلے سے نصب شدہ دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ہوا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی۔
دوسری طرف نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کر کے لشکر بلوچستان کے ترجمان لونگ خان نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک بلوچستان میں بلوچوں کے خلاف آپریشن بند نہیں ہوگا اس وقت تک سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رہیں گے۔
دوسری جانب بلوچستان کے شہر سبی میں ایک کار میں بم دھماکے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ جمعرات کی شام اس وقت ہوا جب سبی میں بلوچستان کا تاریخی سبی میلے کی اختتامی تقریب ہو رہی تھی۔
© 2012
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔