مظاہرین کے مطابق پاکستانی حکومت نے بلوچستان کو کئی مراعات دے رکھی ہیں اور بلوچ طلباء کو مختلف ممالک میں سکالرشپس بھی دی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کانفرنس منعقد کرنے کے لیے بھارت نے فنڈز فراہم کیے ہیں تاکہ دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا جاسکے۔

کانفرنس شروع ہونے سے پہلے بینکاک میں مقیم پاکستانیوں کے ایک گروپ نےاحتجاجی مظاہرہ کیا
خان آف قلات میر سلیمان داؤد نے دنیا بھر میں مقیم بلوچوں کو اپیل کی ہے کہ وہ اپنی انا اور ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر بلوچ کی آزادی کے لیے متحد ہوجائیں۔
یہ اپیل انہوں نے پیر کو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد تین روزہ کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر اپنے بھیجے گئے پیغام میں کی ہے۔
خان آف قلات نے کہا ہے کہ ’ہم تاریخ کے ایک ایسے دو راہے پر کھڑے ہیں یا ہم آزاد ملک بنیں یا پھر ایسی قوموں میں شمار ہوں جو تباہ ہوگئیں ہیں یا بھلائی جا چکی ہیں۔میرا آپ کے لیے پیغام ہے اتحاد کا ۔آئیے بلوچ کی آزادی کی مشترکہ پالسیی کے نکتے پر متحد ہوں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اُس سرمایہ کاری کا فائدہ عام بلوچ کو ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’کوئی فوج کسی فوج یا تنظیم کو تو شکست دے سکتی ہے لیکن کوئی فوج کسی قوم کو شکست نہیں دے سکتی’۔
آج ہم اس مقام پر پہنچے ہیں کہ ہمیں جینے کا حق حاصل نہیں ہے مگر مرنے کا حق ہمارے ہاتھ میں ہے۔۔اس کے وقت اور طریقہ کار کا فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے
منیر مینگل
بلوچ وائس فاؤنڈیشن کے زیرِاہتمام منعقد کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں ’غیر نمائند اقوام اور عوام کی تنظیم’ (یو این پی او) کے سیکرٹری جنرل مرینو بسداچن نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بلوچوں کے مسائل سے مغربی دنیا میں آگہی کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، شفافیت اور حقیقی جمہوریت کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسائل ہیں اور کافی معاملات پیچیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہور ہی ہیں اور لوگ غایب کیے جاتے ہیں۔
مرینو بسداچن نے کانفرنس کے منتظمین سے کہا کہ وہ اگر بلوچستان کی آزادی کی بات کریں گے تو انہیں عالمی فورمز پر پذیرائی نہیں ملے گی۔ انہوں نے تجویز کیا کہ وہ بلوچستان کی خود مختاری اور وسیع تر حقوق کی بات کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقتصادی یا سیاسی طور پر تو تباہ ہوسکتا ہے لیکن یہ مت بھولیں کہ پاکستان کوئی صومالیہ جیسا ملک نہیں ہے بلکہ ایک جوہری طاقت ہے۔
کانفرنس کے منتظم اعلیٰ منیر مینگل نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد بلوچوں کے حقوق اور آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد، بلوچستان میں پاکستانی فوج کے مبینہ قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستانی ریاست اور حکومت پر تنقید کی اور کہا انہیں بلوچستان کے لوگوں سے کوئی غرض نہیں بلکہ انہیں بلوچستان کے وسائل اور زمین چاہیے۔
منیر مینگل نے ایک بلوچ رہنما اللہ نذر بلوچ کو دوہرایا کہ ’آج ہم اس مقام پر پہنچے ہیں کہ ہمیں جینے کا حق حاصل نہیں ہے مگر مرنے کا حق ہمارے ہاتھ میں ہے۔۔اس کے وقت اور طریقہ کار کا فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے’۔
مظاہرین کے مطابق پاکستانی حکومت نے بلوچستان کو کئی مراعات دے رکھی ہیں اور بلوچ طلباء کو مختلف ممالک میں سکالرشپس بھی دی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کانفرنس منعقد کرنے کے لیے بھارت نے فنڈز فراہم کیے ہیں تاکہ دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا جاسکے۔
کانفرنس سے طارق بلوچ، اسماعیل امیری، علی ارجمندی، محراب سرجو اور دیگرنے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ان کی نظر میں بلوچوں کا سب سے بڑا دشمن پاکستان اور ایران نہیں بلکہ برطانیہ ہے۔ جس نے ان کے مطابق بلوچستان کو پاکستان اور ایران کے درمیاں تقسیم کیا اور بلوچستان کی آزاد حیثیت ختم کی۔
انہوں نے پاکستان، ایران اور بلوچستان کے سرداروں پر تنقید کی اور بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کے لیے بلوچوں کے متحد ہونے پر زور دیا۔ مقررین نے ایران کے درمیاں تقسیم شدہ بلوچستان کو متحد کرکے آزاد مملکت بنانے کی بات کی اور کہا کہ اس کے لیے دونوں جانب کے بلوچوں کو مل کر جدوجہد کرنی چاہیے۔
قبل ازیں کانفرنس شروع ہونے سے پہلے بینکاک میں مقیم پاکستانیوں کے ایک گروپ نے متعلقہ ہوٹل جہاں کانفرنس بلائی گئی، اس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کے شرکاء نے کتبے اٹھا رکھے تھے جس پر کانفرنس کے شرکاء کے خلاف نعرے درج تھے۔
مظاہرین کے ایک رہنماخلعت باری نے الزام لگایا کہ یہ کانفرنس جلا وطن بلوچوں کے گروپ نے منعقد کی ہے اور وہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستانی حکومت نے بلوچستان کو کئی مراعات دے رکھی ہیں اور بلوچ طلباء کو مختلف ممالک میں سکالرشپس بھی دی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کانفرنس منعقد کرنے کے لیے بھارت نے فنڈز فراہم کیے ہیں تاکہ دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا جاسکے۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔