آخری وقت اشاعت:  جمعرات, 4 فروری, 2010, 17:04 GMT 22:04 PST

عافیہ صدیقی کے حق میں مظاہرے

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

امریکہ کی وفاقی عدالت کی جیوری کی جانب سے پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو افغانستان میں امریکی اہلکاروں پر مبینہ حملے کی کوشش کے الزام میں مجرم قرار دینے کے خلاف لاہور اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے کیئے گئے ہیں۔

کراچی میں جماعت اسلامی پاسبان، شباب ملی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی جانب سے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں امریکہ سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبا کیا گیا۔

اس مظاہرے سے ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ عافیہ نے تمام جماعتوں کو متحد کردیا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے نے امریکی انصاف کی نظام کا شیرازہ بکھیر دیا ہے جو اب کبھی اٹھ نہیں پائے گا اس کا زوال ہوکر رہے گا۔

اس مظاہرے سے سینٹ کی وزرات داخلہ کی قائمہ کمٹی کے چیئرمین طلحہ محمود نے بھی خطاب کیا اور فیصلے کو تعصب پر مبنی قرار دیا۔’’ ڈاکٹر عافیہ کو انہوں نے گولیاں ماریں تھیں جب میں نے اس سے ملاقات کی تھی تو وہ زخمی تھیں اور ان کے گڑدے خراب تھے، ان کے مطابق گولیاں انہوں نے ماریں اور حملے کا الزام عافیہ پر عائد کیا گیا ہے۔“

سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ سہولیات فراہم کیں مگر جواب میں کیا ملا ڈرونز حملے، امریکی ہوائی اڈوں پر توہین اور اب عافیہ صدیقی کو سزا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایک اعلیٰ سطح کا وفد تشکیل دیا جائے جو اس زیادتی پر امریکہ سے احتجاج کرے۔

ایم اے جناح روڈ پر جماعت اسلامی کے شعبے خواتین کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے، جس سے جماعت کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کے بعد امریکی عدلیہ نے بھی اپنے ظالمانہ فیصلے سے ثابت کردیا ہے کہ امریکا اس دور کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ہاتھوں دنیا کی چھوٹی ریاستیں محفوظ نہیں ہیں اس سے پہلے بھی طاقت ور قوموں نے چھوٹی قوموں پرظلم وستم کے پہاڑ توڑے مگر وہ اپنے انجام کو پہنچ گئیں اور امریکا بھی اسی انجام کی جانب گامزن ہے۔

لاہور میں بھی جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں تنظیم کے شعبے خواتین کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔

یاد رہے کہ گزشتہ شب نیویارک میں مقدمہ سننے والی جیوری نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں سینتیس سالہ عافیہ کو مجرم قرار دیا تھا۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔