گلگت بلتستان میں ہنزہ کے گاؤں عطا آباد میں چار ہفتے پہلے مٹی اور پہاڑی تودے گرنے کے نتیجے میں دریائے ہنزہ کا بہاؤ بند ہونے کے باعث بننے والی جھیل کی لمبائی کوئی نو کلومیڑ ہے جبکہ گہرائی کوئی ڈیڑھ سو فٹ ہے۔ اس جھیل میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی متاثر ہورہی ہے۔
دریائے ہنزہ کا بحاؤ بحال کرنے کے لئے پاکستان کی فوج کی فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن یا ایف ڈبلیوں او نے گذشتہ سینچر کے روز سے کام شروع کردیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس کام کی تکمیل میں تین سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔
جھیل کی سطح بلند ہونے کے باعث ہنزہ کا گاؤں آہستہ آہستہ پانی میں ڈوب رہا ہے اور پہلے ہی تقریباً ایک درجن گھر پانی میں ڈوب چکے ہیں مگر ان گھروں کو ڈوبنے سے پہلے خالی کرالیا گیا تھا اور آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
آئین آباد کے اس خاندان کا گھر پانی میں ڈوب چکا ہے اور محفوظ مقام پر منتقل ہونے پہلے وہ مویشیوں کے لئے گھاس اکٹھی کررہے ہیں۔
آئین آباد کے رہائشی غلام رسول اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ گھر ڈوب جانے پر پریشان ہیں۔
جھیل کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے جس کی وجہ سے ششکٹ گاؤں بھی خطرے کی زد میں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو دیہات آئین آباد اور ششکٹ کے تقریباً سوا سو گھر خطرے کی زد میں ہیں
تودوں گرنے کے باعث عطا آباد کے تیرہ افراد ہلاک اور نصف درجن افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ چھ افراد ابھی تک لاپتہ ہیں اور دریائے ہنزہ کا بہاؤ بند ہوگیا جس کے نتیجے میں جھیل بن گئی۔
رضا کار اور مقامی لوگ تباہ شدہ عطا آباد میں لاپتہ افراد کی تلاش کررہے ہیں حکام کا کہنا ہے وہاں ملبہ بہت ہے جس کے نتیجے میں لاشیں ملنا ممکن نہیں۔ 
عطا آباد گاؤں کے تقریباً ڈیڑھ سو خاندانوں کو مختلف سرکاری اور نجی سکولوں میں منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ ابھی تک مقیم ہیں۔
ہیلی کاپڑ کے ذریعے خوراک، ادویات اور دیگر اشیاء پہنچائی جارہی ہیں۔ جھیل بننے اور سڑک بند ہونے کے باعث گوجال وادی کی پچیس ہزار افراد پر مشتمل آبادی دوسرے علاقوں سے کٹ کر رہ گئی ہے۔
گوجال وادی میں حکام کا کہنا ہے کہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے بھی ہیلی کاپڑ کا استعمال کیا جارہا ہے۔






















